آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 26 از 27

ترجمہ: عبداللہ بن سباء پہلا آدمی ہے جس نے خلفائے ثلاثہؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن اور تبرا بازی شروع کی اور کہا کہ سیدنا علیؓ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے سیدنا علیؓ نے اس کو گرفتار کیا اور اس قول کے متعلق پوچھا تو اس نے اقرار کیا سیدنا علیؓ نے اس کو قتل کر دینے کا حکم دیا اس پر اس کے ہم خیال لوگوں نے واویلا مچا دیا اور سیدنا علیؓ سے کہا کہ آپؓ ایسے شخص کو قتل کرتے ہیں جو لوگوں کو آپ کی اور اہلِ بیتؓ کی دعوت دیتا ہے اور آپ کے دشمنوں سے بیزاری ظاہر کرتا ہے تو آپ نے ابنِ سباء کو مدائن کی طرف جلا وطن کر دیا اور اصحابِ علی کی ایک جماعت نے بیان کیا کہ عبداللہ ابنِ سباء یہودی تھا پھر مسلمان ہونا ظاہر کیا اور سیدنا علیؓ سے محبت کا اظہار کرنے لگا جب یہودی تھا تو موسیٰ علیہ السلام کے بعد یوشع بن نون علیہ السلام کے متعلق یہی بات کہتا تھا جو اس نے نبی کریمﷺ کے بعد سیدنا علیؓ کے متعلق کہی وہ پہلا آدمی تھا جس نے سیدنا علیؓ کی امامت و خلافت کے فرض ہونے کا اعلان کیا اور تبرا بازی شروع کی اور ان کے مخالفوں کی کھلی مخالفت کی وجہ سے شیعہ کے مخالفین کہتے ہیں کہ شیعوں کا مذہب یہودیت سے ماخوذ ہے جب مدائن میں ابنِ سباء کو سیدنا علیؓ کے قتل یعنی شہادت کی خبر ملی تو خبر دینے والے سے کہا تم جھوٹ بولتے ہو اگر تم سیدنا علیؓ کا دماغ 70 تھیلیوں میں لپیٹ کے لائے اور 70 گواہ پیش کرتے تب بھی ہم کہتے کہ وہ فوت نہیں ہوئے اور وہ اس وقت تک نہیں مریں گے جب تک پوری زمین کے مالک نہ ہو جائیں۔

اور رجال مامقانی جلد 2۔3 صفحہ 184 باب عبداللہ بن سباء:

وکان اول من اشھر بالقول بفرض امامۃ علی واظھر البرأۃ من اعدائه وکاشف مخالفیه وکفرھم فمن ھنا قال من خالف الشیعۃ ان اصل التشیع والرفض ماخوذ من الیھود۔

ترجمہ: یہ پہلا شخص تھا جس نے سیدنا علیؓ کی امامت کا فرض ہونا مشہور کیا اور ان کے دشمنوں سے برأت کا اظہار کیا اور ان کی تکفیر کی اس وجہ سے شیعہ کی مخالف کہتے ہیں کہ مذہب شیعہ اور رفض یہودیت سے اخذ کیا گیا ہے۔

اسی طرح شیعہ کی اسماء الرجال کی مستند کتاب رجال کشی میں صفحہ 70۔71 پر ابنِ سباء کے پورے حالات درج ہیں۔

ان اِقتباسات سے صاف ظاہر ہے کہ سیدنا علیؓ کے امامت اور ولایت ان کے مفترض الطاعۃ ہونے کے متعلق کوئی نص یا کوئی سند حضرات خلفائے کے عہد کے اختتام تک سامنے نہ آئی اور سیدنا علیؓ کے عہد میں سامنے آئی تو ایک یہودی کی زبانی اور وہ بھی اس پائے کا ثقہ آدمی کہ سیدنا علیؓ نے اس کے اسم کو اس پر اسے قتل کر دینے کا حکم دیا یہ عجیب نص ہے کہ سیدنا علیؓ کو تو خبر بھی نہیں اور ایک بہروپئے یہودی پر یہ راز منکشف ہو گیا اور وہ بھی ایسے وقت میں کہ خلافت بلافصل کا موقع سے جاچکا تھا یہ افسانہ تو عجائبات عالم میں شمار ہونے کے لائق معلوم ہوتا ہے محدث جلیل اور مفسرِ قرآن حافظ عماد الدین ابنِ کثیر نے سیدنا علیؓ کی خلافت منصوصی و اجماعی پر اصولی بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ شیعہ عقیدہ کے مطابق تو سیدنا علیؓ خلافت کے حقدار ہو ہی نہیں سکتے۔

