آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 18 از 27
  1.  مہاجرین دوہرے مظلوم تھے قیصر و کسریٰ کا ظلم یہ تھا کہ جو کچھ انہوں نے دبا رکھا تھا وہ دراصل مہاجرین کا حق تھا لہٰذا مہاجرین باذن اللہ لڑے۔
  2.  اللہ تعالیٰ نے آیت أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَـٰتَلُونَ الخ نازل فرما کر ان مظلوموں کو اجازت دی کہ قیصر و کسریٰ کے خلاف جہاد کریں۔
  3.  اذن انہیں ملا جو مظلوم تھے اور مظلوم وہ تھے جو مومن تھے اور مہاجرین ان تمام اوصاف کے مالک تھے جو مومن کے لئے ضروری ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا الخ فرمایا۔
  4.  یہ عجیب بات ہے کہ گھر کے آدمی اور ما کان و یکون کے جاننے والے امام تو اس راز سے واقف نہ ہو سکے کہ اجازت سیدنا علیؓ نے دی اور سلطان العلماء کے پاس یہ راز سربستہ پہنچ گیا امام تو کہیں اللہ نے حکم دیا سلطان صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے حکم دیا بات وہی ہوئی من چه می سرائم و طنبوره من چه می سراید
  5.  فارس سے جنگ کرنے میں سلطان صاحب کو فاضل دہلوی کا اشارہ مل گیا کہ سیدنا علیؓ سے مشورہ کیا گیا مگر فارس کے علاوہ دنیا بھر کے خلاف جو جہاد سیدنا عمرؓ کے عہد میں کئے گئے ان کے متعلق تو کوئی ایسا سراغ نہیں ملا پھر کسریٰ وغیرہ کے خلاف جنگ کرنے میں مہاجرین کو کس نے اجازت دی اور وہ کیونکر ماذون قرار پائے۔
  6.  اللہ کی طرف سے ماذون ہونے کی شرط مومن ہونا اور مظلوم ہونا ہے اگر اللہ نے اجازت نہیں دی تو سیدنا علیؓ نے کیوں اجازت دی؟ کیا اس لئے کہ سیدنا علیؓ (معاذ اللہ) خدا کی مخالفت پر تلے ہوئے تھے۔
  7.  اگر یہ مومن نہیں تھے تو واجب القتل تھے سیدنا علیؓ کا کام یہ تھا کہ خود مہاجرین کے خلاف جہاد کرنے کا مشورہ دیتے اور اگر انہوں نے مہاجرین کو فارس کے خلاف جہاد کرنے کا مشورہ دیا تو ظاہر ہے کہ انہیں کامل الایمان اور مظلوم تسلیم کیا۔
  8.  سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ "بما كان فی ايديهم مما كان المومنون احق به منهم" اب دیکھنا یہ ہے کہ فارس وغیرہ کے پاس وہ کونسی چیز تھی جس کے مہاجرین حقدار تھے اور انہوں نے لڑ کر اپنا حق لے لیا ظاہر ہے یہ سب سے بڑی چیزیں دو ہیں حکومت اور دولت امام کہتے ہیں کہ اس کے زیادہ حقدار مومن تھے سوچئے کہ دولت تو سب مہاجرین میں تقسیم ہوگئی ہر ایک کو مناسب حصہ مل گیا وہی اس کے حقدار تھے مگر یہ دوسری چیز کس کو ملی؟ امام کہتے ہیں جس کو یہ ملی اس کا زیادہ حقدار تھا تو "حقیقت خلافت خلفاء ازاں اصلًا مستفاده نمی شود" کہتے وقت آپ نے اس علم کی تہمت کو کہیں اتار کے رکھ دیا تھا؟ یا تو "بما كان ايديهم" کی تعیین کیجئے اور ثابت کیجئے کہ ان کے پاس حکومت و اقتدار نہیں تھا یہ ثابت کیجئے کہ ان سے اقتدار لے کر مہاجرین نے خلفائے ثلاثہؓ کے علاوہ کسی اور کو دیا سیدھی بات ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے واضح کر دیا کہ مہاجرین مظلوم تھے مومن تھے اذنِ جہاد اللہ کی طرف سے ملا اور انہوں نے قیصر و کسریٰ سے اقتدار چھینا یہ ان کا حق تھا اور خلفائے ثلاثہؓ کو اقتدار ملا لہٰذا حق بحق دار رسید.

