آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 20 از 27
  1.  ان ممالک کو فتح کس نے کیا؟۔
  2. ان ممالک میں جو دینِ فاتحین نے پھیلایا وہ اسلام تھا یا کوئی اور اگر اسلام ہی تھا تو حضورﷺ نے جو دین من فرمایا اس کے پھیلانے والے کون تھے؟۔
  3.  ان ممالک پر مسلط کون ہوئے؟ حکومت کس کی ہوئی؟
  4. ان مسلط ہونے والوں کو حضورﷺ نے اعوان و انصارِ دین جو فرمایا تو وہ کونسا دین تھا؟
  5.  یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضورﷺ کے بعد خلافت خلفائے ثلاثہؓ کے پاس رہی تو اوپر کے چار سوالوں کا جواب اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ حضورﷺ نے جن سلاطین کو اسلام کی دعوت دی ان کو خلفائے ثلاثہؓ نے فتح کیا ان ممالک میں وہی دین اسلام پھیلایا جس کی حضورﷺ نے دعوت دی تھی لہٰذا وہ ہی اعوان و انصارِ دین ہیں کامل الایمان ہیں اور خلفائے ثلاثہؓ برحق ہیں اور آیتِ استخلاف کے مصداق وہی ہیں ورنہ تاریخ سے اس آیت کا کوئی اور مصداق ثابت کیجئے۔

ہاں اگر یہ کہا جائے کہ خلافت تو واقعی خلفائے ثلاثہؓ نے سنبھالی لیکن یہ ظالم حکمران تھے مگر شیعہ مفسرین نے روایات بیان کی ہیں اور اصولِ کافی میں حضورﷺ کی ان خلفاء کے متعلق جو پیشگوئیاں بیان ہوئی ہیں ان میں کہیں جور و ظلم کا تذکرہ بھی ہے اگر نہیں تو یہ کیا بات ہوئی کہ حضورﷺ نے آدھی بات بتائی اور آدھی راز سربستہ ہی رہی اگر اسے بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ سوال پھر بھی حل نہ ہوگا کہ پھر شیعہ کو یہ راز کسی نے بتایا اور کیوں؟ ضد کا بھی آخر کوئی سلیقہ ہوتا ہے یہ کیا کہ آدمی خدا کی مخالفت پر ڈٹ جائے رسولﷺ کا مدِ مقابل بن جائے اور اپنے ائمہ کا انکار بھی کر بیٹھے اور نہ اس کے ایمان میں خلل آئے نہ اس کے محبِ اہلِ بیتؓ ہونے پر حرف آئے۔

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا فہم کرشمہ ساز کرے

اس حقیقت سے گریز کی ایک راہ کھلی ہے اور یہ راہ ہی نہیں شاہراہ ہے کیونکہ اس پر ہر قسم کے احکام واقعات کی ٹریفک چل سکتی ہے۔

وہ راہ یہ ہے کہ "امام نے تقیہ کر کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ماذون للجہاد فرمایا ہے اور تقیہ کر کے ہی انہیں مظلوم اور ماکل الایمان بہ شرائط عشرہ بیان کیا ہے" وہ یہ اکسیر ہے جو شیعہ حضرات ہر اس موقع پر استعمال کرتے ہیں جہاں وہ دلیل کے میدان میں زچ ہو جائیں مگر یہ نسخہ ہر مقام پر کامیاب ثابت نہیں ہو سکتا مثلاً اس معاملے میں غور کیجئے۔

