آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 25 از 27

اگر بقول شیعہ یہ تسلیم کیا جائے کہ سیدنا علیؓ نے ان کی خلافت پر طعن کر کے ان کی مخالفت کی تو سیدنا علیؓ ایسا شخص اس قابل ہے کہ اس کے خلاف جہاد کیا جائے اور اگر بقول شیعہ بیعت تو تقیہ کر کے کر لی مگر صحت خلافت میں انہیں تردد رہا تو بقول سیدنا علیؓ ایسا شخص منافق ہے اب یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ شیعہ کا قول معتبر ہے یا سیدنا علیؓ کا ارشاد اور عقیدہ۔

اب اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ جس کام کی نسبت اللہ کی طرف ہو وہ کام کیسے انجام پاتا ہے یا ظہور میں آتا ہے قرآنِ کریم کی متعدد آیات میں اس حقیقت کی طرف رہنمائی ہوتی ہے مثال کے طور پر چند آیات پیش کی جاتی ہیں۔

فَلَمۡ تَقۡتُلُوهُمۡ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمۡ‌ۚ الخ۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 17)۔

اب یہ دیکھنا ہے کہ کیا اللہ نے تلوار چلا کر کفار کو قتل کیا تھا یا اللہ نے مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ تلوار ہاتھ میں لے کر اللہ کے باغیوں کو قتل کریں۔

وَمَا رَمَيۡتَ إِذۡ رَمَيۡتَ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ‌ۚ الخ۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 17)۔

کیا اللہ نے اپنی مٹھی میں خاک لے کے دشمنان اسلام کی طرف پھینکی تھی یا ہاتھ نبی کریمﷺ کا تھا اور یہ بات حضورﷺ کہ دل میں اللہ نے ڈالی تھی؟۔

وَڪَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍ۬ لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَهَا ٱللَّهُ يَرۡزُقُهَا الخ۔ (سورة العنکبوت آیت نمبر 60)۔

اللہ رزق کیسے دیتا ہے کیا خوراک کی بوریاں بھر کر آسمان سے پھینکتا ہے یا اس کی صورت یہ ہے کہ اللہ نے اپنی وسیع زمین میں روئیدگی کی طاقت پیدا کر کے رزق پھیلا دیا اور حیوانات کی جبلت میں داعیہ رکھ دیا کہ اپنا رزق تلاش کریں اور اللہ کے وسیع خزانے سے خاص کریں۔

نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْؕ الخ۔ (سورة بنی اسرائیل آیت نمبر 31)۔

تمہیں اور تمہارے متعلقین کو اللہ رزق کیسے دیتا ہے کیا اللہ نے آسمانوں پر کہیں روٹی پلانٹ لگا رکھے ہیں کہ پکی پکائی روٹی ہر آدمی کہ گھر پہنچ جاتی ہے یا اس کی صورت یہ ہے کہ سامان رزق زمین میں فراوانی سے پھیلا دیا اور ہر آدمی کے اندر یہ خواہش اور قوت رکھ دی کہ اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق خدا کے اس وسیع خزانے سے اپنا اپنا حصہ حاصل کریں۔

اس قسم کی بیسیوں آیتیں اللہ کی کتاب میں جا بجا ملتی ہیں اس اصول میں آیتِ استخلاف پر غور کریں۔

زمین پر اپنا خلیفہ بنانے کا طریقہ کیا یہی ہے کہ آسمان سے ایک تخت اتارا جائے کہ ایک تاج ہو کنگن ہوں فرشتے آئیں اور اللہ کے مقرر کردہ آدمی کو اٹھا کر تختِ خلافت پر بٹھا دیں یا اس کی صورت سنت اللہ کے مطابق یہی ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے دلوں میں ایک بار ڈال دے ان میں اربابِ حل و عقد کسی موزوں آدمی کو خلیفہ چن لیں ظاہر ہے کہ قابلِ عمل سورۃ وہی ہے جو سیدنا علیؓ نے بیان کر دی کہ خلافت کا انعقاد مہاجرین و انصار کے اجماع سے ہوا جس کو یہ لوگ حقدار سمجھیں اللہ کے نزدیک وہی حقدار ہے۔

