آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 16 از 27

والدعاء الى عزوجل لانه ليس من المومنين المظلومين الذين اذن لهم فی القرآن فی القتال فلما نزلت هذه الایتہ اذن للذين يقالون بانهم ظلموا فی المهاجرين الذين اخرجهم اهل مکہ من ديارهم واموالهم احل لهم جهادهم بظلمهم جهادهم اياهم واذن لهم فی القتال فقلت (ای راوی) فهذه نزلت فی مهاجرين بظلم اهل مكة لهم فما بالهم فی قتالهم كسرىٰ و قيصر و من دونهم من مشركی قبائل العرب فقال (ای امام) لو كان انما اذن لهم فی قتال من ظلمهم من اهل مكة فقط لم يكن لهم الى قتال جموع کسریٰ و قیصر وغير اهل مكة من قبائل العرب سبيل لان الذين ظلموهم غيرهم وانما اذن لهم فی قتال من ظلمهم من اهل مكة لاخراجهم اياهم من ديارهم واموالهم بغير حق ولو كانت الآية انما عنت المهاجرين الذين ظلمهم اهل مكة كانت الآية مرتفعة الفرض عمن بعدهم اذلم يبق من الظالمين والمظلومين احد وكان فرضها مرفوعا عن الناس بعدهم وليس كما ظننت ولا كما ذكرت ولكن المهاجرين ظلموا من جهتين ظلمهم اهل مكة باخراجهم من ديارهم واموالهم فقاتلوهم باذن الله لهم فی ذلك وظلمهم كسریٰ و قيصر و من كان دونهم من قبائل العرب والعجم فی ايديهم مما کان المؤمنون احق به منهم فقد قاتلوھم باذن الله عزوجل لهم فی ذلک وبحجة هذه الآية يقاتل المومنون کل زمان وانما اذن الله عزوجل للمومنین الذين قاموا بما وصفها الله عز وجل من الشرائط التی شرطها الله علی المومنين فی الايمان والجهاد ومن كان قائما بتلك الشرائط فهو مومن مظلوم و ماذونا له فی الجهاد وبذالک المعنىٰ ومن كان على خلاف ذلك فهو ظالم وليس من المظلومين و لیس له فی القتال ولا بالنهی عن المنكر والأمر بالمعروف لانه ليس من اهل ذلك ولا ماذونا له فی الدعاء الى الله عزوجل۔

ترجمہ: پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے جہاد کا حکم ان لوگوں کو دیا جو ان اوصاف سے متصف ہیں چنانچہ فرمایا أُذِنَ لِلَّذِينَ الخ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ تمام چیزیں جو آسمان اور زمین کے مابین ہیں وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ اور ان کے متبع ان مہاجرین کی ہیں جو ان صفات سے موصوف ہیں دنیا کا جس قدر حصہ مشرکین كفار ظالم اور بدکار لوگوں کے پاس ہے جو خدا اور رسولﷺ کے مخالف اور ان کی اطاعت سے منحرف تھے اور جو کچھ ان کے قبضے میں تھا انہوں نے ان صفات سے متصف اہلِ ایمان پر ظلم کر کے تیار رکھا تھا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بطورِ فے عطا کیا تھا وہ انہیں اہلِ ایمان کا حق تھا کہ خدا نے انہیں ان ظالموں سے واپس دلایا فیک کے ہی یہ معنیٰ ہیں کہ جو چیز مسلمانوں کی تھی مشرکوں کو قبضے میں چلی گئی تھی پھر مسلمانوں کے پاس آگئی تھی جو قول یا فعل کی قبیل سے اپنے مقام پر لوٹ آئے اس کے لیے کہتے ہیں "فاء" یعنی رجع لوٹ آئی کفار نے ظلم سے جو چیز ہتھیا رکھی تھی وہ مومنوں کا حق تھاچان کے پاس لوٹ آئی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَـٰتَلُونَ الخ کیونکہ ان چیزوں کے حقدار تو وہ مومن تھے جو شرائط ایمان پر ہی قائم ہوں جو ہم نے بیان کی ہیں کیونکہ جب تک مظلوم نہ ہو جہاد کی اجازت نہیں اور جب تک مومن کامل نہ ہو مظلوم نہیں کہلاتا اور مومن وہ ہوتا ہے جو شرائط پر پورا اترے جو اللہ تعالیٰ نے مومن مجاہدین کے لیے مقرر کی ہیں جب ان میں یہ شرائط کامل ہوں گی وہ مومن ہوں گے مومن ہے تو مظلوم ہے تو اسے جہاد کی اجازت ملی جیسا کہ فرمایا أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَـٰتَلُونَ الخ اگر کسی شخص میں یہ شرائط ایمان پوری نہ ہوں تو وہ ظالم ہے ایسے شخص سے جہاد کرنا مومنوں پر فرض ہے جب تک وہ توبہ نہ کرے اس کے لئے جہاد کی اجازت نہیں اور وہ اسلام کی دعوت دینے کا مجاز بھی نہیں کیونکہ ایسا شخص ان لوگوں میں سے نہیں جو مومن اور مظلوم ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جہاد کی اجازت دی۔

