آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 12 از 27

ترجمہ: یہ آیت نبی کریمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حق میں نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں اپنا وعدہ یوں پورا کیا کہ انہیں زمین کی خلافت دی ان کے دین کو استحکام دیا ان کے خوف کو امن سے بدل دیا اسلام کا غلبہ اس کا سبب بنا یہ سب نبی کریمﷺ کے بعد خلفائے راشدین کے عہد میں ہوا استخلاف سے مراد خلفائے اربعہؓ ہیں یا خلفائے ثلاثہؓ ہیں تمام کی طرف خلافت کی نسبت کنایہ ہے خلافت بعض کی کل کی طرف جیسے کہا جاتا ہے فلاں قوم نے قتل کیا (حالانکہ سب لوگ قتل نہیں کرتے اسی طرح تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خلیفہ نہیں ہوئے یہاں بھی نسبت بعض کی کل کی طرف ہے ) ( شیعہ مفسر نے من کو تبعیضیہ تسلیم کیا ہے )۔

بات اتنی واضح ہے کہ مزید تجزیہ اور تبصرہ کی محتاج نہیں اِقتباس کا نتیجہ یہ ہے:

  1. یہ آیت حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حق میں نازل ہوئی یعنی اس کا مصداق مہاجرین و انصار ہیں۔
  2.  اللہ تعالیٰ نے ان سے خلافت و حکومت دینے کا وعدہ کیا اور وہ وعدہ پورا کر دیا یعنی خلفائے ثلاثہؓ جو انہیں مہاجرین و انصار میں سے ان کی خلافت وہی موعودہ خلافت ہے۔
  3. ان کے ہاتھوں دین حق کو استحکام دیا۔
  4.  خوف کے بعد امن دے کر یہ وعدہ بھی پورا کیا۔
  5. شیعہ مجتہد نے تسلیم کیا کہ یہ وعدہ نبی کریمﷺ کے بعد خلفائے راشدین کے عہد میں پورا ہوا۔
  6. اصل میں یہ وعدہ خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں پورا ہوا مگر خلفائے راشدین کہنا صرف کنایہ ہے خلافت بعض کی کل کی طرف۔

 شیعہ مجتہد نے سیدنا علیؓ کی تقلید کی آپ نے خلفائے ثلاثہؓ کو سب سے پہلے خلفائے راشدین کے لقب سے یاد کیا یہاں شیعہ مجتہد نے بھی خلفائے ثلاثہؓ کو خلفائے راشدین لکھا۔

 شیعہ مجتہد نے من کو تبعیضیہ تسلیم کیا ہے۔

 تاریخی شہادت:

لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ ابنِ شہر آشوب و غیره روایت کرده اند که روزے آنحضرتﷺ نظر کرد سوئے ذرا عہائے سراقہ بن مالک که باریک و پرمود بود پس فرمود که چگونه خواهد بود حال تو در هنگام کہ دست رنجہائے بادشاہ عجم رادردست ہا کردہ باشی پس چون در زمان عمرؓ فتح مدائن کردند عمرؓ او را طلبید ودست رنجهائے بادشاہ عجم را در دستہائے او کردہ فرمود چون مصر را فتح کنید قبطیاں را مکشید که مادر ابراهیم ماریه از ایشاں است و فرمود که رومیه را فتح خواهید کرد چوں آنرا فتح کنید کلیسائے کہ جانب شرقی آں واقع است آن را مسجد کنید۔

(حیات القلوب جلد 2 صفحہ 271)۔

ترجمہ: ابنِ آشوب وغیرہ نے روایت کی ہے کہ ایک روز نبی کریمﷺ کی سراقہ بن مالک کے بازوؤں پر نگاہ پڑی کہ باریک اور بالوں سے پر تھے فرمایا کہ وہ کیا منظر ہوگا جب تم نے شاہِ عجم کنگن ان کلائیوں میں پہن رکھے ہوں گے پس جب عہد فاروقیؓ میں مدائن فتح ہوا تو سیدنا عمرؓ نے سراقہ کو بلایا اور شاہِ فارس کے کنگن اس کی کلائی میں ڈال دیئے حضورﷺ نے پھر فرمایا کہ جب تم مصر فتح کرو تو قبطیوں کو قتل نہ کرنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ماں (ماریہ) اسی قبیلہ میں سے ہے اور جب رومیہ کو فتح کرو تو مشرقی جانب جو گرجا ہے اس کو مسجد بنانا۔

