تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 9 از 14

ترجمہ: صحیح روایت میں ہے سیدنا عمر بن خطابؓ نے سیدہ امِ کلثومؓ دخترِ سیدہ فاطمہؓ کے لئے ان کے باپ امیر المومنین سیدنا علیؓ سے خواستگاری کی۔ 

(4)۔ منتہی الآمال علامہ عباس قمی شیعه طبع جدید جلد 1 صفحہ 186:

و زینب صغریٰ است که مکناه است بامِ کلثومؓ و مادر ایشان حضرت فاطمہ الزہراؓ سيدة النساء است و اما امِ کلثومؓ حکایت تزویج او باعمرؓ درکتب مسطور است و بعد از او صبیح عون بن جعفرؓ و از پس زوجه محمد بن جعفرؓ گشت۔ 

ترجمہ: امِ کلثومؓ دخترِ سیدہ فاطمہؓ کے سیدنا عمرؓ کے ساتھ نکاح کے حالات کتابوں میں درج ہیں اس کے بعد سیدنا عون بن جعفرؓ اور ان کے بعد سیدنا محمد بن جعفرؓ سے انکا نکاح ہوا۔

(5)۔ مناقبِ آلِ ابی طالب شیخ ابو جعفر رشید الدین محمد بن علی بن شہر بن آشوب م588 طبع جدید مطبع قم جلد 3 صفحہ 304 پر اولاد سیدنا علیؓ کے اعداد و شمار دیئے گئے ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ کے بطن سے کتنے بچے پیدا ہوئے۔ 

(6)۔ طراز المذہب جلد 1 صفحہ 58:

امِ کلثومؓ دختر علیؓ ابنِ ابی طالب علیہ السلام را مادرش فاطمه الزهراؓ دختر رسول خداﷺ است تزویج نمود و چهل هزار درهم درصداقش مقرر داشت و ازدے رقیه و زید بدید گشت۔

سیدنا علیؓ کی بیٹی سیدہ امِ کلثومؓ کی والدہ سیدہ فاطمہؓ دخترِ رسول خداﷺ تھیں ان کے نکاح کا مہر 40 ہزار درہم مقرر ہوا اور ان کے بطن سے رقیہ اور زید پیدا ہوئے ان اقتباسات سے ثابت ہوتا ہے کہ: 

  1. سیدہ امِ کلثومؓ سیدنا علیؓ کی بیٹی تھی۔
  2.  سیدہ امِ کلثومؓ کی والدہ سیدہ فاطمہؓ تھیں۔ 
  3.  سیدہ امِ کلثومؓ کا نکاح سیدنا عمرؓ سے ہوا سیدہ امِ کلثومؓ کے بطن سے سیدنا عمرؓ کا بیٹا زید پیدا ہوا۔

مذہبی تعصب کی بناء پر حقائق پر جس قدر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جائے یہ حقیقت چھپ نہیں سکتی کہ علمائے النساب ان رشتوں کو مذہبی تعصب کی عینک سے نہیں دیکھتے بلکہ تاریخی حقائق کے طور پر اقوام و افراد کے باہمی تعلق کی بناء پر لکھتے ہیں تمام علمائے النساب نے یہ لکھا ہے کہ سیدہ امِ کلثومؓ سیدنا علیؓ کی بیٹی تھی سیدہ فاطمہؓ کے بطن سے تھی اور سیدنا عمرؓ سے اس کا نکاح ہوا۔ 

بھانت بھانت کی بولیاں:

(1)۔ سیدہ امِ کلثومؓ دختر علیؓ تھی دخترِ سیدہ فاطمہؓ نہ تھی۔ 

گزشتہ اوراق میں شہادتیں پیش کی جا چکی ہیں کہ جس سیدہ امِ کلثومؓ کا نکاح سیدنا عمرؓ سے ہوا وہ دخترِ سیدہ فاطمہؓ تھی دخترِ سیدہ فاطمہؓ ہونے کا انکار اور دخترِ سیدنا علیؓ ہونے کے اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضیلت کا تعلق سیدہ فاطمہؓ کی ذات سے ہے سیدنا علیؓ  سے نہیں کیا شیعہ کے نزدیک سیدنا علیؓ کی بیٹی ہونا ایک عام آدمی کی بیٹی ہونے کے برابر ہے؟ کہ درخور اعتناء ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے سیدہ فاطمہؓ کی زندگی میں کوئی دوسری شادی نہیں کی ان کی وفات کے بعد سیدہ اُمامہؓ بنتِ ابی العاصؓ اور بنتِ زینبؓ سے کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی۔ 

منتهی الآمال شیخ عباس قمی جلد 1 صفحہ 188:

