آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 22 از 27

دوسری بات یہ تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ اللہ کی رضا مندی کی سند کے بعد معاذ اللہ اگر یہ لوگ بگڑ گئے تو رسول کریمﷺ جیسے شخصیت اور آپﷺ کی صحبت میں اس جمِ غفیر میں سے کسی کی اصلاح نہ کر سکی تو پھر بعد میں کوئی کس برتے پر مسلمان ہونے کا یا جنتی ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ بقول شیعہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا علیؓ کو خلیفہ بلافصل ہونے کا وعدہ فرمایا حضور اکرمﷺ سے اس کا اعلان کرایا مگر واقعات اس کے بالکل برعکس ظہور میں آئے کیا خدا کو اپنے وعدے کا کوئی پاس نہیں تھا؟ اگر پاس تھا تو کیا خدا ایسا کمزور ہے کہ بندوں کے سامنے اس کی ایک نہ چلی چپ سادھ لی اور اپنے مخالفین کا کچھ نہ بگاڑ سکا؟ سیدنا علیؓ نے بھی کسی موقع پر خدائی وعدہ کا حوالہ نہ دیا کہ میرا لحاظ نہ صحیح خدا کے وعدے کا تو کچھ خیال کرو مگر معلوم ہوتا ہے کہ خلافت بلا فصل کے بات محض ایک افسانہ ہے جو بعد میں مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لیے گھر لیا گیا اس کا تانا بانا کیسے تیار ہوا اس کی تفصیل آگے آتی ہے۔

تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقررہ پروگرام اس انداز سے پورے کرتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اس کی قدرت کا اقرار کیے بغیر کچھ بند نہیں پڑتی مثلاً۔

(1)۔ فرعون جیسا سرکش حکمران اپنے ہوا خواہوں کہ بتانے پر اپنی اور اپنی حکومت کی حفاظت کے لیے یہاں تک کر گزرتا ہے کہ قبطی قوم کو من حیث القوم ذلیل و رسوا کر کے چھوڑا پھر قبطیوں کہ بچوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دینے کا حکم رائج کیا تاکہ ان کی نسل کا وہ حصہ ہی ختم ہو جائے جو اس کے سامنے صف آرا ہوسکے مگر اللہ تعالیٰ کا پروگرام دیکھیے کہ جس سال بچوں کو قتل کر دینے کا حکم فرعون نے صادر کیا اسی سال حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیدا فرمایا پھر صندوق میں ڈال کر دریا کے حوالے کرایا پھر فرعون کے گھر میں ان کی پرورش کرائی پھر انہی کے ہاتھوں اس کو ہلاک کرایا اور اسی کی حکومت کا خاتمہ کرایا۔

تو سوچنے کے بعد یہ ہے کہ فرعون جیسے سرکش سے تو خدا نہ دبا مگر سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کیا فرعون سے بھی زیادہ طاقتور تھے کہ ان کے مقابل میں خدا کی ایک نہ چلی اور خدا نے سیدنا علیؓ کی خلافت بلافصل کا فیصلہ کر کے انہیں مدتوں انتظار کرایا اس لیے اس معاملے میں یا تو خدا کو عاجز اور بے بس مانا پڑے گا یا خلافتِ سیدنا علیؓ بلافصل کو افسانہ تسلیم کرنا پڑے گا۔

(2)۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے انہیں اپنی راہ کا کانٹا سمجھتے ہوئے راہ سے ہٹانے کی تدبیر کی قافلے کے ہاتھوں بیچا پھر مصر میں عزیز مصر کی بیوی نے انہیں جیل بھجوا دیا مگر خدا نے نہ صرف اسے جیل سے نکالنے کی تدبیر کی بلکہ حکومت مصر میں اس منصب پر پہنچایا جو دنیا کے لیے قابلِ رشک تھا اور بتایا کہ "وٙکٙذٙالِکٙ مٙکّٙنٙا لِیُوسُفٙ الخ"۔ (سورة یوسف آیت نمبر 56)۔ اور جو لوگ قدرت قادر کے منکر تھے ان کے لیے اعلان بھی فرمایا کہ واللہ غالب علی امرہ.

