آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 11 از 27

اکثر مفسرین نے اس آیت سے خلافتِ حضرت موسیٰ علیہ السلام مراد لی ہے کہ ان کے بعد ان کے تین خلفاء حضرت یوشع بن حضرت طالب اور حضرت یوساقوس مراد ہیں ان تینوں خلفاء کے حالات خلفائے ثلاثہؓ سیدنا صدیقؓ و سیدنا فاروقؓ و سیدنا عثمانؓ سے ملتے جلتے ہیں بعض مفسرین نے حضرت داؤد علیہ السلام کی خلافت مراد لی ان کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام حاکم ہوئے۔

ازالۃ الخفاء میں حضرت شاہ ولی اللہؒ نے لکھا ہے کہ دونوں مراد ہو سکتی ہیں اس تشبیہہ سے واضح ہوگیا کہ خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت ہمرنگِ نبوت اور علی منہاج النبوت تھی صرف ظاہری دنیوی حکومت نہیں تھی۔

آیت میں اللہ تعالیٰ نے موعودین کے ساتھ خلافت کے ساتھ تمکین دین و استحکام دین کا وعدہ بھی فرمایا ہے ان نعمتوں کو پورا کرنے کا خلفائے ثلاثہؓ کو آلہ بنایا ہے

اس حقیقت کا اظہار سیدنا علیؓ نے ان الفاظ میں فرمایا: 

درة النجفیہ شرح نہج البلاغہ طبع قدیم صفحه 392 اور شرح میثم بحرانی جلد 5 صفحہ 423 سیدنا فاروقؓ کی تعریف میں فرمایا:

ووليهم وال فا قالم و استقام حتىٰ ضرب الدين بحيرانه۔

اور حاکم ہوا مسلمانوں کا ایک حاکم اور اس نے قائم کیا دین کو حتیٰ کہ دین نے اپنا سینہ زمین پر رکھ دیا والی سے مراد سیدنا عمرؓ بن الخطاب ہے۔

ان الوالہ هو عمر بن الخطابؓ ( ميثم)۔ 

والی سے مراد سیدنا عمر بن الخطابؓ ہے۔

ان الوالى هو عمر بن الخطابؓ (ورة النجفيه)۔

والی سے مراد سیدنا عمر بن الخطابؓ ہے۔

وضرب بحرانه كناية بالوصف المستعار عن استقراره و تمكنه كتمكن البعير البارك من الأرض۔

سینہ زمین پر رکھ دیا کنایہ ہے اس سے مراد قرار پکڑنے اور تمکن ہونے کے جیسے بیٹھنے والا اونٹ جب زمین پر سینہ ٹیک دیتا ہے تو جم کے بیٹھ جاتا ہے۔

یعنی سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ آیتِ استخلاف میں جو تمکین دین کا وعدہ ہے وہ سیدنا عمرؓ کے ہاتھ سے پورا ہوا سیدنا علیؓ کے عقیدہ کے مطابق سیدنا عمرؓ نہ صرف کامل دیندار ہیں بلکہ دین کے ایسے خادم ہیں کہ انہوں نے دین اسلام کو استحکام بخشا۔

اور شیعہ تفسیر المیزان فی تفسیر القرآن جلد15 صفحہ 152: 

وليمكنن لهم دينهم الذی ارتضىٰ لهم قال تمكين الشیء اقراره فی مكان وهو كناية عن ثبات الشیء من غير زوال و اضطراب و تزلزل بحيث يوثر اثره من غير مانع ولا حاجز فتمكن الدين هو کونه معمولا به فی المجتمع من غير كفر به واستهانة بامره۔

ترجمہ: کسی شے کے تمکن ہونے سے مراد قرار پکڑنا ہے یہ کنایہ ہے شے کا اپنی جگہ پر ثابت و قائم ہونا اس طور پر کہ نہ زوال ہو نہ اضطراب نہ تزلزل اس حیثیت سے کہ دین کسی مانع یا رکاوٹ کے بغیر پورا اثر کرے پس تمکین دین یہ ہے کہ پورے دین پر عمل ہو اس طرح کہ نہ انکار کا شائبہ رہے نہ دین کے احکام کی توہین کا۔ 

