آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 19 از 27

ظاہر ہے کہ سنت کو معطل کرنا کتاب الہٰی کی توہین کرنا اور امر کعبہ کو منہدم کرنا کفار ہی کا کام ہے اور اگر کفار ان سب باتوں پر تل جائیں تو سیدنا علیؓ کا ان کے خلاف جنگ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ انہیں تو ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں دی بلکہ صبر کرنے اور یہ سب مناظر دیکھ کر ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کا مصداق بن کر ثواب کا امیدوار رہنے کا حکم ہے اور انہوں نے اس حکم کی تعمیل کرنا بخوشی قبول کیا ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ قیصر و کسریٰ کے خلاف جنگ کر کے ان سے وہ سب کچھ چھین لیتے جو انہوں نے دبا رکھا تھا اگر ایسا کرتے تو وصیت کی خلاف ورزی کرتے اور خدا سے جو عہد کیا تھا اسے توڑ کر نقض عہد کے مجرم بنتے یہ درست ہے مگر حیرت ہوتی ہے کہ جنگِ جمل اور صفین میں سیدنا علیؓ نے یہ کیسے بھلا دی؟ شاید اس کی وجہ یہ کہ ان جنگوں میں نہ تو قرآن کو برباد کیا جارہا تھا نہ کعبہ کو گرایا جا رہا تھا اور نہ سنت کو معطل کیا جا رہا تھا اگر یہ لوگ ان میں سے کوئی کام کرتے تو سیدنا علیؓ بالکل نہ لڑتے اور پورے صبر سے کام لیتے مگر جب ان لوگوں نے کوئی کام بھی نہ کیا تو سیدنا علیؓ کو مجبوراً لڑنا پڑا لہٰذا صاحبِ اصولِ کافی نے فیصلہ کر دیا کہ اُذِنٙ لِلّٙذِیْنٙ یُقٙاتِلُوْنٙ الخ کی آیت میں جو اذن دیا گیا ہے وہ سیدنا علیؓ کے لئے نہیں اور اصولِ کافی کا کون انکار کرے جب اس کے ساتھ امام کا یہ سرٹیفیکیٹ موجود ہے کہ ھذا کاف لشيعتنا اس لئے سیدنا جعفر صادقؒ کے پیش نظر یہ وصیت یقیناً ہوگی جبھی تو بات صاف کر دی کہ مہاجرین کو اذن قتال دیا گیا تھا انہوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی قیصر و کسریٰ کے خلاف جہاد کیا اللہ نے مدد کی اور فارس سے دولت چھینی جو ان کا حق تھا اقتدار چھینا اور خلفائے ثلاثہؓ کو اقتدار مل گیا جو ان کا حق تھا اور اللہ کا وعدہ پورا ہوا کہ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِى ٱلۡأَرۡضِ الخ اور سیدنا جعفر صادقؒ نے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلفائے ثلاثہؓ کی فضیلت کا اعتراف کیا تو گویا امام نے قرآنِ کریم کی تفسیر فرمادی

سیدنا جعفر صادقؒ کی اس حدیث تک محدود نہیں قدیم شیعہ کتب میں خلفائے ثلاثہؓ کی فضیلت کہیں مجموعی طور پر اور کہیں نام لے لے کر بیان کی گئی ہیں جن میں شیخین کی فضیلت کا خصوصیت سے ذکر پایا جاتا ہے مثلاً:

1۔ تفسیر قمی طبع طهران جلد 2 صفحہ 376:

فقال رسول اللهﷺ ان ابابكرؓ يلى الخلافة بعدى ثم من بعد ابوک (عمرؓ) فقالت من اخبرك هذا قال الله۔

ترجمہ:حضور اکرمﷺ نے ام المومنین سیدہ حفصہؓ سے فرمایا کہ میرے بعد خلافت کا والی سیدنا ابوبکرؓ ہوگا پھر تیرا باپ (سیدنا عمرؓ) ام المومنینؓ نے پوچھا آپ کو کس نے خبر دی؟ تو حضورﷺ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی۔

2۔ تفسیر صافی طبع ایران جلد 4 صفحہ 717:

ان ابابکرؓ و عمرؓ يملكان بعدی و قريب من ذلك ما رواه العياشی۔

ترجمہ: سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ میرے بعد والی حکومت ہوں گے اور اس کے قریب وہ روایت ہے جو مفسر عیاشی نے بیان کی ہے۔

