آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 21 از 27

امام کے متعلق یہ تصور دلانا امام پر اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا شاعر تو محبوب کو ظالم کہتے ہیں مگر یہاں تو عاشقوں نے ادھم رکھا ہے یہاں ایک اور بات قابل غور ہے دیکھنا یہ ہے کہ تقیہ دین ہے یا کفر ہے؟ ظاہر ہے کہ کفر ہوتا تو امام سے منسوب کون کرتا لہٰذا معلوم ہوا دین ہے اگر یہی بات ہے تو شیعہ کو بھی چاہیے کہ تقیہ کر کے صحابہ کرامؓ بالخصوص خلفائے ثلاثہؓ کی مدح و ثنا کریں

اس کے تین فائدے ہیں۔

اول یہ کہ تقیہ کا ثواب ملے گا اور وہ اتنا ہے کہ سمیٹا ہی نہیں جا سکتا۔

 دوم یہ کہ امام مفترض الطاعتہ کی اطاعت اور اس کی سنت پر عمل کرنے کا ثواب ملے گا۔

 سوم یہ کہ قوم میں منافرت نہ پھیلے گی اس میں اتحاد و اتفاق پیدا ہوگا جس کی ہر زمانے میں بالعموم اور اس وقت بالخصوص شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی ہے مگر جہاں نفس پرستی اور ہنگامہ آرائی ہی محبوب مشغلہ ہو وہاں ثواب کا کسے خیال آ سکتا ہے۔

ع ہائے ان مالیوں نے باغ اجاڑا اپنا۔

خلافتِ نص:

کہا جاتا ہے کہ خلافت کا منصوصی ہونا ضروری ہے اور سیدنا علیؓ کی خلافت منصوصی ہے خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت کے لیے کوئی نض موجود نہیں نص کیا ہے اور خلافت کے منصوصی ہونے سے کیا مراد ہے اس پر تفصیلی اور مدلل بحث ہماری کتاب "تحزیر المسلمین" میں کی گئی ہے تاریخی ترتیب کی روشنی میں اس موضوع پر اجمالی بیان کیا جاتا ہے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت کے لیے نص کب اور کس صورت میں نازل ہوئی اس سلسلے میں ملاحظہ ہو۔

احتجاج طبرسی صفحہ 29 جلد 3:

وقد بقی علیک من ذلک فریضتان مما یحتاج ان تبلغھما قولک فریضۃ الحج و فریضۃ الو لایۃ والخلافۃ من بعدک الی ان قال فلما بلغ غدیر خم قبل الجحفۃ بثلاثۃ امیال نزل بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ الخ۔ (سورۃ المائدہ آیت نمبر 67)۔

ترجمہ: (اے میرے رسولﷺ) آپ پر دو فریضوں کا بیان کرنا باقی رہ گیا ہے ایک فریضہ حج دوسرا آپﷺ کے بعد ولایت اور خلافت کا فریضہ آپﷺ جو بہت غدیر خم پر پہنچے جو الجحفہ سے تین مل ادھر ہے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا۔

  1. حجۃ الوداع تک سیدنا علیؓ کی خلافت ولایت کے متعلق کوئی شخص بھی جانتا نہیں تھا۔
  2.  غدیر خم پر آیت نازل ہوئی تھی اس کا مفہوم عام ہے کہ جو کچھ تجھے پر نازل ہوا وہ لوگوں تک پہنچا اس میں خلافتِ سیدنا علیؓ کا ارشاد تک موجود نہیں۔
  3.  اس موقع پر سیدنا علیؓ کی خلافت کا حضورﷺ نے کوئی واضح اعلان نہیں فرمایا۔

اس کے ساتھ ہی یہ امر بھی قابل غور ہے اس واقعہ سے پہلے آیت "اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ الخ۔ (سورۃ المائدہ آیت نمبر 3)۔ نازل ہو گئی تھی یعنی اس سے پہلے ہی اعلان ہو چکا تھا کہ دین مکمل ہو گیا۔

اب اگر یہ مان لیا جائے کہ غدیر خم کے مقام پر پہنچنے کے بعد خلافتِ سیدنا علیؓ کے اعلان کا حکم دیا گیا تو اس سے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دین کا حصہ نہیں تھا ورنہ یہ ماننا پڑے گا "اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ" والی بات (معاذ اللہ) محض بہلاوا ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں بیان کی گئی اور یہ بات ماننا کہ قرآنِ کریم کی کوئی آیت معاذ اللہ بے معنیٰ یا زائد ہے مسلمان کے بس کے بات نہیں لہٰذا لازماً دوسری حقیقت ہی تسلیم کرنی پڑے گی کہ خلافتِ سیدنا علیؓ کا اعلان کرنا دین کا حصہ نہیں اور اس حقیقت کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ حضورﷺ نے سیدنا علیؓ کی خلافت کا اعلان نہیں فرمایا لہٰذا خلافتِ سیدنا علیؓ کا منصوصی ہونا بس نرا دعویٰ ہی دعویٰ ہے۔

خلفائے ثلاثہؓ کے متعلق غدیہ کے واقعہ سے پہلے برسوں ایسے اعلان ہوتے رہے جن میں مہاجرین و انصار اور خلفائے ثلاثہؓ سے اللہ تعالیٰ کی رضا کا سرٹیفکیٹ ان کے کامل الایمان ہونے کی سند ان کے جنتی ہونے کا ثبوت ملتا ہے مثلاً۔

(1) وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ الخ۔ (سورة التوبہ آیت نمبر100)۔

(2) لَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ الخ۔ (سورة الفتح آیت نمبر 18)۔

(3) وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ ؕ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ۞۔(سورة الانفال آیت نمبر74)۔

(4) لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ ؕ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ؕ الخ۔ (سورة الحدید آیت نمبر10)۔

پہلی تین آیتوں میں مہاجرین و انصار کے کامل الایمان اور جنتی ہونے کا اعلان ہے چوتھی آیت میں فرق مراتب بیان ہوا ہے کہ جو لوگ فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے جہاد کیا دین کے راستے مال خرچ کیا وہ ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد دین کی یہ خدمت کی ظاہر ہے خلفائے ثلاثہؓ کا تعلق پہلے بھی گروہ سے ہے لہٰذا اس آیت میں خلفائے ثلاثہؓ کی فضیلت بلکہ افضلیت کا اعلان ہوا ہے اور دونوں گروہوں کے جنتی ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری ہوا۔

اگر یہ کہا جائے کہ ان اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے اس موقع خاص پر تو راضی ہوگیا مگر یہ لوگ بعد میں معاذ اللہ مرتد ہوگئے لہٰذا الگ الگ یہ سندات ان کے کسی کام نہیں آ سکتیں تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کا علم ناقص ہے ایک بات کر دیتا ہے نتائج کی اسے خبر نہیں ہوتی اس لیے وہ بات یا تو بے معنیٰ ہو کر رہ جاتی ہے یا اللہ تعالیٰ کو بدلنی پڑتی ہے اسی مجبوری کی بنا پر شیعہ نے اللہ تعالیٰ کے متعلق بدا کا عقیدہ ایجاد کیا ہے جس پر تفصیلی بحث "تحزیر المسلمین" میں ملاحظہ ہو۔

صفحہ 21 از 27