آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 14 از 27

وہی بات صاحبِ روضہ کافی نے کہی کہ فتح علی کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے میرے ہاتھ لگے جس کا مطلب یہ ہے جن کے ہاتھ لگے وہ حضورﷺ ہی کے ہاتھ تھے اور وہ خلفائے ثلاثہؓ کے بغیر اور کون ہے جو اس کا مصداق ٹھہرے۔

(7)۔ حمله حیدری علامہ بازل جلد 1صفحہ 165۔

چه بد ایں باشد چه تعبیر آں تکبیر چوں کشودی زبان!

 بپاسخ چنیں گفت خیر البشر! که چوں جست برق نخست از حجر 

نمودند ایوان کسریٰ بمن! دوم قیصر روم سوم از یمن

سبب راچنین گفت روح الامین کہ بعد ازمن انصار و اعوان دین

 بدال مملکتہا مسلط شوند! بآئین من اهل آن بگردند 

بریں مژده و شکر لطف خدا بہر بار تکبیر کردم ادا!

شنیدند آل مژدہ چوں مومناں کشیدند تکبیر شادی کناں۔

علامہ باذل نے تو کوئی لگی لپٹی رہنے نہیں دی۔ 

ہتھوڑے کی ضرب سے پیدا ہونے والی روشنی میں جو روم و شام ایران و یمن کے جو عمل دکھائے گئے اس کی تعبیر اور سبب پوچھا گیا تو حضورﷺ نے فرمایا: 

  1. میرے بعد دینِ اسلام کے بچے خادم ممد و معاون ان ممالک پر مسلط ہوں گے ظاہر ہے حضورﷺ کے بعد ان ممالک پر اقتدار خلفائے ثلاثہؓ کو حاصل ہوا گویا حضورﷺ نے بصیرت نبویﷺ سے خلفائے ثلاثہؓ کو یہ سرٹیفیکیٹ دے دیا کہ یہ میرے دین کے محافظ انصار و اعوان ہیں اب اگر کوئی اس حقیقت کا انکار کرے اور خلفائے ثلاثہؓ پر کسی قسم کا طعن کرے تو ظاہر ہے کہ رسول کا دشمن دین کا مخالف اور جھوٹا ہے۔
  2.  ان ممالک میں میرا دین اور میرا آئین جاری کریں گے خلفائے ثلاثہؓ کے حق میں یہ حضورﷺ کا دوسرا سرٹیفیکیٹ ہے کہ یہ نہ صرف دین کے محافظ ہیں بلکہ دینِ اسلام کے داعی مبلغ اور اسلام کو ہیئت مقتدرہ دینے والے ہیں۔
  3.  مومن اس مژدہ پر خوش ہوئے اور آج بھی خوش ہیں مگر جن کو اسلام سے بیر ہے ایمان سے دشمنی ہے وہ آج بھی دانہء اسپند نظر آتے ہیں اپنی اپنی قسمت ہے۔

8: حیات القلوب جلد 2 صفحہ 219۔

خاصه و عامه روایت کردند که در جنگ احزاب آنحضرت کندن خندق را میانهء صحابه قسمت فرمود که ہرچہل ذراع راده نفر حضر نمائند پس درحصهء سلمان و حذیفہ زمین سنگ رسید که کلنگ دراں اثر نمی کرد چون سلمان در خدمت آنحضرت عرض کرد از مسجد احزاب بزیر آمد دکلنگ را از ایشان گرفت و سه مرتبه ز دوه مرتبه شیء ازاں جدا شد دور ہر مرتبه برق ساطع می شد که جہان روشن می شد و الله اکبرمی گفت و صحابه الله اکبرمی گفتند پس فرمود که در برق اول قصر ہائے یمن را دیدم و خدا آن را بمن داد ودر دوم قصر ہائے شام را دیدم و خدا آن را بمن داد و در برق سوم قصر ہائے مدائن را دیدم و ملک شاہاں عجم را بمن داد پس خدا فرستاده که ليظهره علی الدین كله ولو كره المشركون۔

حیات القلوب کے تین حوالے گزر چکے ہیں مگر یہاں ملا باقر مجلسی نے ایک بات کا اضافہ کیا ہے کہ سیدنا سلمانؓ و سیدنا حذیفہؓ کے حصے میں وہ جگہ آئی جہاں نبی کریمﷺ نے اپنے دست مبارک سے ضربیں لگائیں اور ہر ضرب پر فرمایا کہ یہ ملک یہ بمن داد یعنی اللہ نے مجھے دیا ہے مگر تاریخ شاہد ہے کہ یہ ملک تو خلفائے ثلاثہؓ کو اللہ نے عطا کئے پھر حضورﷺ کے فرمان کا مطلب کیا نکلا یہی کہ دین اسلام کی توسیع اور اقتدار میں آنے میں میرے اور خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھ میں کوئی فرق نہیں۔

