آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 27

آیت استخلاف فی الارض

 وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئاؕ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ۝ (سورة النور آیت نمبر 55)۔

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو زمین میں حکومت عطا فرمائے گا جیسا کہ ان سے پہلے (اہلِ ہدایت) لوگوں کو حکومت دی تھی اور جس دین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند کیا ہے (اسلام) کو ان کے (نفع آخرت کے) لئے قوت دے گا اور ان کے اس خوف کے بعد اس کو لا مبدل به امن کر دے گا بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں اور جو شخص بعد (ظہور) اس (وعدے) کے ناشکری کرے گا تو یہ لوگ بے حکم ہیں۔ 

قرآنِ کریم نے اس آیت میں بنیادی طور پر دو امور کا ذکر کیا ہے اول ایک خاص جماعت سے خطاب ہے دوم اس جماعت کو تین انعام دینے کا وعدہ فرمایا ہے ان دونوں امور کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔

اول جن لوگوں سے وعدہ کیا جارہا ہے ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ وہ نزولِ آیت سے پہلے ایمان لا چکے تھے اس سے چند ضروری نتائج اخذ ہوتے ہیں۔

  1.  وہ لوگ اس وعدہ انعام سے خارج ہیں جو نزولِ آیت کے وقت تک ایمان نہیں لائے تھے مثلاً سیدنا امیرِ معاویہؓ چونکہ وہ اس وقت تک ایمان نہ لائے تھے لہٰذا ان کی خلافت وہ خلافت نہیں جس کا اس آیت میں وعدہ کیا جارہا ہے۔ 
  2.  وہ لوگ بھی اس آیت کے مصداق سے خارج ہیں جو نزولِ آیت کے وقت تک پیدا نہیں ہوئے تھے یا خورد سالی کی وجہ سے قابلِ خطاب نہیں تھے لہٰذا سیدنا حسینؓ اور دوسرے اس سے خارج ہیں اور دوسرے ائمہ شیعہ تو اس کا مصداق نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ تو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے تو ان کو خطاب چہ معنیٰ۔

دوسری بات یہ ہے کہ موعود لہ کو وعدہ ہمیشہ اس چیز کا دیا جاتا ہے جو زمانہ حال میں اس کے پاس موجود نہیں ہوتی۔

چنانچہ شیعہ مفسر فتح اللہ کاشانی اپنی تفسیر منہج الصادقین صفحہ 337 طبع طہران میں لکھتے ہیں:

 وعده به چندے باشد که در زمانهء حال نباشد بلکه در زمان مستقل تا باشد۔ 

جس کا مطلب یہ ہوا کہ جن چیزوں کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ مخالفین کے پاس نزولی آیت کے وقت موجود نہیں تھیں۔

امِ دوم وعدہ کی تفصیل ہے تو اس میں تین انعامات دینے کا وعدہ ہے اول خلافت فی الارض دوم تمکین دین یعنی اس دین کا پھیلنا اور مستحکم ہونا جو اللہ کا پسندیدہ دین ہے سوم خوف کے بعد امن کی فضا پیدا ہونا۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ 

کہا جاتا ہے کہ منکم میں ضمیر مخاطب ہے مگر اس میں غائبین بھی داخل ہیں جیسا کہ قرآن کی دوسری تمام آیات کا منشا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ ضمیر حاضرین سے خاص ہے اگر کسی مقام پر غائبین کو حاضرین میں داخل کیا جاتا ہے تو وہ خارجی دلائل کی بناء پر ہوتا ہے مثلاً اس پر اجماعِ امت ہے کہ دینِ محمدیﷺ قیامت تک جائے گا لہٰذا اس بنا پر عبادات مثلاً نماز روزہ وغیرہ کے احکام حلال و حرام کے احکام نکاح و طلاق کے احکام اور میراث وغیرہ کے احکام میں غائیبین کو حاضرین میں داخل کیا جاتا ہے ایسا کرنا ضروریات دین سے ہے کیونکہ احکامی آیات اس امر کی متقاضی ہوتی ہیں مگر یہ آیت تو انعامی ہے احکامی نہیں لہٰذا غائبین کو حاضرین میں شامل کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ 

