آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 15 از 27

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مہاجرین و انصار خلفاء کے عہد میں ہر میدان میں غالب آئے قرآن مجید کا یہی فیصلہ ہے۔ 

أَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِين۝۔ (سورة آل عمران آیت نمبر 193)۔

 أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ۝۔ (سورة المائدہ آیت نمبر 56)۔

 انْتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَالِبُون۝۔(سورة القصص آیت نمبر 35 )۔

(2)۔ فرمایا: ولكن المهاجرين ظلموا من جهتين ظلمهم اهل مكة باخراجهم من ديارهم واموالهم وقاتلوهم باذن اللہ لهم فی ذلك وظلمهم کسریٰ و قيصر ومن كان دونهم من قباٸل العرب والعجم مما كان فى ايديهم مما كان المومنون احق به منهم فقد قاتلوهم باذن الله لهم فی ذلك۔

ترجمہ: ليكن مہاجرین پر دو طرف سے ظلم کیا گیا اہلِ مکہ نے انہیں گھروں سے نکال کر ان کے اموال چھین کر ان پر ظلم کیا اس لئے مہاجرین اللہ کے حکم سے ان کے خلاف لڑے اور قیصر و کسریٰ اور دوسرے قبائل عرب و عجم نے ان پر ظلم کیا کہ جو کچھ ان کے قبضے میں تھا اس کے زیادہ حقدار مہاجرین تھے اس لئے مہاجرین نے اللہ کے حکم سے ان حکومتوں کے خلاف جنگ کی۔

قیصر و کسریٰ اور حکومتوں کے خلاف خلفائے ثلاثہؓ نے جنگ کی اللہ کے حکم سے کی اور فتح حاصل کی ان ممالک کی حکومتوں کے زیادہ حقدار مہاجرین ہی تھے۔ یعنی سیدنا جعفرؒ نے اصولی بات کہہ دی کہ خلفائے ثلاثہؓ ہی خلافت و حکومت کے صحیح حقدار تھے اللہ کے حکم سے انہوں نے جنگ کی اور اللہ نے ان کا حق انہیں دے دیا اگر کسی کو اللہ کی پسند اور اس کے فیصلے کے خلاف شکایت ہے تو بیٹھا سر پیٹتا رہے نادان کو اللہ کا دشمن بننے سے کیا حاصل ہو گا ؟۔

(3)۔ فرمایا: وكذلك ما أفاء الله على المومنين من الكفار فانما هی حقوق المومنین رجعت اليهم بعد ظلم الكفار اياهم فذلك قوله تعالىٰ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَـٰتَلُونَ بِأَنَّهُمۡ ظُلِمُواْ‌ۚ الخ ما كان المومنون احق به منهم۔

ترجمہ: اسی طرح کفار کے قبضہ سے مومنوں کے ہاتھ جو کچھ لگا وہ مومنوں کا حق تھا جو ان کے پاس لوٹ کر آگیا اسی لئے اللہ نے مہاجرین کو جنگ کی اجازت دی کیونکہ وہ مظلوم تھے اور ان ممالک کی حکومت کے زیادہ حق دار تھے۔

خلفائے ثلاثہؓ نے جنگ کر کے جو کچھ چھینا یہ ان کا حق تھا کفار سے حکومت لی دولت لی یہ ان کا حق تھا لہٰذا خلفائے ثلاثہؓ خلفائے برحق تھے اور یہی آیتِ استخلاف کے اصل مصداق تھے اور آیت استخلاف بقول سیدنا جعفرؒ خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت پر نص صریح ہے۔