یعنی نبی کریمﷺ نے پیشگوئی فرمائی تم میرے بعد ایران کو فتح کرو گے اور شاہِ ایران کے کنگن سراقہ کے ہاتھ میں ہوں گے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے ہاتھوں حضورﷺ کی پیشگوئی پوری ہوئی اور انہوں نے حضورﷺ کا فرمان پورا کر دیا کہ شاہِ ایران کے کنگن سراقہ کو پہنائے گویا لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ کا خدائی وعدہ پورا ہوا کہ حضورﷺ کے بعد خلیفہ سیدنا عمرؓ نے ایران کو فتح کیا۔

دوسری بات حضورﷺ نے فرمائی کہ تم مصر کو فتح کرو گے تیسری بات رومیہ فتح کرو گے یہ پیشگوئیاں بھی سیدنا عمرؓ کے عہد میں پوری ہوئیں سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے وہاں مسجد بنوائی یعنی لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ کے مصداق سیدنا عمرؓ کو تسلیم کیا گیا۔ 

حیات القلوب جلد 2 صفحہ 277 عفیف راوی کہتا ہے:

من باعباس گفتم کہ ایں چہ دین است کہ ماندیدم ہرگز گفت ایں محمد بن عبدالله است و دعویٰ میکند کہ خدا اور افرستاده است میگوئید کہ گنجہائے کسریٰ و قیصر برائے او فتح خواهد شد۔ 

ترجمہ: میں نے سیدنا عباسؓ سے کہا یہ کیسا دین ہے کہ ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہا یہ محمد بن عبداللہ ہے دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ نے اس کو بھیجا ہے کہتا ہے کہ کسریٰ و قیصر کے خزانے اس کے لئے فتح ہوں گے یعنی سیدنا عباسؓ نے جواب دیا کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے رسول اللہﷺ کے لئے فتح ہوں گے۔

یعنی سیدنا عباسؓ نے جواب دیا کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے رسول اللہﷺ کے لیے فتح ہوں گے اور یہ پیشگوئی خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھوں پوری ہوئی۔

حیات القلوب جلد 2 صفحہ 280:

آنحضرت بمسجد آمد و بحجر اسماعیل ایساتد و بصدائے بلند ندا کرد کہ اے گروہ قریش وای طوائف عرب شمارا می خوانم بسوئے شہادت بوحدانیت خدا و ایمان آوردن پیغمبری امن وامر می کنم شما را که ترک کنید بت پرستی راواجابت نمائیند مرا در آنچه شمارا باآن می خوانم تا بادشاہان عرب گردیدو گروه عجم شمارا فرمانبرداران گردند و در بهشت باد شاہاں باشید۔

ترجمہ: نبی کریمﷺ مسجد حرام میں آئے حجر اسمٰعیل علیہ السلام کے پاس کھڑے ہو کر بلند آواز سے فرمایا کہ اے گروہ قریش اور اے قبائل عرب میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ اللہ کی توحید اور میری رسالت کی شہادت دو اور میں حکم دیتا ہوں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور جو میں کہتا ہوں اسے قبول کرو تاکہ تم عرب کے بادشاہ بن جاؤ اور عرب کے لوگ تمہارے حکم کے تابع ہو جائیں اور تم بہشت میں بھی بادشاہ بنو۔

حضورﷺ کی یہ سب پیشگوئیاں حضورﷺ کے سچے جانشین خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھوں پوری ہو ئیں اور اللہ کے وعدے ليستخلفنهم فی الارض کی عملی تفسیر خلفاء ثلاثہؓ کے عہد میں سامنے آگئی۔

  1. حملہ حیدری علامہ بازل جلد 1 صفحہ 16حضورﷺ نے اپنے چچا ابو طالب سے فرمایا:

 که ای عم چه بدمیکنم من به قوم بیا بدازاں حکم ایشان رواج ز ملک عرب تادیار عجم

رہے مینایم کہ یو مافیوم ستانند از خسرواں ساج و باج گزارند برحکم ایشان قدم۔

صفحہ 12 از 27