آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 27

ہم نے کئی مناظروں میں یہ تحدی کر دی تھی کہ اگر خلفائے ثلاثہؓ کو کامل الایمان صالح الاعمال اور اس آیت کے موعودہ خلیفہ تسلیم نہ کرنے والا قرآن کی اس آیت پر اپنا ایمان رکھنا ثابت کر دے تو ہم شیعہ مذہب کے برحق ہونے کا اعلان کر دیں گے مگر ناممکن بہر حال نا ممکن ہی رہا اور کوئی کوشش بار آور نہ ہو سکی۔ 

قول فیصل 

 یہ آیت کلامِ الٰہی کا ایک حصہ ہے اور کتاب اللہ کے ہر حصے پر ایمان لانا فرض ہے اس لئے اب تین صورتیں ہی ممکن ہیں۔ 

  1. خلفائے ثلاثہؓ کو کامل الایمان صالح الاعمال اور خلیفہ برحق اور اس آیت کا مصداق تسلیم کرلیں۔ 
  2.  نزولِ آیت کے وقت جن حاضرین سے خطاب ہو رہا ہے ان میں سے خلفائے ثلاثہؓ کو چھوڑ کر کم از کم تین آدمی پیش کریں جن کے ہاتھ سے یہ تینوں انعامات خداوندی پورے ہوئے ہوں یعنی استخلاف فی الارض تمکین دین اور امن بعد خوف۔
  3. اعلان کر دیں کہ خدا کو بدا ہوگیا یا یوں ہی طفل تسلی کے طور پر وعدے کرتا رہا۔ 

جہاں تک پہلی صورت کا تعلق ہے شیعہ کو اس کی توفیق آج تک تو ہو نہیں سکی اور آئندہ کے لئے بھی توقع نہیں دوسری صورت کے لئے تاریخ میں کوئی نشان نہیں ملتا رہی تیسری صورت تو شیعہ نے اس کو پسند کیا ہے چنانچہ شیعہ عالم اعجاز الحسن بدایونی نے اپنی کتاب "تنبیہ الناصبین" میں تصریح کر دی ہے کہ خدا کے وعدے غلط ہوتے رہتے ہیں۔

ایک اور کوشش:

 کہا جاتا ہے کہ اس آیت کے مصداق سیدنا علیؓ ہیں مگر یہ دعویٰ حقائق کا ساتھ نہیں دیتا مثلاً:

  1.   یہ لغت عرب کے خلاف ہے آیت میں تمام صیغے جمع کے ہیں اور جمع کے لئے کم از کم تین آدمی ہونے ضروری ہیں اور سیدنا علیؓ فرد واحد ہیں۔
  2.   علمائے شیعہ و اہلِ سنت تصریح کر چکے ہیں کہ سیدنا علیؓ کو یہ تینوں انعام مکمل نہیں ملے تمکین دین کے پہلو کو دیکھا جائے تو بزعمِ شیعہ سیدنا علیؓ کے مذہب شیعہ کو ان کے دور میں تمکین حاصل ہونی چاہئیے مگر حال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اس دین کا اظہار تک نہیں کیا دوسرا پہلو امن بعد خوف ہے تو یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان کے عہد میں امن سرے سے نصیب ہی نہیں ہوا تیسرا انعام خلافت فی الارض کا ہے تو سیدنا علیؓ کی خلافت کی حیثیت شیعہ عالم نور اللہ شوستری نے اپنی مایہ ناز کتاب احقاق الحق میں یوں بیان کی ہے۔ 

ان امر الخلافة ما وصل اليه الا بالاسم دون المعنىٰ۔ 

ترجمہ: (یعنی سیدنا علیؓ کو خلافت برائے نام لی تھی) اور شیعہ کے چوٹی کے عالم علامہ محمد یعقوب کلینی نے اپنی کتاب "الروضہ" میں سیدنا علیؓ کے عہد پر ایک جامع تبصرہ لکھا ہے۔

ثم اقبل بوجهه وحوله ناس من اهل بيته وخاصته و شيعته فقال قد عملت الولادة قبلى اعمالا خالفوا فيها رسول اللهﷺ متعمدين لخلافه ناقضين لعهده مغيرين لسننه ولو حملت الناس على تركها و حولتها إلى مواضعها والى ما كانت في عهد رسول اللهﷺ التفرق عنی جندی حتیٰ ابقی و احدی۔ (صفحه 51 طبع ایران نجف اشرف)