  1.  کیا امام نے کسی مقام پر اس بات کا اظہار کیا کہ وہ بات میں نے تقیہ کے طور پر کہی تھی؟۔
  2. اگر نہیں تو کسی بات پر تقیہ کا لیبل لگانے کا معیار کیا ہے؟ اگر معیار یہ ہے کہ جہاں کوئی دلیل نہ مل سکے وہاں تقیہ کا ٹھپہ لگا دو تو اس سے خود فریبی کے سوا کچھ حاصل نہیں اور ہر سوچنے والا انسان اس نتیجہ پر پہنچے کہ محض ضد ہے جو باطل پر ڈٹ جانے کے لیے ایک آڑ سے زیادہ کچھ نہیں اور اگر معیار یہ ہو کہ جس بات کے متعلق جی چاہے کہہ دے یہ تقیہ کر کے کہی گئی ہے تو اس وقت بڑی الجھن پیدا ہوگی جب کوئی شخص کہہ دے کہ امام نے تقیہ کر کے اقرار شہادتین کیا تھا پھر امام کا ایمان اور اس کا مذہب کیوں کر ثابت ہوگا یہ ایسا اندھا کنواں ہے جس سے شیعہ لاکھ کوشش کریں نکل نہیں سکتے۔
  3.  اس حدیث میں امام نے قرآن کی آیت کا حوالہ دے کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ماذون مظلوم مومن صالح ثابت کیا ہے اگر اسے تقیہ کہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا یہ امام نے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا جو لوگ (بقول شیعہ) مرتد کافر ظالم اور غاصب تھے ان کو قرآن کی آیت سے مومن صالح اور خلافت و حکومت کا حقدار ثابت کیا یہ تو صاف طور پر خدا کے خلاف مورچہ لگانا ہوا خدا کچھ کہے امام کچھ کہے کیا امام کا منصب یہی ہے ؟
  4. امام نے تقیہ کر کے ثواب حاصل کر لیا مگر اس حدیث سے جو مخلوق خدا گمراہ ہوئی اس کا گناہ کس کے ذمے امام نے تقیہ کر کے خلق خدا کو جو دھوکہ دیا ہے اس کا اثر تو صدیوں تک اور دنیا کے کونے کونے میں پھیلا ہے کیا تقیہ کا ثواب ان تمام گناہوں کو بہا لے جائے گا ؟ تقیہ نہ ہوا طوفانِ نوح ٹھہرا۔
  5.  امام نے تقیہ کیوں کیا حالانکہ امام کو اس سے منع کیا گیا تھا۔

(اصول کافی طبع جدید ایران 59:2 امام باقر نے اپنے بیٹے سیدنا جعفرؒ کو مہر شدہ وصیت یہ دی تھی اور امام نے پڑھی وہ وصیت یہ تھی)۔

ثم دفعہ الی ابنه جعفر ففک خاتما فوجد فیه حدث الناس وافتھم وانتشر علوم اھل بیتک وصدق آباءک الصالحین ولا تخافن الا اللہ عزوجل وانت فی حرز و امان۔

ترجمہ: سیدنا باقرؒ نے وہ وصیت کا لفافہ اپنے بیٹے سیدنا جعفرؒ کو دیا انہوں نے لفافہ اپنے بیٹے سیدنا جعفرؒ کو دیا انہوں نے لفافہ کی مہر توڑی تو اس میں لکھا پایا لوگوں کے سامنے حدیث بیان کر انہیں فتویٰ دے اور اپنے خاندان کے علوم پھیلا اور اپنے نیک آباؤ کی تصدیق کر اور اللہ کے بغیر کسی سے نہ ڈر تو محفوظ اور مامون ہے

ایک تو باپ پھر امام پھر اس کی وصیت بیٹا اور وہ بھی امام مگر دیکھنا یہ ہے کہ آدمی جب جھوٹ بولتا ہے یا یوں کہے کہ تقیہ کرتا ہے جب اسے کسی قسم کا اندیشہ ہو کہ سچی بات کہی تو رسوائی ہوگی یا جان جائے گی تو وصیت میں "ولا تخافن الا اللہ عزوجل" اگر یہ کہے کہ امام نے اس وصیت پر ضرور عمل کیا تو ماننا پڑے گا کہ اس جملے میں "الا" کال لگ یا تو امام نے پڑھا نہیں تھا یا اس وقت تھا ہی نہیں بعد میں تبرکاً داخل کر دیا گیا گویا اصل عبارت یوں تھی "ولا تخافن اللہ عزوجل" یعنی اللہ سے ہرگز نہ ڈرنا اس لئے امام نے جھوٹ کے وبال سے بے نیاز اور اللہ کے خوف سے یکسر آزاد ہو کر بڑی بے تکلفی سے جھوٹ بول دیا پھر "حدیث الناس" کا حکم ہے تو اس میں کوئی لفظ رہ گیا ہے اور امام نے بین سطور پڑھ لیا کہ اس کا مطلب ہے جھوٹی حدیثیں بیان کیا کر اسی طرح "وافتھم" کا مطلب بھی یہی ہوگا کہ لوگ پوچھیں تو جھوٹے فتوے دیا کر اور "وانتشر علوم اھل بیتک" کو دیکھا جائے اور یہ تسلیم کیا جائے کہ آپ نے تقیہ کر کے یہ حدیث بیان کی تو وصیت کہ اس حصے کا مطلب یہ ہوگا کہ اہلِ بیتؓ کے علوم کا جوہر اور خلاصہ جھوٹ ہے جس کی تلخی سے بچنے کے لیے اس پر تقیہ کی شرینی کا کوٹ کر دیا گیا ہے۔

صفحہ 20 از 27