آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 10 از 27

ایسی واضح بات اور اتنے صاف فیصلہ کا انکار کرنے کے لئے اچھا خاصا فن کار ہونے کی ضرورت ہے چنانچہ اس فن کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرزا احمد علی امرتسری نے فرمایا تھا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ چونکہ منصوصی خلافت کے منکر تھے اور اجماعی خلافت کے قائل تھے اس لئے سیدنا علیؓ نے یہ الزامی جواب دیا اور اپنی خلافت کے ثبوت میں مہاجرین و انصار کے اجتماع کا اصول پیش کیا۔

بات تو خوب بنائی گئی مگر لوگ کہتے ہیں کہ المعنیٰ فی بطن الشاعر اس لئے اگر یہ بیان الزامی ہے تو صاحب بیان سیدنا علیؓ کا قول پیش کیا جائے آپ اس واضح بیان میں اپنی پسند کا مفہوم داخل کرنے کا کیا حق رکھتے ہیں ورنہ آپ بات بنا نہیں رہے بلکہ سیدنا علیؓ کی تکذیب کر رہے ہیں۔

اگر بات وہی ہوتی جو آپ بنا رہے ہیں تو سیدنا علیؓ پہلے اپنا عقیدہ پیش کرتے کہ خلافت منصوصی سے اور میری خلافت پر نص موجود ہے اور اے سیدنا امیرِ معاویہؓ اگر تم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے تو تمہارے عقیدے کے مطابق میں ثبوت دیتا ہوں کہ میری خلافت پر بھی مہاجرین و انصار کا اسی طرح اجماع ہوا ہے جیسے خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت پر ان کا اجماع ہوا تھا مگر سیدنا علیؓ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اپنا وہی عقیدہ بیان کیا جو سب مسلمانوں کا تھا کہ مہاجرین و انصار جس کی امامت پر متفق ہو جائیں وہ شخص اللہ کا پسندیدہ ہے اگر اس سیدھی بات کو تسلیم نہ کریں اور اسے الزامی جواب قرار دیں تو اس پر کئی سوال اٹھتے ہیں مثلاً یہ کہ:

ایسے مناسب موقع پر سیدنا علیؓ نے اپنی خلافت منوانے کے لئے نص کیوں نہ پیش کی یہ اقدام ایک طرف تو کتمانِ حق ہے دوسری طرف شیعہ کو گمراہی میں دھکیل دینا ہے اور کتمانِ حق کرنے والوں کے لئے اللہ کی وعید ہے اُولئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّعِنُونَ۝۔ (سورة البقرہ آیت نمبر 159)۔

لہٰذا ثابت ہوا کہ سیدنا علیؓ کا عقیدہ وہی تھا جو آپؓ نے ظاہر کر دیا۔

سید علی نقی شارح نہج البلاغہ نے اس خطبہ میں تھوڑی سی تحریف کی ہے لکھتے ہیں:

پس بعقیده ءشما که خلافت از جانب خدا و رسول تعیین نشده بلکه باجماع امت بر قرارمی گردد۔

مگر شارح سیدنا علیؓ کے الفاظ میں "بعقیدہ ءشما" کا اضافہ کرتے ہوئے یہ بھول گئے کہ آپ نے فرمایا: انه بایعنی القوم الذی بايعوا ابابكرؓ وعمرؓ و عثمانؓ علىؓ ما بايعوهم علیه یعنی ان لوگوں نے میرے ہاتھ پر ان شرائط پر بیعت کی جن شرائط پر سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی وہ شرائط کیا تھیں یہی کہ کتاب و سنت پر عمل کرنا اور رسولﷺ کے نقش قدم پر چلنا اگر یہاں بعقیدہ ءشما کا اضافہ کریں تو اس کا مطلب یہی ہو گا کہ اے سیدنا امیرِ معاویہؓ تمہارا عقیدہ یہ ہے کہ بیعت ہوئی کتاب و سنت پر عمل کرنے پر اور حضورﷺ کے نقش قدم پر چلنے پر مگر میرا عقیدہ یہ نہیں کیا آپ اس لفظ کے اضافہ سے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی شرط یہ تھی کہ کتاب وسنت کی مخالفت کرنی ہے اور رسولﷺ کا اتباع ہرگز نہیں کرتا ہے (معاذ اللہ) اور بعقیدہ ءشما مہاجرین و انصار کے مقرر کردہ خلیفہ کی مخالفت کرنے والا واجب القتل ہے اور خارج از اسلام ہے اور جہنمی ہے مگر میرا عقیدہ یہ نہیں اس لئے اے سیدنا امیرِ معاویہؓ نہ تم واجب القتل نہ خارج از اسلام نہ جہنمی کیا سیدنا امیرِ معاویہؓ سے اپنی خلافت کا حق منوانے کا یہی طریقہ ہے۔

