آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 27 از 27
  1.  اسلام میں سب سے افضل سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہیں۔
  2.  اللہ رسولﷺ کے ساتھ ان دونوں جیسا کھرا معاملہ اور کسی نے نہیں کیا۔
  3.  ان کی موت سے اسلام کو بہت نقصان پہنچا۔
  4.  یہ دونوں اللہ کی رحمتوں اور احسن جزا کے مستحق ہیں۔

(2)۔ شافی شریف مرتضیٰ علم الھدیٰ طبع ایران جلد 2 صفحہ 428۔

سیدنا علیؓ نے مجمع عام میں ایک خطبہ دیا جس کا ایک ایک لفظ ایمان افزا ہے فرماتے ہیں

اللھم اصلحنا بنا اصلحت به الخلفاء الراشدین قیل فمن ھم قال حبیبای و عمای ابوبکرؓ و عمرؓ اماما الھدی ورجلا قریش والمقتدی بھما بعد رسول اللہ وشیخا الاسلام من افتدیٰ بھما عصم ومن اتبع اٰثارھما ھدی الی صراط مستقیم۔

ترجمہ: الہٰی ہماری اس طرح اصلاح فرما جیسے تو نے خلفائے راشدینؓ کی اصلاح فرمائی پوچھا گیا کہ خلفائے راشدینؓ کون سے فرمایا میرے دوست میرے بزرگ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ وہ ہدایت کے عوام تھے قریش کے زعیم تھے اور رسول کریمﷺ کے بعد امام اور مقتدی تھے وہ شیخ الاسلام تھے جس نے ان کی اقتداء کی گمراہی سے بچ گیا ہے جو ان کے نقش قدم پر چلا صراطِ مستقیم پا گیا۔

شیخینؓ کے ساتھ سیدنا علیؓ کی عقیدت ملاحظہ ہو:

  1. ان دونوں کو حلیفہ برحق تسلیم کیا۔
  2. سب سے پہلے ان کو خلفائے راشدینؓ کا لقب دیا۔
  3.  اپنا محبوب اور قابلِ احترام بزرگ قرار دیا۔
  4.  قریش میں ان کے ارفع مقام کا ذکر کیا۔
  5.  ان کی ذات کو نبی کریمﷺ کے بعد مسلمانوں کے لیے مقتدی تسلیم کیا یہ اسی کی صدائے بازگشت معلوم ہوتی ہے جو حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ "اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکرؓ و عمرؓ"۔
  6. ان کی پیروی کو گمراہی سے بچاؤ کا قلعہ قرار دیا۔
  7.  ان کی اتباع کو ہدایت اور صراط مستقیم قرار دیا۔

کیا مدعیانِ محبتِ سیدنا علیؓ کو جھنجوڑنے کے لیے اس سے زیادہ قوت کی بھی ضرورت ہے یاد رہے کہ یہ خطبہ سیدنا علیؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں مجمع عام میں دیا جب انہیں پورا اقتدار حاصل تھا کوئی خوف و خطر نہ تھا کہ تقیہ کرنے کی ضرورت ہو۔

(3)۔ شافی جلد 2 صفحہ 428:

روی ابو حجفه و محمد بن علی و عبد خیر وسوید بن غفله وابو حکیم وغیرھم وقد قیل اربعۃ عشر رجلا ان علیا علیه السلام قال فی خطبته خیر ھذہ الامۃ بعد نبیھا ابوبکر و عمر وفی بعض الاخبار انه علیه السلام خطب بذلک بعد ما انھی الیه ان رجلا تناول ابابکرؓ و عمرؓ بالشتمۃ قدعا به وتقدم بعقوبۃ بعد ان شھدوا وا علیه بذلک۔

ترجمہ: اور کہا گیا کہ 14 آدمیوں روایت ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا نبی کریمﷺ کے بعد اس امت میں سب سے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہیں بعض روایات میں ہے کہ آپ نے یہ خطبہ اس وقت لیا جب ان کو اطلاع ملی کہ کسی (شیعہ) نے شیخینؓ کو گالیاں دیں سیدنا علیؓ نے اسے طلب فرمایا شہادت لی اور اسے سبِ و شتم کرنے کی سزا دی۔

  1. اس خطبہ میں سیدنا علیؓ نے اپنا عقیدہ بیان فرمایا کہ امت میں سب سے افضل سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہیں۔
  2.  یہ خطبہ اس وقت دیا جب آپ کو اطلاع ملی کہ کسی نے شیخینؓ پر سبِ و شتم کیا ہے یعنی آپ کو ایسے نابکاروں سے بھی واسطہ پڑا جو آپؓ کی محبت کا دم کرتے ہیں اور آپؓ کے محبوبوں کو گالیاں دیتے ہیں۔
  3. آپؓ نے اسے طلب فرما کر شہادت لے کر سزا دی یعنی حجرت سیدنا علیؓ کے نزدیک شیخینؓ پر سبِ و شتم کرنا قابلِ تعزیر جرم ہے آج اگر سیدنا علیؓ ہوتے تو ان کے مواخذہ اور اس جرم کی سزا بھلا کوئی بچ سکتا تھا مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ امام ایک کام کو جرم قرار دیتے ہیں اور امام کی پیروی اور محبت کا دم بھرنے والے اسی کام کو عبادت سمجھتے ہیں۔

ببیں تفاوت راہ ازکجاست تایکجا۔

شافی جلد 1 صفحہ 171 سیدنا علیؓ کا ارشاد:

خیر ھذہ الامۃ بعد نبیھا ابوبکرؓ و عمرؓ وفی بعض الاخبار ولوا شاء اسمی الثالث لفعلت۔

ترجمہ: نبی کریمﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ ہیں بعض روایات میں ہے کہ اور اگر میں ایسا چاہوں کہ تیسرے کا نام لوں تو ایسا کر سکتا ہوں۔

اب اگر کوئی کہے کہ یہ تو امام نے تقیہ کر کے کہا تھا تو اسے کہنا چاہیے کہ تم بھی تقیہ کر کے ہی صحیح فضیلت کا اقرار کر لو ایک تو تقیہ کا ثواب لو دوسرے امام کی اتباع کا ورنہ تقیہ یہ ثواب سے محروم اور امام کے باغی شمار ہو گے۔


صفحہ 27 از 27