سیدنا علیؓ کے کلام سے ثابت ہوا دین کو تمکین حاصل ہوئی سیدنا عمر فاروقؓ کے ہاتھ سے اور تمکین سے مراد یہ ہوئی کہ دین کو وہ قوت حاصل ہوئی جسے زوال اور تزلزل کا اندیشہ نہ رہا ثابت ہوا کہ آیتِ استخلاف میں تمکین دین کا وعدہ سیدنا عمرؓ جیسے کامل الایمان خلیفہ کے ہاتھوں پورا ہوا۔

موعودہ خلافت سے مراد ان خلفاء کی خلافت ہے جن کے عہد میں قیصر و کسریٰ اور دیگر سلطنتیں مملکت اسلامیہ میں شامل ہوئیں چنانچہ:

تفسری منسج الصادقین جلد 6 صفحہ 335:

در اندک فرصتے حق تعالیٰ بوعده مومناں وفا نموده جزائر عرب و دیار کسریٰ بلاد روم بدیشان ارزانی داشت۔

ترجمہ: تھوڑی سی مدت میں اللہ تعالیٰ نے مومنین سے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا کہ جزائر عرب مملکت کسری اور روم کے علاقے مومنوں کے ہاتھوں فتح ہوئی۔ 

یعنی یہ وعدہ اس عہد میں پورا ہوا جسے خلافتِ علی منہاج النبوہ کہتے ہیں اس کے بعد کی حکومت کو نبی کریمﷺ نے ملک عضوض کا نام دیا ہے یہ وہ حکومت ہے جس کا ظاہر زمین پر تسلط ہو اور باطن میں پورے دین کو نہ سنبھال سکے اس میں من وجہ ہدایت ہوئی ہے من وجہ عدم ہدایت۔

تیسری قسم وہ حکومت یا ریاست عامہ ہے جو ظاہراً و باطناً خدا اور سولﷺ کی بغاوت کی آئینہ دار ہو ایسی حکومت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وقت مقرر ہوتی ہے جب کسی قوم کوسزا دینا یا تباہ کرنا مقصود ہو۔

وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهِ الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيراً۝۔ (سورة بنی اسرائیل آیت نمبر 16)۔

ترجمہ: جب ہم کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوش عيش لوگوں کو حکم دیتے ہیں پھر جب وہ لوگ وہاں شرارت مچاتے ہیں تب ان پر حجت تمام ہو جاتی ہے پھر اس بستی کو تباہ اور غارت کر ڈالتے ہیں۔

لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْأَرْضِ الخ۔ (سورة النور آیت نمبر 55)۔

شیعه تفسیر صافی "اللہ ليجعلنهم خلفاء بعد نبيكم۔ ترجمہ: اللہ ان کو نبیﷺ کے بعد خلیفہ بنائے گا۔ 

یعنی موعودہ خلافت وہی ہے جو نبی کریمﷺ کے بعد متصل خلفائے ثلاثہؓ کو اللہ نے عطا کی اور تفسیر مجمع البیان شیخ ابو علی طبرسی:

ليورثنهم ارض الكفار من العرب والعجم فيجعلهم سكانها و ملوكها۔

ترجمہ: یعنی ان کو کفار کی زمین کا عرب و عجم میں وارث بناؤں گا ان کی زمین میں ان موعودہ مومنین کو سکونت دوں گا اور ان کو حاکم و بادشاہ بناؤں گا۔

عرب و عجم کی کفار کی زمین کو فتح بھی خلفائے ثلاثہؓ نے کیا اور اس پر حکومت بھی انہوں نے کی۔ 

تفسیر شیعه مجتهد طباطبائی صفحه 153:

انها رأيت الاستخلاف واردة في اصحاب النبیﷺ و انجز الله وعده لهم باستخلافهم فی الارض وتمكين دينهم و تبدیل خوفهم امنا بما اعز الاسلام بعد رحلة النبیﷺ فی ايام الخلفاء الراشدین والمراد باستخلافهم استخلاف الخلفاء الاربعة بعد النبیﷺ والثلاثة الأول منهم ونسبة الاستخلاف الى جميعهم مع اختصاصه ببعضهم وهم الاربعة او الثلاثة من قبيل نسبة امر البعض الى الكل كقولهم قتل بنو فلان۔

صفحہ 11 از 27