من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تاکس نا گوید بعد از میں من دیگرم تو دیگری۔ 

دوسری نئی بات یہ بتائی تیسری ضرب پر یہ آیت نازل ہوئی کہ: لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۝۔(سورة الصف آیت نمبر 9)۔ 

یعنی ان ممالک کے فتح ہونے کا مطلب لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ ہو گا ان ممالک کو فتح کرنے والے حضورﷺ کے اس کام کی تکمیل کریں گے جو آپنے دین کو غالب کرنے کے لئے شروع فرمایا تھا یعنی اللہ پاک نے تصدیق فرمادی کہ خلفائے ثلاثہؓ ہی دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے کے کام کی تکمیل کریں گئے مگر آیت کا آخری حصہ ذرا قابلِ غور ہے وہ یہ کہ خلفائے ثلاثہؓ کی خدمات کی رسول کریمﷺ نے بھی بشارت دی اللہ تعالیٰ نے بھی تصدیق کر دی مگر مشرکوں کو یہ بات ہرگز پسند نہ آئے گی واقعی

وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا۝۔ ( سورة النساء آیت نمبر 122)۔

 اللہ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا اور کون ہے؟۔

آج تک مشرکوں کا یہ حال ہے کہ خلفائے ثلاثہؓ کی دینی خدمات کا اعتراف تو کجا ان کا نام سنتے ہی مشرکوں کے سینے پر سانپ لوٹنے لگتے ہیں۔

آیتِ استخلاف کی تفسیر کے سلسلے میں موعودین کی تعیین کے لئے شیعہ کتب سے یہ آٹھ اقتباسات مشتے نمونہ از خروارے کی حیثیت رکھتے ہیں ایسی ہی دوسری پیشگوئیوں کا ماحصل یہ ہے کہ:

  1.  ان میں سے نبی کریمﷺ کے بعد جو خلفاء مقرر ہوئے ان کی قیادت میں جن لوگوں نے جہاد کیا۔
  2. ( موعودین مہاجرین و انصار کا گروہ ہے۔ 
  3.  جن خلفائے محمدﷺ نے قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کو اسلامی سلطنت میں شامل کیا۔
  4.  ان کی فتوحات کو رسول کریمﷺ نے اپنی فتوحات قرار دیا۔
  5.  یہی حضرات دین اسلام کے اعوان و انصار تھے۔
  6.  انہی خلفائے ثلاثہؓ نے دین حق کو غالب کیا اور لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ جو نبی کریمﷺ کا مشن تھا خلفائے ثلاثہؓ نے اس کی تکمیل کی۔
  7.  ان کے اقتدار کو نبی کریمﷺ نے "قبضہ اقتدار من" سے تعبیر فرمایا۔
  8.  استخلاف فی الارض کے موعودین خلفائے ثلاثہؓ کی دینی خدمات کا ذکر آئے تو مشرک اس سے جلتے ہیں۔ خلفائے ثلاثہؓ نہ صرف خود کامل الایمان تھے بلکہ انہوں نے عظیم سلطنتوں کو کلمہ پڑھایا اور دینِ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کر کے دکھا دیا۔

مہاجرین و انصار اور خلفائے ثلاثہؓ کی فضیلت:

بابِ اول آیاتِ جہاد کے تحت فروعِ کافی کی ایک طویل حدیث کا بقدر ضرورت حصہ نقل کیا جا چکا ہے یہ بہت طویل روایت سیدنا جعفرؒ سے مروی ہے کئی صفحوں پر مشتمل ہے اس سے جو اصول حاصل ہوتے ہیں یہاں پہلے وہی حصے نقل کئے جاتے ہیں۔

 (1)۔ سیدنا جعفرؒ نے فرمایا فروع کافی جلد 5 صفحہ 15 تا 19:

ان جميع مابين السماء والارض لله عزوجل ولرسوله ولاتباعهم من المومنين من اهل هذه الصفة۔

یہ ساری کائنات اللہ کی ہے اور یہ اس کے رسول کا حق ہے اور حضورﷺ کے متبعین اہلِ ایمان کا حق ہے جن میں وہ صفات پائی جاتی ہیں جو بیان ہو چکی ہیں۔

صفحہ 14 از 27