بعد وفات فاطمهؓ بنا بر وصیت آنحضرت امامهؓ دخترِ خواهراں مخدره را تزویج کر دو ترویج امامهؓ ازپس سه3 شب واقع شد۔

پھر اسی صفحہ پر ہے کہ سیدہ امامہؓ سے سیدنا علیؓ کا لڑکا پیدا ہوا جس کا نام محمد اوسط تھا۔

محمد اوسط که مادر او امامهؓ دختر زینبؓ دختر رسول خداﷺ بود۔

ترجمہ: یعنی سیدہ امامہؓ سے لڑکا پیدا ہوا لڑکی کوئی نہیں ہاں اس جگہ شیخ عباس نے سیدہ زینبؓ کا دخترِ رسولﷺ ہونا تسلیم کر لیا۔

ہاں سیدنا علیؓ کی دوسری لڑکی سیدہ ام کلثومؓ صغریٰ بھی تھی جیسا کہ:

مناقبِ شہر بن آشوب 304: 

وولد من ام سعيد بنتِ عروه بن مسعود الثقفى نفسيه وزوج ام کلثوم۔

سیدنا علیؓ کی بیٹی نفسیہ کی ماں ام سعید تھی اور اس نفسیہ کی کنیت امِ کلثوم۔

 صغریٰ من کثر بن عباس بن صغریٰ تھی۔

عبد المطلب۔

منتہی الامال جلد 1 صفحہ 187 شیخ عباس قمی شیعی:

و نقل شد که نفیسه مناة بامِ کلثوم صغریٰ بوده و کثیر بن عباس بن عبد المطلب اور اتزویج نمود۔

انوار النعمانیہ سید نعمت اللہ محدث الجزائری طبع قدیم جلد 1 صفحہ 125 و نفسیه و هی امِ كلثوم الصغرىٰ واما نفسيه فكانت عبدالله اكبر بن عقيل۔

ثابت ہوا کہ سیدنا علیؓ کی دوسری بیوی ام سعید سے نفسیہ پیدا ہوئی اور اسی نفسیہ کی کنیت امِ کلثوم صغریٰ ہے اس کا نکاح کثیر بن عباس سے ہوا یا بقول سید نعمت اللہ عبداللہ اکبر بن عقیل سے ہوا بہرحال سیدنا عمرؓ سے نہیں ہوا جس سیدہ امِ کلثومؓ کا نکاح سیدنا عمرؓ سے ہوا وہ سیدہ فاطمہؓ کے بطن سے تھی لہٰذا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا کہ جس سیدہ امِ کلثومؓ کا نکاح سیدنا عمرؓ سے ہوا وہ دخترِ سیدہ فاطمہؓ نہیں تھی۔

(2)۔ سیدہ امِ کلثومؓ جو سیدنا عمرؓ کے نکاح میں آئی وہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی بیٹی تھی۔ 

کہا جاتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد ان کی بیوی سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کا نکاح سیدنا علیؓ سے ہوا سیدہ امِ کلثومؓ اپنی ماں سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کے ہمراہ سیدنا علیؓ کے ہاں آئی اور یہیں پرورش پائی اس بے بنیاد دعویٰ کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ پہلے سیدنا جعفرؓ بن ابی طالب کے نکاح میں آئی اور اس سے سیدنا جعفرؓ کے تین بیٹے پیدا ہوئے سیدنا عبداللہؓ سیدنا محمدؓ اور سیدنا عونؓ پھر جب سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے نکاح میں آئی تو سیدنا محمد بن ابی بکرؓ پیدا ہوا اس حد کو لیکر سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ سیدنا علیؓ کے گھر آئی پھر اس کے بطن سے سیدنا علیؓ کا بیٹا یحییٰ پیدا ہوا سیدہ اسماءؓ کی کوئی لڑکی پیدا ہی نہیں ہوئی۔ 

جیسا کہ منتہی آلامال جلد 1 صفحہ 87 یکی مادر او اسماء بنتِ عمیس است۔

انوار نعمانیه جلد 2 صفحہ 125:

يحيىٰ امه اسماء بنتِ عمیسؓ و توفى صغيرا قبل ابيه و اخوته لامه عبداللهؓ و محمدؓ وعونؓ ابناء جعفرؓ بن ابی طالب وقبل محمد بن ابی بکرؓ۔

محدث الجزائری نے تصریح کر دی کہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ سے تین بیٹے سیدنا جعفرؓ کے ہوئے ایک بیٹا سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا ہوا اور ایک بیٹا سیدنا علیؓ کا ہوا اور تینوں خاوندوں سے کوئی لڑکی سرے سے پیدا ہی نہیں ہوئی لہٰذا اس دعویٰ کی کوئی بنیاد نہیں کہ سیدہ ام کلثومؓ سیدنا ابوبکرؓ کی بیٹی تھی۔ 

صفحہ 9 از 14