آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 17 از 27

سیدنا جعفر صادقؒ نے وہ تمام حقائق بیان کر دیئے جو امرِ واقع بن کر چشمِ عالم کے سامنے آئے اور تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو گئے مثلاً:

  1.  اہلِ مکہ نے جن مہاجرین کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر گھروں سے نکالا اللہ تعالیٰ نے انہیں جہاد کی اجازت دی۔
  2.  جنہیں اذنِ جہاد ملا وہی کامل الایمان اور مظلوم تھے اگر ایسا نہ ہوتا تو انہیں اذن نہ ملتا کیونکہ سنت اللہ ہی ہے۔
  3.  قیصر و کسریٰ کے خلاف انہی مہاجرین کو جہاد کرنے کی اجازت ملی جو اہلِ مکہ کے ہاتھوں گھروں سے نکالے گئے تھے۔
  4. کفارِ مکہ کے علاوہ دوسروں سے جہاد کرنے کی اجازت اس لئے اللہ تعالیٰ نے دی کہ کفار نے وہ سب کچھ غاصبانہ طور پر اپنے قبضہ میں کر لیا تھا جو ان اہلِ ایمان کا حق تھا۔
  5.  ان مہاجرین نے اللہ تعالیٰ کی اجازت سے قیصر و کسریٰ کے خلاف جہاد کر کے اپنا حق ان سے واپس لے لیا۔
  6. ان مہاجرین نے جو کچھ اپنے حق کے طور پر واپس لیا وہ مال و دولت جائیداد اور حکومت تھی۔
  7. مال و دولت اور جائیداد جو ان مہاجرین کا حق تھا انہیں مل گیا اور ان مہاجرین میں سے حکومت جن کا حق تھا وہ انہیں مل گئی۔
  8. سیدنا جعفر صادقؒ نے صاف بیان کر دیا کہ حکومت خلفائے ثلاثہؓ کا حق تھا جو انہیں مل گئی اگر انہیں خلیفہ حق تسلیم کرنے سے کوئی ہچکچاتا ہے تو ثابت کرے کہ مہاجرین نے قیصر و کسریٰ سے جنگ کر کے جو حکومت واپس لی وہ کس کو ملی؟ بات کیسی واضح اور صاف ہے مگر جسے اللہ اور رسولﷺ کی مخالفت کرنے میں عار نہ محسوس ہو وہ امام کی مخالفت کرنے سے کیوں چوکے گا چنانچہ ایک شیعہ مجتہد سلطان العلماء سید محمد اپنی کتاب "تشید المبانی" میں لکھتے ہیں:

نہایت آنچه ازیں حدیث ظاهر می شود اینست که مهاجرین ماذون بجہاد کسرٰی و قیصر بودند و حقیقت خلافت خلفاء ازاں اصلاً مستفاد نمی شود زیرا که در احادیث معتمد اهل سنت دارد شدہ کہ رسالتمآبﷺ مسلمین را خبر تسلط خلفائے جو روده بود و امر باطاعت آنها نموده بود تیر دلالت صریح براں وارد و در خصوص جہاد فارس فاضل دہلوی نیز مشورہ نمودن خلیفہ ثانی بآنحضرت مذکور ساخته پس بریس تقدیر مازون بودن مهاجرین و انصار برائے جہاد فارس دردم و غیره مستغنی عن البیان است و آنچه جناب امام جعفر صادقؒ در باب اذن آنها فرمود بسبب حقیقت خلافت ثلاثہ۔

ترجمہ: اس حدیث سے زیادہ سے زیادہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مہاجرین کو قیصر و کسریٰ کے خلاف جہاد کی اجازت دی گئی خلفاء کا برحق ہونا اس سے مطلق ثابت نہیں کیونکہ اہلِ سنت کے ہاں نبی کریمﷺ کی حدیث موجود ہے کہ آپﷺ نے مسلمانوں کو خلفائے جور کی خبر دی تھی اور ان کی اطاعت کا حکم دیا تھا نیز فاضل دہلوی نے تحفہ میں لکھا ہے کہ سیدنا عمرؓ نے جہادِ فارس کیلئے سیدنا علیؓ سے مشورہ لیا تھا اس لئے مہاجرین و انصار کو جہاد فارس کے لئے اجازت ملنا محتاج بیان نہیں سیدنا جعفر صادقؒ نے جو انہیں ماذون فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے انہیں جہاد کی اجازت دی تھی خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت کے حق ہونے کی وجہ سے اجازت نہیں ملی تھی۔

انسان لٹھ لئے عقل کے پیچھے پڑا ہو تو اسے جگ ہنسائی کا خیال بھی نہیں رہتا سلطان العلماء نے یہ تسلیم کیا کہ جہادِ فارس کے لئے مہاجرین ماذون تھے مگر اذن دینے والا صرف سلطان العلماء نے ڈھونڈ نکالا کہ وہ سیدنا علیؓ تھے آدمی عقلی اعتبار سے خواہ کتنا تہی دامن ہو اگر اسے کسی صاحبِ عقل کے پاس بیٹھنے کا کبھی موقع ہی ملا ہو تو وہ سوچ سکتا ہے کہ کسی حکومت میں حکم حاکم کا چلتا ہے یا مشیر کا؟ اور مشیر کا کام مشورہ دینا ہے یا حکم دینا؟ اور مشورہ کی حقیقت ایک رائے ہوتی ہے جسے قبول یا رد کیا جا سکتا ہے یا یہ حکم ہوتا ہے کہ اسے مطلق رد نہ کیا جاسکے سیدنا عمرؓ نے سیدنا علیؓ سے مشورہ لیا سیدنا عمرؓ خلیفہ تھے اور سیدنا علیؓ ان کے ماتحت ایک مشیر رائے لینے کے بعد فیصلہ سیدنا عمرؓ نے کیا یا سیدنا علیؓ کا یہ منصب تھا کہ فیصلہ کرتے اور حکم چلاتے؟ اب کوئی سلطان العلماء ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ حکم مشیر کا چلتا ہے حاکم کی بساط صرف اتنی ہے کہ مشیر کے سامنے درخواست پیش کر دے اور اگر سلطان العلماء نہ ہو تو کم از کم مخبوط الحواس ہونا ضروری ہے۔

اول تو سیدنا جعفر صادقؒ نے صرف اذن کی بات نہیں کہی بلکہ انہوں نے فرمایا کہ:

صفحہ 17 از 27