آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 24 از 27

ترجمہ: اور بیعت ایک ہی ہے جو امتِ محمدیہﷺ کے ارباب حل و عقد مہاجرین و انصار کے اجماع اور اتفاق سے ہوئی ہے یہ صغریٰ شکل اول کا تھا اب کبریٰ جو بیعت مہاجرین و انصار کے اجماع سے ہو جائے اس میں نظرِ ثانی نہ ہوگی اور نہ اس میں کسی کا اختیار چلے گا اور خلفائے ثلاثہؓ کی بیعت کا جو حال گزر چکا ہے ان کی بیعتِ خلافت میں کسی کو نظرِ ثانی کرنے یا نہیں راہ نکالنے کا اختیار نہیں رہا جس بیعت کا انعقاد مہاجرین و انصار کے ہاتھوں ہو چکا تھا پھر سیدنا علیؓ اس آدمی کے متعلق حکم کی طرف اشارہ کیا جو بیعتِ خلافت میں داخل نہیں ہوا کہ اس کے لیے دو راستے ہیں اور وہ آدمی دو قسم کے ہیں یا تو مسئلہ خلافت میں طعن گھر کے مہاجرین و انصار کی مخالف کی راہ اختیار کرے گا تو ایسے آدمی کے خلاف جہاد کیا جائے تاکہ وہ اہلِ ایمان کی راہ پر پلٹ آئے یعنی بیعتِ خلافت میں مسلمانوں کے ساتھ متفق ہو جائے دوسرا وہ شخص جو بیعت تو کریں مگر صحت امامت و خلافت میں متردد ہو اور تسلیم کرنے میں پس وہ پیش کرے وہ ایک قسم کا منافق ہے اسے اہلِ ایمان کی راہ کے متعلق شک ہے اس پر واجب ہے کہ مسلمانوں کی راہ اختیار کرے اور ان کی اتباع کرے اس راہ میں شک کرنا نفاق ہے۔

ایضاً جلد 3 صفحہ 339۔

ایھا الناس ان احق الناس بھذا الامر اقوی لھم علیھم واعلمھم یامر اللہ فیه فان شغب مشاغب استعب فان ابی قوتل و لعمری لئن کانت الامامۃ لا تنعقد حت یتحضرھا عامۃ الناس فما الی ذلک سبیل ولکن اھلھا یحکمون علی من غاب عنھا ثم لیس للشاھد ان یرجع ولا للغائب ان یختار الاوانی اقاتل رجلین رجلا ادعی مالیس له واخر منع الذی علیه۔

ترجمہ: لوگو! خلافت کا سب سے زیادہ حقدار وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قوی ہو اور احکامِ شرعی کا زیادہ عالم ہو اگر کوئی اس کا اعتراض کرے تو اسے سمجھایا جاوے اور اگر انکار کرے تو قتل کر دیا جائے میری جان کی قسم! اگر خلافت کا انعقاد اس طریقہ سے ہو کے تمام عوام اس پر جمع ہو جائیں تو اس انعقاد کا کوئی راستہ نہیں لیکن جو خلافت منعقد کرنے کے اہل ہیں اگر وہ فیصلہ کریں تو ان کا حکم غائب پر بھی ہے حاضر کے لیے رجوع کا کوئی حق نہیں اور غائب کوئی اور اختیار کرنے کا مجاز نہیں خبردار میں ان آدمیوں سے لڑوں گا جو خلافت کا حقدار ہونے کا دعویٰ کرے اور اس سے جو امام کی مخالفت کرے گا۔

سیدنا علیؓ کے اس خطبے کی شرح علامہ میثم بحرانی نے یوں کی ہے

الاول بیان احکام الذی ھو احق الناس بامر الخلافۃ و حصر الا حق به فی امرین احدھما اقوی الناس علیه وھو الاکمل قدرۃ علی السیاسۃ والاکمل علما بمواقعا وکیفیاتھا و کیفیت تدبیر المدن والمعروف و ذالک یستلزم کونه اشجع وبیان کیفیۃ انعقاد الامامۃ بالاجماع فبین لقوله لعمری الی قوله ما الی ذالک سبیلا ان الاجماع لایعتبر فیه دخول جمیع الناس حتیٰ العوام اذلو کان ذلک لاوی الی ان کا ینعقد اجماع قط فلم تصح امامه احدا بدالتعذر اجتماع المسلمین بامر من اطراف الارض بل المعتبر فی الاجماع انفاق اھل الحل والعقد من امۃ محمدﷺ فلیس لاحد منھم بعد انعقادھا ان یرجع ولا عن عداھم من العوام ومن غاب عنھا ان یختاروا غیر من اجمع ھؤلاء علیه۔