سیدنا جعفر صادقؒ نے اس طویل حدیث میں مہاجرین کے قائد خلفائے ثلاثہؓ کی وہ مدح و ثنا کی ہے اور قرآن کریم کی آیت کے حوالے سے ان کا استحقاق اس طرح ثابت کیا ہے کہ کوئی کمی باقی نہیں رہنے دی مگر پھر بھی آخر میں ایک زبردست انتباہ فرمایا ہے۔

فليتق الله عزوجل عبدالا يغتر بالامانی التی نهى الله عزوجل عنها من هذه الحديث الكاذبة على الله التی يكذبها القرآن ويتبرأ منها ومن حملتها ورواتها ولا يقدم على الله عزوجل بشبهة لا يعذر بها فانه ليس وراء المعترض للقتل فی سبیل اللہ الاعمال فی عظم قدرها۔

ترجمہ: انسان کو اللہ سے ڈرنا چاہئے اور ان جھوٹی آرزوؤں پر مغرور نہ ہونا چاہئے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ان جھوٹی حدیثوں سے پرہیز کرنا چاہئے جو اللہ پر افتراء باندھتی ہیں قرآن جن کی تکذیب کرتا ہے احادیث کو جھوٹا کہتا ہے اور ان حدیثوں کے راویوں اور ماننے والوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہے کوئی شخص اللہ کے پاس کسی شبہ کے ساتھ نہ جائے جس میں وہ معذور نہ سمجھا جائے کیونکہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے سے بڑھ کر قابلِ عزت اور قابلِ قدر کوئی شخص نہیں اور تمام اعمال سے عظیم عمل یہی ہے۔

یعنی سیدنا جعفر صادقؒ نے انتباہ کر دیا کہ مہاجرین ماذون من اللہ ہیں انہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور اس سے بڑا کوئی عمل نہیں لہٰذا جھوٹی حدیثوں کے سہارے ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن کرنے اور ان کی فضیلت کا انکار کرنے سے آدمی اپنی عاقبت خراب نہ کرے ان کا ماذون ہونا مظلوم ہوںا مومن ہونا اور جنتی ہونا قرآنِ مجید سے ثابت ہے مگر معلوم ہوتا ہے یار لوگوں نے اسے کھوکھلی دھمکی ہی سمجھا اس لئے مہاجرین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلفائے ثلاثہؓ کے حق وہ باتیں کہیں جو صرف وہی آدمی کہہ سکتا ہے جسے سیدنا جعفر صادقؓ سے دلی عناد ہو۔

اگر یہ کہا جائے کہ یہ اذن تو سیدنا علیؓ کو ملا تھا کہ فارس وغیرہ سے جنگ کر کے ان سے حکومت چھین لیں تو مشکل یہ ہے کہ یہ بات کہنے والوں نے خود اس راہ میں ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے کہ سیدنا علیؓ سے کچھ بن نہیں پڑتا۔

اصولِ کافی طبع نوکشور لکھنو صفحہ 173 سیدنا علیؓ کے لئے ایک وصیت کا پورا باب ہے جو جبرائیلؑ اللہ کی طرف سے نبی کریمﷺ کے پاس لے کر آئے اور حضورﷺ نے سیدنا علیؓ کو بلا کر سنائی تو حضرت اس کے متعلق بیان کرتے ہیں۔

قال امير المومنین فصعقت حین سمعت الكلمة هذا من جبرائیلؑ حتىٰ سقطت على وجهی وقلت نعم قبلت و رضیت و ان انتھکت الحرمة وعطلت السنن ومزق الكتب وهدمت الكعبة وخضیت لحيتی من راسی بدم عبيط صابرا محتسبا حتىٰ اقدم عليك۔

ترجمہ: سیدنا علیؓ نے فرمایا جب میں نے جبرائیلؑ کی یہ بات سنی تو میں غش کھا کے گر پڑا اور میں نے کہا کہ مجھے یہ وصیت منظور ہے میں اس پر راضی ہوں اگرچہ میری بے حرمتی کی جائے سنت رسولﷺ معطل ہو جائے قرآنِ کریم کے پرزے اڑا دیئے جائیں خانہ کعبہ کو مسمار کر دیا جائے اور اگر داڑھی میرے سر کے خالص خون سے رنگی جائے میں ہر حال میں صبر کروں گا اور طالبِ ثواب ہونگا یہاں تک کہ جان دے کر یا رسول اللہﷺ آپ کے پاس پہنچ جاؤں۔

صفحہ 18 از 27