اور "لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِى ٱلۡأَرۡضِ" کی عملی تفسیر یہی ہے اور یہی منصوصی خلافت کا مفہوم ہے۔

اگر اس کے بغیر کوئی مراد ہو اور سیدنا علیؓ کی خلافت کو کسی اور مفہوم کے اعتبار سے منصوصی کہا جائے تو اس کی صورت کچھ اس طرح ہو سکتی ہے جیسے ارشاد باری ہے يَـٰدَاوٗدُ إِنَّا جَعَلۡنَـٰكَ خَلِيفَةً۬ فِى ٱلۡأَرۡضِ الخ۔ (سورة ص آیت نمبر 26)۔ اسی طرح ہونا چاہیے تھا یا علی انا جعلناک خلیفۃ بعد رسول اللہ مگر اس قسم کی کسی نص کا سراغ نہیں ملتا۔

آیتِ استخلاف میں خلیفہ بنانے کی جو نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی ہے اس کی حقیقت بیان ہو چکی البتہ یہ اصول سمجھ لینا چاہیے کہ عدم سے جو چیز وجود میں آتی ہے وہ حکمِ الٰہی ہی آتی ہے صفحہ 295 بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں خصوصی شرف اور اعلیٰ درجہ کی عظمت پائی جاتی ہے تو ان کی نسبت ذاتِ باری کی طرف کر دی جاتی ہے جیسے بیتُ اللہ کعبۃُ اللہ مساجدُ اللہ روحُ اللہ وغیرہ اسی طرح منصبِ خلافت کے شرف کے اعتبار سے اس کی نسبت اللہ نے اپنے طرف کی ہے اسی قبیل سے یہ ارشاد باری ہے کہ: وَٱذۡڪُرُوٓاْ إِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعۡدِ عَادٍ الخ۔ سورة الاعراف آیت نمبر 74)۔ اور وَٱذۡڪُرُوٓاْ إِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوحٍ الخ۔ (سورة الاعراف آیت نمبر 69)۔

سیدنا علیؓ کے خلافت کا منصوصی ہونا اور مفترض الطاعتہ وغیرہ ہونا دراصل ایک خاص یہودی ذہن کی پیداوار ہے جس کی نشاندہی شیعہ کی کتب میں متعدد مقامات پر کی گئی ہے مثلاً الشیعہ علامہ نوبختی طبع نجف اشرف مطبع حیدریہ صفحہ 40:

اصحاب عبداللہ بن سباء وکان ممن اظھر الطعن علی ابی بکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ والصحابۃؓ وتبرا منھم وقال ان علیاؓ علیه السلام امرہ بذلک فاخذہ علی فسئاله عن قوله ھذا فاقربه فامر بقتله فصاح الناس الیه یا امیر المومنین اتقتل رجلا یدعوا الی حکم اھل البیت والی ولایتک والبرأت من اعدائک فیصرہ الی المدائن وحکی جماعۃ من اھل العلم من اصحاب علی علیه السلام ان عبداللہ سباء کان یھودیا فاسلم ورالی علیاؓ وکان یقول وھو علی یھودیتۃ فی یوشع بن نون بعد موسیٰ علیہ السلام بھذہ المقالۃ فقال فی اسلامه بعد وفات النبیﷺ علیؓ بمثل ذلک وھو اول من اشھر القول بفرض اماتۃ علی علیه السلام واظھر البرأۃ من اعدائه وکاشف مخالفیه فمن ھناک قال من خالف الشیعۃ ان اصل الرفض ماخوذ من الیھودیۃ ولما بلغ عبداللہ بن سباء نعیء لی بالمدائن قال للذی نعاہ کذبت لو جئتنا بدماغه فی سبعین عدلا علمنا انه لم یمت ولم یقتل ولا یموت حتیٰ یملک الارض۔

صفحہ 25 از 27