 اگر خلافت بلافضل کی بات اللہ کا امر تھا تو اللہ کو غالب آنا چاہیے تھا اور جب یہ نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا فیصلہ تھا ہی نہیں ورنہ بندوں کے مقابلے میں مغلوب ہو جانے والا خدا بھی کیا خدا ہوا۔

پھر تاریخ سے اس کی مثالیں ملتی ہیں کہ جب کوئی ظالم حکمران اللہ والوں کے مقابلے میں اٹھا اللہ نے اس ظالم کی گردن توڑی اور غلبہ اللہ والوں کو عطا کیا مگر یہاں کیا بات ہے کہ بقولِ شیعہ یکے بعد دیگرے تین ظالم حکمران رہے مگر خلافتِ بلافصل کا فیصلہ کرنے والا رب بس دیکھتا ہی رہ گیا۔

اس مقابلے میں خلفائے ثلاثہؓ کے حالات دیکھے جائیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی خلافت منصوصی تھی مثلاً سیدنا علیؓ کی خلافت کا معاملہ تو بقول شیعہ غدیرِ خم تک منصۂء شہود پر نہیں آیا تھا بلکہ کسی کے ذہن اور تصور میں بھی نہیں پایا جاتا تھا مگر نبی کریمﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں عملاً خلفائے ثلاثہؓ کو اسی ترتیب کے ساتھ کاروبار سلطنت سنبھالنے کی ٹریننگ کی چنانچہ:

(1)۔ تفسیر قُمی طبع ایران جلد 2صفحہ 434 شیعہ کی پہلی تفسیر۔

وادی یا بس جنگِ سلاسل میں نبی کریمﷺ نے 12 ہزار کافروں کے مقابلے میں پہلے سیدنا ابوبکرؓ پھر سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو امیر بنا کر بھیجا۔

فنزل جبریلؑ علی محمدﷺ واخبرہ بقصتھم وما تعاقدوا علیه وتواثقوا وامرہ ان یبعث فلانا (ابوبکرؓ) الیھم فی اربعه الاف فارس من المہاجرین و انصار الی ان قال ثم قال یا معشر المسلمین انی امرت و جبرئیلؑ امرنی عن اللہ ان ابعث الیھم فلانا (عمرؓ) فی الصحابہ اربعۃ الاف۔

ترجمہ: جبرائیل امین علیہ السلام نازل ہوا اور نبی کریمﷺ کو کفار کے قصہ کی خبر دی جو انہوں نے آپس میں معاہدے کیے تھے ان کی بھی اطلاع دی اور حکم دیا کہ ان کے مقابلے کے لیے مہاجرین و انصار میں سے چار ہزار سواروں کہ ہمراہ سیدنا ابوبکرؓ کو بھیجوں اے جماعتِ مسلمین مجھے حکم ملا ہے اور مجھے جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کی طرف سے حکم دیا ہے کہ میں ان کفار کے مقابلے میں سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ جو 4 ہزار ہیں بھیجوں۔

(2)۔ تفسیر صافی طبع ایران سورۃ العادیات صفحہ 843۔

فنزل جبرائیلؑ قد اخبرنی وامرنی ان اسیر الیھم ابابکرؓ

بامرہ وان جبرائیلؑ امرنی عن اللہ ان ابعث الیھم عمرؓ فسر یا عمرؓ۔

(3)۔ تفسیر فرات ابراہیم طبع قدیم ایران۔

فنزل جبرائیلؑ علی محمدﷺ فاخبرہ بقصتھم وامرہ یبعث ابا بکر الیھم فی اربعۃ الاف ثم وان جبرائیلؑ امرنی ان ابعث عمرؓ مکانه الیھم۔

(4)۔ حیات القلوب جلد 2 صفحہ 521۔520۔

بس جبرائیلؑ نازل شدہ قصہ ایشا نرا برائے آنحضرت نقل کردو از جانب خدا مامور گردانید آنحضرت راکہ ابوبکرؓ رابا چہار ہزار سوار از مہاجرین و انصار بجنگ ایشاں بفرستد حضرت رسولﷺ ابوبکرؓ مرا از جانب خدا امرمی کند کہ عمرؓ را بجائے اوفر ستم با چہار ہزار سوار باعمرؓ برو بانام خدا۔

صفحہ 22 از 27