شیعہ و سنی دونوں متفق ہیں کہ ضمیر حاضرین کی حاضرین کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے چنانچہ شیعہ کتاب معالم الدین فی الاصول کے صفحہ 112۔193۔195 پر یہ بحث موجود ہے۔

 کتاب کا اصل نام معالم الدین فی الاصول وملاذ المجتہدین ہے یہ شیعہ عالم علامہ جلال الدین ابی منصور الشیخ حسن بن زین الدین شہید ثانی۔ (1011 ھجری) کی ہے۔ 

اصل بات یہ ہے کہ غائبین کبھی خطاب میں شامل ہی نہیں ہوتے بلکہ خطاب سے جو حکم ثابت ہوتا ہے اس حکم میں نائبین کو دلیل خارجی سے داخل کیا جاتا ہے اور یہاں حال یہ ہے کہ نہ یہ آیت احکامی نہ کوئی دلیل خارجی موجود پھر غائبین کو مخاطبین میں داخل کسی بنا پر کیا جائے۔

 شہید ثانی اپنی اسی مذکورہ کتاب میں لکھتے ہیں: 

ما وضع الخطاب المشافهة نحويا ايها الناس ويا ايها الذين اٰمنوا لا يعم بصيغة من تأخر عن زمن الخطاب وانما يثبت حكمه لهم بدليل آخر۔ 

ترجمہ: جو الفاظ اور صیغے بالمشافہ خطاب کے لئے وضع کئے گئے ہیں مثلا: یاایها الناس اور یاایها الذین اٰمنوا: یہ طلب عام نہیں یہ ان لوگوں کو شامل نہیں جو وقت خطاب موجود نہیں تھے بعد میں آنے والوں کے لئے یہ حکم کسی اور دلیل سے ثابت ہوگا الفاظ خطاب سے نہیں ہو گا پھر لکھتے ہیں: انا نقول احكام الكتاب كلها من قبيل خطاب المشافهة وقد مر انه مخصوص بالموجودين فى زمان الخطاب وان ثبوت حكمه فی حق من تأخر انما هو بالاجماع وقضاء الضرورات باشتراك التكليف بين الكل۔ (صفحہ 193)۔ 

ہم کہتے ہیں کہ قرآنِ کریم کے تمام خطابات اور احکام حاضرین کے ساتھ مخصوص ہیں جیسا کہ گزر چکا ہے یہ احکام ان کے ساتھ مخصوص ہیں جو وقتِ نزولِ قرآن موجود و حاضر تھے جو لوگ نزولِ قرآن کے وقت حاضر نہ تھے یا جو پیدا نہیں ہوئے تھے یا مسلمان نہیں ہوئے تھے ان کے لئے یہ احکام اجماع سے ثابت ہوں گے اور ضروریاتِ دین سے ہے کہ تمام امت دینی اور احکامی تکلیف (یعنی مکلف ہونے) میں مشترک ہے۔ 

اسی طرح شیعہ عالم شیخ مرتضیٰ نے اپنی کتاب "فرائد الاصول" مطبع ایران میں صفحہ 40 پر لکھا ہے کہ حاضرین کی ضمیر حاضرین سے مخصوص ہوگی غائبین اس خطاب حاضرین میں داخل نہ ہوں گے ہاں خطابات سے جو حکم ثابت ہوگا اس میں غائبین کو کسی اور دلیل سے شامل کیا جائے گا۔ 

آیت زیرِ بحث میں کوئی دلیل خارجی موجود نہیں لہٰذا نزولِ آیت کے وقت غیر مکلفین اور بعد میں آنے والے غائبین کو کسی اصول کے تحت آیت میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ 

صفحہ 1 از 27