آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 23 از 27

یہ چاروں شیعہ کی معتبر کتابیں ہیں ان میں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی عمارت کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضور اکرمﷺ نے انہیں یکے بعد دیگرے امارت سونپی اس کا وزن کم کرنے کے لیے راویوں نے اپنی طرف سے آخر میں یہ دم لگائی کہ سیدنا ابوبکرؓ بھی بھاگ کے آگئے پھر سیدنا عمرؓ بھی بھاگ کے آگئے۔

تقیہ کی آڑ میں ایسی کوششیں کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں مگر اس سے شیخینؓ کی امارت پر اور من جانب اللہ مامور ہونے پر کیا فرق پڑتا ہے؟ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ بزدل تھے جنگ سے بھاگ آئے اس انداز سے سوچیں تو اس سے ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے کہ سیدنا علیؓ تو ان دونوں سے بزدل جو ان بزدلوں کے سامنے ٹھہر نہ سکے اور اپنا حق نہ لے سکے اور شیعوں کا خدا ان سے بھی بزدل تھا جو ان بزدلوں سے سیدنا علیؓ کا حق بھی نہ دلوا سکا آدمی سلیقے سے جھوٹ بولے تو کبھی کبھی بات بن جاتی ہے مگر شیعہ راویوں کو تو صرف تقیہ کی عبادت سے غرض ہوتی ہے سلیقہ کا کم ہی خیال رکھتے ہیں۔

گزشتہ صفحات میں شیعہ کی تفسیر قمی تفسیر صافی تفسیر المیزان تفسیر منہج الصادقین تفیسر مجمع البیان اور حملہ حیدری علامہ باذل کے حوالے گزر چکے ہیں کہ حضور اکرمﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بعد سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے خلیفہ ہونے کی خبر دی اگر خلافت منصوصی ہی ہے تو شیخینؓ کی خلافت پر حضورﷺ کا بار بار کا فرمان نص ہے اور اگر اس سے انکار نہ کیا جائے کہ "

وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ۝۔ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡىٌ۬ يُوحَىٰ۝۔ (سورۃ النجم آیت نمبر 3۔4)

تو حضور اکرمﷺ اپنے سامنے سیدنا ابوبکرؓ کو اپنے مصلیٰ پر کھڑا کر کے عملاً ان کی خلافت پر نص قائم کر گئے۔

آیتِ استخلاف میں خلیفہ بنانے کی نسبت خدا کی طرف سے ہے:

یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ آیتِ استخلاف میں اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنانے کی نسبت اپنی طرف کی ہے مگر خلفائے ثلاثہؓ کو مہاجرین و انصار نے خلیفہ بنایا لہٰذا یہ آیت کا مصداق نہیں بن سکتے۔

چونکہ بات علمی انداز میں کہی گئی ہے اس لیے بظاہر وزنی معلوم ہوتی ہے مگر یہ علمی نکتہ جب عملی حقائق کے سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو نہایت بودا نظر آتا ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ جس طریقے سے خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت عمل میں آئی ٹھیک اسی طریقے سے سیدنا علیؓ کو خلیفہ بنایا گیا اگر استخلاف کی نسبت خلفائے ثلاثہؓ کے حق میں درست نہیں معلوم ہوتی تو کیا سیدنا علیؓ کو خلیفہ بنانے کے لیے اللہ نے کوئی فرشتے نازل کیے تھے کہ انہیں اٹھا کر تخت خلافت پر بٹھا دیں ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مہاجرین و انصار نے انتظار کیا کہ سیدنا علیؓ کو اللہ تعالیٰ خود خلیفہ بنائے گا مگر جب انتظار طویل ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے مافوق الفطرت انتظام نہ کیا تو مہاجرین و انصار نے سمجھ لیا کہ اللہ تو انہیں خلیفہ بناتا نہیں چلو ہم ہی سیدنا علیؓ کو خلیفہ بنا دیں مگر یہی کچھ تو وہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کے انتخاب کے وقت کر چکے تھے اگر وہاں انتہا آپ کی نسبت غلط سمت کو مڑ گئی تو سیدنا علیؓ کے انتخاب کے وقت وہ نسبت کیسے درست قرار پائی۔

اگر سیدنا علیؓ کے پاس خلافت پر کوئی نص ہوتی تو خلفائے ثلاثہؓ میں سے کسی کے انتخاب کے وقت پیش تو کرتے مگر تاریخ شاہد ہے کہ انہوں نے کسی موقع پر نص پیش کرنا تو کیا نص کا ذکر ہی نہیں کیا حتیٰ کہ سیدنا علیؓ نے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ کے مقابلے میں نص کی بجائے مہاجرین و انصار کے اجماع کو بطورِ دلیل پیش کیا جس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

(2)۔ سیدنا علیؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو جو خط لکھا اس کا متن شیعہ کی معتبر کتاب شرح نہج البلاغہ علامہ بحرانی جلد 4 صفحہ 356۔355۔

زعمت انه انما افسد علی بیعتک خطیئتی فی عثمانؓ لعمری ما کنت الا رجلا من المہاجرین اور دت کما اور دوا وصدرت کما صدروا وما کان اللہ لیجمھم علی ضلال ولا یضربھم بعمی واما ما زعمت ان اھل الشام حکام علی اھل الحجاز فھات رجلین من قریش الشام یقبلا فی الشوری ان تحل لھا الخلافۃ فان زعمت ذلک کذبک المھاجرون والانصار۔

ترجمہ: (اے سیدنا امیرِ معاویہؓ) تمہارا خیال ہے کہ آپ کی بیعت جو مجھ سے ہوئی اسے خونِ سیدنا عثمانؓ کے گناہ نے فاسد کر دیا ہے مجھے اپنی جان کی قسم میں مہاجرین میں سے ایک فرد ہوں مہاجرین جس راہ پر چلے ان کی طرح میں بھی اسی راہ پر چلا جیسے انہوں نے چھوڑا ایسے میں نے بھی چھوڑا اور یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ مہاجرین و انصار کو دل کا اندھا بنا کر گمراہی پر جمع کر دے اور اگر آپ شام کے دو قریشی جو شوریٰ کے لیے مقبول ہوئے ہوں پیش کریں کہ ان کے لیے خلافت ہے (میری بیعت کے بعد) اگر آپ کا یہی خیال ہے تو مہاجرین و انصار اس خیال کی تکذیب کریں گے۔

ایضاً جلد 4 صفحہ 357۔

وھی کونھا بیعۃ واحدۃ باتفاق المھاجرین والانصار الذین ھم اھل الحل والعقدہ من امۃ محمدﷺ وھذہ صغریٰ من شکل الاول وتقدیر کبریٰ وکل بیعۃ وقعت کذالک فلا یشنی فیھا نظر ولا یستانف فیھا خیار وکل ما سبق من حال الائمۃ الئلاثهؓ (خلفائے ثلاثہؓ) قبله علیه السلام اذلم یکن لاجدان یثنی فی بیعتھم نظر اولا یستانف خیارا بعد ان عقدھا المھاجرون والانصار لاحدھم ثم اشار الی حکم من لم يدخل فی بيعته و هم قسمان لان من لم يدخل فيها اما ان يخرج عنها او يقف فيها فحكم الخارج عنها ان يكون طاعنا فی صحتها و انعقادها فيجب ان يجاهد و يقاتل حتىٰ يرجع اليها اذهى سبيل المومنين كما سبق وحكم الواقف فيها والمتردی فی صحتها انه مداهن وهو نوع من النفاق و مستلزم للشك فی سبيل المومنين و وجوب اتباعه۔

صفحہ 23 از 27