Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسرا مبحث دعوت الی اللہ کے لیے ان کے اسالیب

  علی محمد الصلابی

1۔ اسلوب حکمت

دعوت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حکمت کو اولیت دیتی تھیں۔ وہ اللہ عزوجل کے اس فرمان پر عمل کرنا چاہتیں:

اُدۡعُ اِلٰى سَبِيۡلِ رَبِّكَ بِالۡحِكۡمَةِ‏ ۞ (سورۃ النحل آیت 125)

ترجمہ: اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ دعوت دو۔

اس طریقے کا علم انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عملی طور پر حاصل کیا۔ چنانچہ وہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے انھیں فرمایا:

لَوْلَا اَنَّ قَوْمَکَ حَدِیْثُ عَہْدٍ بِجَاہِلِیَّۃٍ لَاَمَرْتُ بِالْبَیْتِ فَہُدِمَ، فَاَدْخَلْتُ فِیْہِ مَا اُخْرِجَ مِنْہُ، وَ اَلْزَقْتُہٗ بِالْاَرْضِ، وَ جَعَلْتُ لَہٗ بَابَیْنِ، بَابًا شَرْقِیًّا وَ بَابًا غَرْبِیًّا

ترجمہ:’’اے عائشہ! اگر تمہاری قوم جاہلیت سے نئی نئی مسلمان ہوئی ہوتی تو میں ضرور حکم دیتا کہ بیت اللہ گرا دیا جائے تو جو حصہ اس سے نکال دیا گیا میں اس میں شامل کر دیتا اور اس کے دروازے کو زمین کے ساتھ لگا دیتا اور اس کے دو دروازے بناتا ایک مشرقی دروازہ اور ایک مغربی دروازہ۔‘‘

اور ایک روایت میں ہے:

فَاَخَافُ اَنْ تُنْکِرَ قُلُوْبُہُمْ 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1586۔ صحیح مسلم: حدیث: 1333۔)

’’مجھے ڈر ہے کہ ان کے دل نہیں مانیں گے۔‘‘

چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو نامکمل چھوڑ دیا تاکہ کچھ لوگ اس سے بڑے نقصان میں نہ پڑ جائیں اور وہ آپﷺ کی تکذیب اور کفر کر بیٹھیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی میدان دعوت میں حکمت کی ایک صورت ان کا امور کی مکمل چھان بین اور تصدیق ہے۔

’’ایک بار ایک یہودی عورت ان سے کھانا مانگنے آئی۔ اس نے کہا: تم مجھے کھانا دے دو اللہ تعالیٰ تمھیں دجال اور عذاب قبر کے فتنے سے پناہ دے دے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد تک اس عورت کو باتوں میں لگائے رکھا۔ جب آپﷺ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اپنے ہاتھ بلند کر کے پھیلا دئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دجال اور عذاب قبر کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ رہے تھے۔‘‘

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 139، حدیث: 25133۔ شرح مشکل الآثار للطحاوی: جلد 13 صفحہ 197۔ ابن جریر نے مسند عمرو: جلد 2 صفحہ 592 پر اس کی سند کو صحیح کہا اور منذری نے الترغیب و الترہیب: جلد 4 صفحہ 278 میں اور وادعی نے الصحیح المسند کی حدیث نممر: 1558 کی تعلیق میں اسے صحیح کہا ہے۔

امت اسلامیہ اکثر مواقع پر دعوت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حکمت بھرے اسلوب اور ان کی معاملہ فہمی سے مستفید ہوئی۔

(السیدۃ عائشۃ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما لخالد العلمی: صفحہ 137)