آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 13 از 27

ترجمہ: چچا جان میں نے اپنی قوم کے ساتھ کونسی برائی کی ہے صرف یہی کہ میں حق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہوں اگر قوم نے میری بات مان لی تو دنیا ان کے زیر نگیں ہوگی ، عرب و عجم پر ان کا حکم چلے گا۔

اس پر ابوجہل نے پوچھا کہ وہ کونسا کلمہ ہے جس کے کہنے پر یہ حکومت مل سکتی ہے تو حضورﷺ نے فرمایا:

(2)۔ که گوئند از صدق بے اشتباه نباشد جزالله دیگر اله۔

ترجمہ: انہیں چاہئے کہ صدقِ دل سے اقرار کریں کہ اللہ کے بغیر کوئی معبود نہیں۔

حضور کی یہ پیشگوئی خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں پوری ہوئی۔

حمله حیدری بازل جلد 1 صفحہ 235:

شاہِ ایران نے باذان کو حضورﷺ کی گرفتاری کے لئے بھیجا تو حضورﷺ نے فرمایا:

(3)۔ بگویند اول جواب سلام رسانید آنگه زمن این پیام که از قدرت قادر ذوالجلال شود پاک گیتی ز کفر و ضلال! همه اہل ایران وائل یمن! بزودی در آیند در دین من۔ 

ترجمہ: شاہ کو میر اسلام کہنا اس کے بعد یہ پیغام دینا کہ اللہ کی قدرت سے اللہ کی زمین کفر اور گمراہی سے پاک ہو جائے گی اور اہلِ ایران اور اہلِ یمن جلد ہی میرے دین میں آجائیں گے۔

دنیا کو کفر و ضلال سے پاک کیا تو خلفائے ثلاثہؓ نے اور اہلِ ایران و یمن کو دینِ محمدی کا گرویدہ بنایا تو خلفائے ثلاثہؓ نے دین خلفائے ثلاثہؓ دین محمدی تھا۔

حمله حیدری بازل جلد 1 صفحہ 229 قیصر روم نے فتح اسلامی کی خوشخبری خود دی۔

که بر کشور ما بزودی شوند مسلط گرد ہے کہ ختنه کنند۔

ترجمہ: ہماری سلطنت پر جلد ہی ایک ایسی قوم مسلط ہو جائے گی جن میں ختنہ کا رواج ہے یہ پیشگوئی بھی خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں پوری ہوئی۔

لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ کی تفسیر اور واقعہ خندق:

(1)۔ شیعہ تفسیر مجمع البیان صفحه 341 وہ سخت پتھر جو حضورﷺ کی ضربوں سے ٹوٹا اور حضورﷺ نے فرمایا:

اما الاولىٰ فان الله عزوجل فتح علی بها اليمن واما الثانية فان الله عز وجل فتح على بها الشام والمغرب واما الثالثة فان الله عز و جل فتح على بھا المشرق فاستبشر المسلمون۔ 

ترجمہ: حضورﷺ نے فرمایا کہ میری پہلی ضرب پر اللہ نے مجھ پر یمن فتح کیا دوسری پر شام اور مغرب میرے لئے فتح ہوئے تیسری ضرب پر مشرق اس خوشخبری سے مومن خوش ہوئے۔ 

حضورﷺ نے تینوں فتوحات کے ساتھ علی فرمایا: مگر یہ ملک فتح ہوئے خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھوں گویا حضورﷺ نے خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ فرمایا کیونکہ خلفائے ثلاثہؓ نے حضورﷺ کے مشن کی تکمیل کی۔

(3)۔ تفسیر قمی علی بن ابراہیم شاگرد امام حسن عسکری جلد 2 صفحہ 178۔

ثم اخذ هو لا فضرب ضربة فبرقت برقة فنظرنا فيها الى قصور الشام ثم ضرب اخرى فبرقت برقة فنظرنا فيها الى قصور المدائن ثم ضرب اخرى فبرقت برقة اخرى فنظرنا فيها الى قصور اليمن فقال رسول اللهﷺ اما انه سيفتح الله عليكم هذه المواطن التي برقت فيها البرق۔ 