(4)۔ فرمایا: انما اذن للمومنين الذين قاموا بشرائط الايمان التی وصفناها وذلك انه لا يكون ماذونا له حتىٰ يكون مظلوما ولا يكون مظلوما حتىٰ يكون مومنا ولا يكون مومنا حتىٰ يكون قائما بشرائط الايمان التی اشترط الله عزوجل علی المومنين والمجاهدين فاذا تكاملت فی شرائط الله كان مومنا واذا كان مومنا كان مظلوما واذ كان مظلوما كان ما ذونا له فی الجهاد لقوله تعالىٰ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَـٰتَلُونَ بِأَنَّهُمۡ ظُلِمُواْ‌ۚ الخ (سورة الحج آیت نمبر 39)۔

ترجمہ: ان مومنوں کو جہاد کی اجازت دی گئی جو ان شرائط ایمان پر پورے اتریں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے کیونکہ ماذون نہیں جب تک مظلوم نہ ہوں اور مظلوم نہیں جب تک مومن نہ ہوں ان شرائط ایمان کے ساتھ جو اللہ نے مومنین اور مجاہدین کے لئے رکھی ہیں جب وہ شرطیں پوری کر لیں وہ مومن ہیں اور جب مومن ہیں تو مظلوم ہیں اور جب مظلوم ہیں تو ماذون ہیں جہاد کے لئے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمايا:أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَـٰتَلُونَ بِأَنَّهُمۡ ظُلِمُواْ‌ۚ الخ یعنی امام نے واضح کر دیا کہ مہاجرین مظلوم تھے لہٰذا کامل مومن تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں جہاد کی اجازت دی اور انہوں نے کفار سے جنگ کر کے اپنا حق واپس لے لیا اور یہ ساری جنگیں خلفائے ثلاثہؓ نے جیتیں لہٰذا خلافت کے حقدار وہی ہیں۔

اس طویل حدیث میں جو اصولی باتیں بیان ہوئی ہیں ان کی وضاحت تو ہوگئی مگر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے باقی متعلقہ حصے بھی نقل کر دیے جائیں تاکہ پورا نقشہ سامنے آ جائے۔

ثم اخبر تبارک و تعالىٰ انه لم بالقتال الا اصحاب هذه الشروط فقال عزوجل اذن للذين يقاتلون بانھم ظلموا وان الله على نصرهم لقدیر الذين اخرجوا من ديارهم بغير حق الا ان يقولوا ربنا الله وذلك ان جميع ما بين السماء والارض لله عزوجل ولرسوله ولا تباعهم من المومنين اھل هذه الصفة فما كان من الدنيا فى ايدى المشركين والكفار والظلمة والفجار من اهل الخلاف الرسول اللهﷺ والمولى لمن طاعتهما مما كان فيايديهم ظلموا فيه المومنين من اھل هذه الصفات وغلبوهم عليه مما افاء الله على رسوله فهو حقهم افاء اللہ عليهم ورده اليهم وانما معنىٰ الفیء كل ما صار الى المشركين ثم رجع كان قد غلب عليه او فيه فما رجع مما قول او فعل الى مكانه فقد فاء وكذلك ما أفاء الله على المومنين من الكفار فانما هی حقوق المومنين رجعت اليهم بعد ظلمهم الكفار اياهم فذلك قوله تعالىٰ اذن للذين يقاتلون بانهم ظلموا ما كان المومنون احق بہ منهم وانما اذن للمومنين الذين قاموا بشرائط الايمان التی وصفناها وذلك انه لا يكون ماذوناله فی القتال حتىٰ يكون مظلوما ولا يكون مظلوما حتىٰ يكون مومنا ولا يكون مومنا حتىٰ يكون قائما بشرط الايمان التی اشترط الله عزوجل على المومنين والمجاهدين واذا تكاملت فيه شرائط اللہ عزوجل کان مومنا واذا کان مومنا كان مظلوما واذا كان مظلوما كان ماذونا له فی الجهاد لقوله تعالیٰ اذن للذين يقاتلون بانهم ظلموا وان الله على نصرهم لقدير وان لم يكن مستكملا لشرائط الايمان فهو ظالم محن بيفي ويجب جهاده حتىٰ يتوب وليس مثله ماذونا له۔ 

صفحہ 15 از 27