چند تفسیری نکات اور فضیلتِ خلفائے ثلاثہؓ:

اب ہم آیت کے الفاظ کی تشریح اور اس کی تفسیر اور شیعہ کے خیالات پیش کرتے ہیں وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ الخ۔ (سورة النور آیت نمبر 55)۔

وعدہ ان لوگوں سے کیا گیا جو مومن اور صالح ہوں نیز نزولِ آیت کے وقت جو حاضر تھے اس سے واضح ہو گیا کہ یہ وعدہ رسول اللہﷺ سے نہیں بلکہ آپ کے متبعین سے ہے کیونکہ نبی تو بعثت کے وقت سے ہی خلیفہ ہوتا ہے لہٰذا نبی کو خلافت کا وعدہ دینا ایسا ہے جیسے خلیفہ کو کہا جا رہا ہے کہ ہم تمہیں خلافت وہیں گے یہ تو تحصیل حاصل ہے۔

"منکم" میں "من" بعضیہ ہے بیانیہ نہیں کیونکہ ضمائر پر جو "من" داخل ہوتا ہے وہ حضیہ ہوتا ہے لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْأَرْضِ خلافت فی الارض دو قسم ہے لغوی اور شرعی

لغوی کا مطلب یہ ہے کہ ایک کو ہٹا کر دوسرے کو اس کی جگہ مکان دینا وطن بنانا وغیرہ شیعہ علماء نے یہ معنیٰ کئے ہیں کہ مکہ اور دوسری جگہوں سے ہجرت کر کے مدینہ وطن بنانا ہے مگر آیت میں لغوی معنیٰ مراد نہیں کیونکہ ایک جگہ سے منتقل ہو کر دوسری جگہ متوطن ہونا مومن صالح فاسق کافر سب کو حاصل ہے اور قرآن نے "وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ" کی قید لگائی ہے اور ایمان کی قید لگائی ہے لغوی معنیٰ مراد لینے سے یہ دونوں قید میں لغو اور بے معنیٰ ہو جاتی ہیں تیسری قید "الارض" کی ہے قرآن نے جہاں کہیں خلافت یا حکومت کے ساتھ الارض کی قید لگائی ہے وہاں یقینا تسلط اور حکومت مراد ہوتی ہے جیسے :

  1.  إِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِيفَة الخ۔ (سورة البقرہ آیت نمبر 30)۔
  2. يَا دَاوُوُدُ فَاجْعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِی الْأَرْضِ الخ۔ (سورة ص آیت نمبر26)۔
  3.  وَكَذَالِكَ مَكَّنَا لِيُوْسُفَ فِی الْأَرْضِ الخ۔ (سورة یوسف آیت نمبر 56)۔
  4.  الَّذِينَ إِن مَّكَّنَاهُمْ فِی الْأَرْضِ الخ۔ (سورة الحج آیت نمبر 41)۔

اس قید سے وہ خلافت اس وعدہ سے خارج ہے جو شیعہ کے ہاں دینی وہمی روحانی خفی غیر ظاہری اور غیر جلی وغیرہ کے لفظوں سے تعبیر کی جاتی ہے گو خلافت سے خلافتِ لغوی بھی مراد ہوتی ہے مگر اس آیت میں لغوی مراد نہیں ہو سکتی اس خلافت کو رب العالمین نے سابقہ خلافتوں کے ساتھ تشبیہہ دی ہے كما استخلف الذين من قبلهم سابقہ خلافتوں کے متعلق قرآن مجید نے یہ فرمایا کہ: 

  •  وَأَتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا۝۔ (سورة النساء آیت نمبر 54)۔

 ہم نے ان کو بہت بڑے ملک کی حکومت دی۔

  •   إِذْجَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً الخ۔ (سورة المائدہ آیت نمبر 20)۔
صفحہ 10 از 27