جب يہ آيت أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَـٰتَلُونَ الخ نازل ہوئی تو یہ ان مہاجرین کے حق میں نازل ہوئی جن کو اہلِ مکہ نے گھروں سے نکالا اور اموال سے محروم کیا اللہ تعالیٰ نے ان مهاجرين کے لئے حلال کر دیا کہ جہاد کریں اہلِ مکہ کے ساتھ جنہوں نے ان پر ظلم کیا تھا راوی کہتا ہے میں نے امام سے کہا کہ یہ آیت ان مہاجرین کے حق میں نازل ہوئی جن کو اہلِ مکہ نے ظلم سے گھروں سے نکالا تھا تو ان مہاجرین کا قیصر و کسریٰ اور دوسرے قبائل سے جہاد کرنا کس بنا پر جائز ہوا؟ امام نے کہا اگر بات نہیں ہوتی کہ مہاجرین کو صرف اہلِ مکہ سے ہی جہاد کرنے کی اجازت ہوتی تو کسریٰ و قیصر اور دوسرے قبائل عرب سے جہاد کرنے کی کوئی سبیل نہ ہوتی کیونکہ انہوں نے تو مہاجرین پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا اور اس آیت کا تعلق مکہ کے بغیر کسی دوسرے سے مطلق نہ ہوتا جب ایسے ظالموں اور مظلوموں کا وجود ہی نہ رہتا تو جہاد کی فرضیت بھی اہلِ مکہ کے ظلم کے خاتمہ کے بعد اٹھ جاتی بات یہ نہیں جو تو نے سمجھی یا میرے سامنے بیان کی اصل بات یہ ہے کہ مہاجرین پر دو اطراف سے ظلم ہوا اہلِ مکہ نے انہیں گھروں سے نکال کر اور ان کے اموال چھین کر ظلم کیا اور مہاجرین نے اللہ کی اجازت سے اہلِ مکہ کے ساتھ جہاد کیا كسریٰ و قیصر اور عرب و عجم کے دوسرے قبائل نے مہاجرین پر یہ ظلم کیا کہ جو کچھ ان کافر حکومتوں نے دبا رکھا تھا وہ دراصل مومنوں کا حق تھا اس لئے مہاجرین نے اس آیت کی رو سے اللہ کی اجازت پا کر کسریٰ و قیصر وغیرہ کے خلاف جہاد کیا اور اس آیت کے تحت ہر زمانے میں مسلمان جہاد کر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان اہلِ ایمان کو جہاد کی اجازت دی ہے جو ان شرائط پر قائم ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور جہاد کے سلسلے میں مومنوں پر مقرر کی ہیں جو ان شرائط پر قائم ہے وہ مومن ہے اور مظلوم ہے اور اسے جہاد کی اجازت ہے اور اسی وجہ سے جو ان شرائط کے خلاف ہو وہ ظالم ہے مظلوم نہیں اس لئے اسے نہ جہاد کی اجازت ہے نہ نہی عن المنکر اور امر بالمعروف کی اجازت ہے کيونکہ وہ اس کی اہلیت ہی نہیں رکھتا کہ اسے جہاد کی اجازت دی جائے یا دعوتِ دین کی اجازت دی جائے۔

صفحہ 16 از 27