ترجمہ: پھر حضورﷺ نے ھول لے کر ایک ضرب لگائی اس سے روشنی اٹھی جس میں ہم (صحابہؓ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے شام کے شاہی محل دیکھے دوسری ضرب پر روشنی اڑھی تو مدائن کے شاہ محل دیکھے تیسری ضرب پر روشنی اٹھی تو ہم (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے یمن کے محل دیکھے تو حضورﷺ نے فرمایا عنقریب اللہ تعالی تم (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے ہاتھوں یہ ممالک فتح کرے گا جو تم نے اس روشنی میں دیکھے ہیں۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاتھوں خلفائے ثلاثہؓ کی قیادت میں لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ کا وعدہ پورا ہونے کی پیشگوئی کی جارہی ہے۔

(3)۔ تفسیر صافی طبع ایران صفحه 336۔

ثم اخذ الهول فضرب ضربة فبرقت برقة فنظرنا فيها الى قصور الشام ثم ضرب اخرى فبرقت برقة اخرى فنظرنا فيها الى قصور المدائن ثم ضرب اخرى فبرقت برقة اخرى فنظرنا فيها الى قصور اليمن فقال رسول اللهﷺ اما انه سيفتح الله عليكم هذه المواطن التی برقت فيها البرق۔

(4)۔ تفسیر المیزان فی تفسیر القرآن جلد 11 صفحہ 293۔

اما الأولى فان الله عزوجل فتح على اليمن واما الثانية فان الله عزوجل فتح على اليمن واما الثانية فان الله عزوجل فتح على بها الشام والمغرب واما الثالثة فان الله عزوجل فتح على بها المشرق فاستبشر بذلك المسلمون۔

(5)۔ تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 289۔

حضرت متین را بدست مبارک گرفت و بسم اللہ گویاں براں سنگ زدو دو دانگ آں سنگ بشکست و نوری ازاں مانند برق نخست مانند مصباح در جوف لیل مظلم و دراں روشنی نظر انور سید اطہرﷺ برقصر ہائے شمام افتاد گفت اللہ اکبر مفاتیح شام بمن دادند و مسلمانان نیز تکبیر کردند و نوبت دوم ضربتے دیگر بر آن زد و دانگ دیگر شکسته شده نوری دیگر از وظاهر گشته قصور یمن بنظر اشرف در آمده گفت الله اکبر مفاتیح یمن در دست من نهادند اہلِ اسلام نیز اللہ اکبر کم کردن سیم باره تمام سنگ را درهم شکست و بنوری کہ ازاں درخشاں شدکو شکہائے کسریٰ بران حضرت مشاهده شد فرمود اللہ اکبر مفاتیح ممالیک فارس بقبضه اقتدار من دادند مومناں دیگر بار به الله اکبر لب گشودند و خوشحالی شدند و گفتند الحمد لله موعود صادق است۔

بات وہی ہے مگر یہاں ذرا کھل کے سامنے آئی ہے یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ایران شام یمن وغیرہ ممالک حضورﷺ کے زمانے میں فتح نہیں ہوئے تھے بلکہ خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں مملکت اسلامیہ میں شامل ہوئے مگر حضورﷺ نے پتھر توڑتے وقت فرمایا: مفاتح من دادند: که چابیاں مجھے دی گئیں یعنی حضورﷺ نے فرمایا ان ممالک کو فتح کرنے والا ہاتھ میرا ہاتھ ہوگا اور ان ممالک پر قبضہ کرنے والوں کا اقتدار میرا اقتدار ہے اس منظر کے دیکھنے والوں اور اس بات کے سننے والوں نے دیکھ لیا کہ حضورﷺ کی پیشگوئی خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھوں پوری ہوئی: ليظهره علی الدین کلہ: کی تفسیر اور تکمیل خلفائے ثلاثہؓ نے کی اور لیستخلفنهم فی الارض: کے مصداق خلفائے ثلاثہؓ ہی بنے۔

(6)۔ روضہ کافی طبع جدید صفحه 182۔

رسول اللهﷺ الهول فضرب بها ضربة فنفرت بثلاث فرق فقال رسول اللهﷺ لقد فتح على فی ضربتی هذه كنوز کسریٰ و قیصر۔

صفحہ 13 از 27