ترجمہ: پہلے ان احکام کا ذکر ہے جو سب سے زیادہ حقدار خلافت کے متعلق ہیں اس حقدار کو دو اوصاف میں بند کر دیا ہے پہلا یہ کہ سب سے قوی ہو وہ شخص سیاست پر کامل قدرت رکھتا ہے مواقع خلافت کا کامل علم رکھتا ہے شہروں کی آبادی کی کامل تدبیر جانتا ہے فنِ جنگ سے خوب واقف ہے ان اوصاف کا مالک سے زیادہ بہادر ہوگا اجماع کے ذریعے امامت کے انعقاد کی کیفیت بیان کرتے ہوئے اپنے قول "میری جان کی قسم تا اس کا کوئی راستہ نہیں" میں فرمایا اس اجماع کا کوئی اعتبار نہیں جس میں تمام عوام جمع ہوں کیونکہ یہ محال ہے اس طرح تو خلافت پر اجماع ہو ہی نہیں سکتا پھر تو خلافت کبھی صحیح نہ ہوگی کیونکہ دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کا اکٹھا ہونا محال ہے بلکہ اجماع معتبر وہ ہے جو امت کے اہلِ حل و عقد صائب الرائے لوگوں کا اجماع ہو اس اجماع سے جو خلافت منعقد ہو جائے اس کے بعد کسی مسلمان کو اختیار نہیں کہ اس سے منہ پھیرے اور نہ کسی غائب کو حق ہے کہ مسلمانوں کی اصلاح کے بغیر کوئی اور راہ اختیار کرے۔

  1.  حقیقی اور صحیح خلافت وہ ہے جو مہاجرین و انصار کے اجماع سے منعقد ہو کیونکہ امتِ محمدیہ میں اہلِ حل و عقد اور صائب الرائے وہی ہیں۔
  2.  اس امر کا کوئی امکان نہیں کہ اللہ تعالیٰ مہاجرین و انصار کو دل کا اندھا بنا کر کسی گمراہی پر جمع کر دے۔
  3.  مہاجرین و انصار کے اجماع کے بعد دوسرے لوگوں کا دو قسم کا رد عمل ہو سکتا ہے اول وہ شخص جو اس اجماع پر طعن کر کے مخالفت کی راہ اختیار کرے ایسے آدمی کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے دوسرا وہ شخص جو بیعت تو کریں مگر صحت خلافت میں متردد ہو تو ایسا شخص منافق ہے اس کی راہ مسلمانوں کی راہ سے الگ ہے۔
  4.  حاضرین میں سے جو شخص بیعت کرے اسے رجوع کا کوئی اختیار نہیں۔
  5. جو شخص اجماعی منتخب خلیفہ کے مقابلہ میں خلافت کا حقدار ہونے کا دعویٰ کرے میں اس کے خلاف لڑائی کروں گا۔

سیدنا علیؓ کے اس عقیدے کے آئینے میں خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت اور سیدنا علیؓ کے کردار کا جائزہ لیجیے:

(1)۔ خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت کا انکار مہاجرین و انصار کے اجماع سے ہوا جو امتِ محمدیہ میں مسلمہ ارباب و حل و عقد ہیں لہٰذا ان ایک لفظ صحیح اور وہ اپنے اپنے وقت خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ثابت ہوئے اور سیدنا علیؓ کا عقیدہ یہی ہے اور یہی اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے۔

(2)۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا علیؓ نے ان کی خلافت کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے ان کی بیعت کی یا کوئی دوسرا ردِ عمل اختیار کیا اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے ان حضرات کو خلافت کا صحیح حقدار سمجھ کر ان کی کی اور جس طریقے سے ان کی خلافت منعقد ہوئی سیدنا علیؓ نے ان طریقہ کو صحیح اور معیاری طریقہ بیان فرمایا۔

صفحہ 24 از 27