البدایه والنہایه جلد 5 صفحہ 252:

ثم کم کان مع علیؓ ابنِ ابی طالب نص فلم کا یجتح به علی الصحابۃ علی اثبات امارته علیھم وامارته علیھم وامامته علیھم فان قالوا (شیعہ) لم یقدر علی تنفیذ ما معه من النص فھو عاجز و والعاجز لا یصلح للامامۃ والا مارۃ وان کان یقدر ولم یفعله فھو خائن والخائن الفاسق مسلوب معزول عن الامارۃ وان لم یعلم بوجود النص فھو جاھل ثم وقد عرفه علمه من بعدہ ھذا محال وجھل وضلال وھذا یحسن فی اذھان الجھلۃ الطغام۔

ترجمہ: اگر سیدنا علیؓ کے پاس اپنی خلافت پر کوئی نص تھی انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سامنے بطورِ حجت کیوں پیش نہیں کی اگر شیعہ کہیں کہ آپ اس نص کو نافذ کرنے پر قادر نہیں تھے لہٰذا پیش نہیں کی اس کا مطلب یہ ہے کہ عاجز تھے اور عاجز آدمی امامت و خلافت کا اہل نہیں ہوتا لہٰذا وہ خلافت کے اہل ہی نہیں تھے اور اگر کہیں کہ قادر تو تھے مگر عمداً ظاہر نہیں کی تو وہ خائن ثابت ہوئے اور خائن تو فاسق ہوتا ہے وہ امارت کا اہل نہیں ہوتا اور اگر کہیں کہ سیدنا علیؓ کو نص کا علم نہیں تھا تو وہ جاہل ثابت ہوئے اور اگر کہیں کہ بعد وفات ان کو نص کا علم ہوا تو یہ ماحول ہے اور جہالت اور گمراہی ہے یہ آخری بات جاہلوں اور باغیوں کو بھلی معلوم ہوتی ہے ورنہ نص سیدھے سے وجود ہی نہیں۔

علامہ ابنِ کثیر نے شیعہ کے تمام مفروضے بیان کر کے اصولاً ثابت کر دیا کہ شیعہ عقیدہ کے مطابق تو سیدنا علیؓ مطلق خلافت کے اہل نہیں ثابت ہوئے خلافت بلافصل تو دور کی بات ہے۔

فضیلتِ شیخینؓ اور سیدنا علیؓ:

خلفائے ثلاثہؓ کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے والے ان کے کردار اور بہتان درازی کرنے والے اگر سیدنا علیؓ کی ذات اور ان کے خیالات کا ہی احترام کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو آنکھیں کھل جاتیں مگر جسے اپنی آنکھیں میچ لینے پر ہی اصرار ہو اس کی آنکھیں کون کھولے آئیے ذرا سیدنا علیؓ کے ارشادات دیکھیں۔

(1)۔ شرح نہج البلاغہ علامہ بحرانی طبع جدید جلد 4 صفحہ 362 سیدنا علیؓ کا ارشاد سیدنا امیرِ معاویہؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں

وکان افضلھم فی الاسلام کما زعمت والضحھم للہ و لرسوله الخلیفۃ الصدیقؓ و خلیفۃ الخلیفه الفاروقؓ ولعمری ان مکانھما فی اسلام لعظیم عام المصاب بھما لحرج فی الاسلام شدید یرحمھا اللہ وجزاھما باحسن ما عملا۔

ترجمہ: (اے سیدنا امیرِ معاویہؓ) جیسا کہ تمہارا خیال ہے کہ اسلام میں سب سے افضل اور اللہ و رسولﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ کھڑا معاملہ رکھنے والا خلیفہ سیدنا صدیق اکبرؓ تھا اور خلیفہ کا خلیفہ سیدنا عمرؓ تھا مجھے اپنی جان کی قسم ان دونوں کا درجہ اسلام ہے بڑا عظیم ہے ان کی موت نے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ان پر خدائی رحمت ہو اللہ ان دونوں کو جزائے احسن دے۔

سیدنا علیؓ کے اس مختصر خطاب میں کتنی عظیم حقیتوں کا اظہار ہے۔

صفحہ 26 از 27