3۔ تفسیر المیزان فی تفسیر القرآن طبع ایران جلد 19 صفحہ 399:

والذی اعرض عنه قوله ان اباک و اباها یلیان الناس بعدی مخافة ان يفشوا۔

ترجمہ: اور جو بات رسول اللہﷺ نے پوشیدہ رکھی وہ یہ تھی کہ اے سیدہ حفصهؓ؟ تیرا باپ (سیدنا عمرؓ) اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا باپ سیدنا ابوبکرؓ میرے بعد حاکم و والی ہونگے اعراض کی وجہ تھی کہ راز فاش نہ ہو جائے۔

4۔ تفسیر منبج الصادقین جلد 9 334:

سخنے را که تحریم ماریہ قبطیهؓ است و حکومت سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ بعد ازاں۔

بعض ازواجہ حدیث کے تحت لکھا ہے جو بات پوشیدہ رکھی وہ سیدہ ماریہ قبطیہؓ کی تحریم اور سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی حکومت کی بات تھی۔

5۔ تفسیر مجمع البیان طبع ایران صفحہ 314: واعرض عن بعض کے تحت لکھا۔

ان ابابکرؓ و عمرؓ يملكان بعدی و قریب من ذلك ما روى العياشی بالاسناد عن عبدالله بن عطاء المكی عن ابی جعفرؒ۔

ترجمہ: سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ میرے بعد خلیفہ ہوں گے اسی کے قریب وہ حدیث ہے جو مفسر عیاشی نے عبداللہ بن عطاء اور اس نے سیدنا باقر صادقؒ کی سند بیان کی ہے۔

كشف الحجہ لثمر والمھجه سید رضی الدین ابی القاسم علی بن موسیٰ بن جعفر بن محمد بن طاؤس مطبع حیدریه نجف اشرف فصل 86 صفحه 61:

یہ اِقتباس اور اس پر تفصیلی بحث "آیتِ معیت" کے باب میں ملاحظہ ہو۔

7۔ حملہ حیدری علامہ باذل جلد 1 صفحہ 228 ہرقل روم کی پیشگوئی بیان کرتا ہے:

چنین شد که یک شب بعلم نجوم چنین گشت معلوم والیء روم!

که از گردش نیلگوں آسماں رود ملک از دست عیسائیاں

شوند آنکساں در جہاں بادشاہ که دردین شمال ختنه باشد روا۔

8۔ حملہ حیدری علامہ بادل جلد 1 صفحہ 14:

ابابکرؓ ازاں پس براہ پاگزاشت که گفتار کاہن بدل یاداداشت

باد کاہنے داده بود ایں خبر کہ مبعوث گردد یکے نامور

زبطحاز میں ودر ہمیں چندگاہ بود خاتم انبیاء از الٰه

تو باخاتم انبیاء بگردی! چول او بگرد جانشینش شوی

زکاہن چوبودش بیادایں نوید بیا درد ایماں نشانش چودید

ترجمہ: روایات میں کاہن کی جگہ راہب کا لفظ ہے اگر کاہن سمجھا جائے تو اسے علم نجوم سے معلوم ہوا کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ ایمان بھی لائیں گے اور حضورﷺ کے پہلے خلیفہ بھی ہوں گے اور اگر راہب تسلیم کیا جائے تو اسے یہ حقیقت سابقہ کتب سماوی سے معلوم ہوئی ہوگی۔

  1.  یہ بات مسلم فریقین ہے کہ حضور اکرمﷺ نے قیصر و کسریٰ اور یمن مصر اور حبشہ کے سلاطین کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے خطوط بھیجے تھے۔
  2.  علامہ بادل کے حملہ حیدری سے یہ اِقتباس گزر چکا ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:

همہ اهل ایران واہل یمن بزدوی در آئیند دردین من۔

(3)۔ حملہ حیدری سے یہ حوالہ بھی گزر چکا ہے کہ:

بپاسخ چنیں گفت روح الامیں کہ بعد از من انصار و اعوان دین

بر آں مملکت ہامسلط شوند! بآئین من اہل آں بگردند؟

اب ان آٹھ اقتباسات کو پھر سے پڑھیے ، اور ان سوالوں کے جوابات تلاش کیجئے کہ:

صفحہ 19 از 27