 ترجمہ: پھر سیدنا علیؓ مجمع کی طرف متوجہ ہوئے جس میں آپؓ کے اہلِ بیتؓ خاص معتمد آدمی اور خاص شیعہ تھے اور فرمایا کہ مجھ سے پہلے خلفاء نے ایسے کام کئے جن میں انہوں نے نبی کریمﷺ کی صریح مخالفت کی اور دیدہ و دانستہ کی نبی کریمﷺ کے ساتھ کئے ہوئے عہد توڑے سنتِ رسول کو بدل دیا اب اگر میں لوگوں کو حکم دوں کہ جو کام خلفاء نے کئے انہیں ترک کر دو اور میں احکامِ الہٰی کو اسی اصل پر لاؤں جس پر زمانہ نبویﷺ میں تھے تو میرا لشکر مجھے چھوڑ دے گا اور میں تمہا رہ جاؤں گا۔

اسی مختصر سی عبارت میں حقائق کی ایک دنیا سمو کر رکھ دی گئی ہے۔ 

  1.  سیدنا علیؓ نے مشاہدہ کیا کہ آپ سے پہلے خلفاء نے اللہ اور رسول کی مخالفت کے احکام دیئے اور کام کئے۔
  2.  انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ خلفاء نے ایسے کام کسی غلط فہمی کی بنا پر نہیں کئے بلکہ جان بوجھ کر مخالفت کی۔
  3.  انہیں احساس ہوا کہ یہ احکام بدل دینے چاہئیں اور احساسِ فرض اور احساسِ ذمہ داری کا تقاضا یہی تھا۔ 
  4.  مگر انہوں نے عملاً کوئی ایک حکم بھی نہ بدلا صرف احساس پر ہی رک گئے۔
  5.   انہیں خطرہ تھا کہ جو فوج ان کے گرد جمع ہے اور جس کی طاقت پر حکومت کی بقاء کا مدار ہے وہ باغی ہو جائے گی اگر خلفاء کے زمانے کا کوئی حکم بدلا گیا۔
  6.  ان کی فوج اللہ اور رسولﷺ کی مخالفت ہی پسند کرتی تھی یہاں تک کہ اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کا نام آیا تو وہ باغی ہو جائیں گے۔
  7.  مگر یہی تو وہ فوج تھی جو خفائے ثلاثہؓ نے تیار کی اور خلفائے ثلاثہؓ کے دور میں سیدنا علیؓ کے ساتھ مل کر کفر کے خلاف برسر پیکار رہی مگر خلفائے ثلاثہؓ سے اختلاف پیدا ہونے کا ایک واقعہ بھی پیش نہ آیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اسی عقیدے اور اسی عملی زندگی پر متفق تھے جو خلفائے ثلاثہؓ نے نبی کریمﷺ سے حاصل کر کے ملک میں لاگو کر رکھا تھا یہی مسلک اہلِ سنت و الجماعت کا ہے اور خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں اسی دین کو تمکین حاصل ہوئی جس کا آیت میں ذکر ہے اور جو اللہ کا پسندیدہ دین ہے وہ دین تو ظاہر بھی نہ ہوا جو بقولِ شیعہ سیدنا علیؓ کا دین تھا لہٰذا اس آیت کا مصداق سیدنا علیؓ نہیں بن سکتے۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

کہا جاتا ہے کہ امن تو سیدنا ابوبکرؓ کو بھی نہ ملا عمر بھر مرتدین وغیرہ سے متصادم ہوتے رہے سیدنا عمرؓ کو بھی نہیں ملا کہ مارے گئے سیدنا عثمانؓ کو بھی نہیں ملا بری طرح مارے گئے اس شبہ کی عبارت سے ظاہر ہے کہ بدامنی سے مراد جنگ کرنا اور مارا جاتا ہے مگر یہ مراد ہی غلط ہے باطل کے خلاف برسر پیکار رہنا اور باطل کو مسلسل ہار پر ہار دیئے جانا بدامنی کی نہیں بلکہ امن یکجہتی اتحاد اتفاق اور وحدت فکر و عمل کی دلیل ہے ہاں گھریلو تنازعات اٹھ کھڑے ہوں تو اسے بدامنی کہا جاتا ہے جیسا کہ سیدنا علیؓ کے عہد میں ہوا خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں جو حالات سامنے آتے ہیں ایسے حالات کا ذکر تو اللہ تعالیٰ مقام مدح پر کرتا ہے چنانچہ نبی کریمﷺ کے ساتھیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ الخ۔ (سورة الفتح آیت نمبر 29)۔

صفحہ 2 از 27