آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 27

گویا اللہ تعالیٰ نے امن کی تعریف بھی بیان فرمادی اور امن کا وہ نقشہ بھی دکھایا جو خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں دنیا نے دیکھ لیا چنانچہ علامہ قرطبی اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

 قلنا ليس فی ضمن الأمن السلامة من الموت باى وجه كان وليس من شرط الامن رفع الحرب و انما شرطه ملک الانسان لنفسه باختياره لا كما كان اصحاب النبیﷺ بمكة و حقيقة الحال انهم كانوا مقهورين فصار و اقاهرين و كانوا مطلوبين فصاروا طالبين وهذا نهاية الا من والشرف والعزة۔

ترجمہ: ہم کہتے ہیں کہ موت سے بچ جانے کا نام امن نہیں موت تو بہرحال آنی ہے خواہ کسی صورت میں آئے اور کفار سے جنگ نہ ہونا بھی شرائط امن میں سے نہیں امن کے لئے شرط یہ ہے کہ انسان اپنی جان کا مالک ہو اس پر اس کا اختیار ہو وہ صورت امن نہیں جو مکہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پیش رہی حقیقت یہ ہے مکہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مقہور و مغلوب تھے پھر غالب آگئے مکہ میں کفار ان کی تلاش میں رہتے تھے پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تلاش ہونے لگی کہ کفر کا قلع قمع کیا جائے یہ امن شرف اور عزت کی معراج ہے۔

 پھر یہ کہا جاتا ہے کہ آیت کا مصداق تو امام مہدی ہیں مگر یہ بات بھی نہیں بنتی کیوں کہ اول تو نزولِ آیت کے وقت امام مہدی کا وجود ہی نہیں تھا مخاطب کیونکر ٹھہرے پھر بقول شیعہ جب عالم وجود میں آئے تو عالم طفولیت میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے اور کسی غار میں چھپ گئے اور ایسے چھپے کہ صدیاں گزر گئیں مگر غار سے نکلنے کا نام نہیں لیتے خدا جانے یہ امن کی کونسی قسم ہے اس سورۃ میں "لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ" کے معنیٰ تو یوں نہیں گے کہ تمہیں غار پر مسلط کر دوں گا یا غار کو تم پر مسلط کردوں گا تسلط یہ امن یہ اور اس پر دعویٰ یہ کہ آیت کا مصداق امام مہدی ہیں جو بات کی خدا کی قسم لا جواب کی۔

پھر یہ کہا جاتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت اصحابِِ ثلاثہؓ کامل الایمان اور صالح الاعمال تھے اللہ تعالیٰ ان پر خوش ہوا اور انعامات کا اعلان کر دیا مگر بعد وفاتِ رسولﷺ حضرات نہ ایمان دار رہے نہ صالح الاعمال لہٰذا وعدہ کے پورا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یعنی خدا کو بدا ہو گیا شیعہ نے بدا کا عقیدہ ایجاد کر کے ایک محفوظ پناہ گاہ تلاش کر لی ہے اس عقیدہ کی تفصیل کے لئے دیکھئے ہماری کتاب "تحذیر المسلمين عن كيد الكاذبين“ 

آیتِ استخلاف کا مصداق:

اس آیت کا حقیقی مصداق معلوم کرنے کے لئے کیوں نہ ایسا ماخذ تلاش کیا جائے کہ پھر اختلاف کی گنجائش باقی نہ رہے بشرطیکہ اس ماخذ سے سچ سچ کا قلبی اور روحانی تعلق ہو ہاں تعلق کی محض ایکٹنگ ہو تو اختلاف کیا انکار بھی کیا جاسکتا ہے۔ 

چلئے ابوالائمہ سیدنا علیؓ سے ہی پوچھتے ہیں ان کی مشہور کتاب "نہج البلاغہ" شیعہ کے ہاں مستند اور مسلم ہے اس میں صفحہ 145 پر امیر المومنینؓ کا ایک خطبہ درج ہے جو علامہ کمال الدین میثم بن علی بحرانی نے اپنی کتاب "شرح نہج البلاغہ" میں جلد 3 صفحہ 194 پر درج کیا ہے ان کی وفات 679 ھجری ہے۔ 

اس خطبے کا پسِ منظر یہ ہے کہ فارس کی جنگ میں بہ نفسِ نفیس شامل ہونے کیلئے سیدنا عمرؓ نے سیدنا علیؓ سے مشورہ لیا شارح لکھتا ہے: کہ یہ قادسیہ کی جنگ تھی یا نہاوند کی تو سیدنا علیؓ نے فرمایا: 

ان هذا الأمر لم يكن نصره ولا خذ لانه بكثرة ولا قلة وهو دين الله الذی اظهره وجنده الذی اعده وامده حتىٰ بلغ ما بلغ وطلع حيثما طلع و نحن على موعود من الله والله منجز وعده وناصر جنده و مكان القيم بالأمر مكان النظام من الخزر يجمعه ويضمه فاذا انقطع النظام تفرق الخزر وذهب ثم لم يجتمع بحذا فيرا ابدا والعرب اليوم وان كانوا قليلا فهم كثيرون بالاسلام عزیزون بالاجتماع فكن قطبا واستدر الرحى بالعرب واصلهم دونك ناد الحرب فانک ان شخصت من هذه الارض انتقضت عليك العرب من اطرافها واقطارها حتىٰ يكون ماتدع ورائك من العورات اهم الیک مما بین یدیک۔

ان الا عاجم ان ينظروا اليك غدا يقولون هذا اصل العرب فاذا قطعتموه استرحتم فيكون ذلك اشد عليك وطمعهم فیک فاما ما ذكرت من مسير القوم الى قتال المسلمين فان الله سبحانه هو اكره لمسيرهم منك وهو اقدر على تغيير مايكره واما ما ذكرت من مدرهم فانا لم نكن نقاتل فيما مضى بالكثرة وان كنا نقاتل بالنصرة والمعونة۔ 

ترجمہ: بیشک یہ وہ دین ہے جس کے غلبہ یا شکست کا مدار کثرت و قلت پر نہیں بلکہ یہ وہ دین ہے جو اللہ کا ہے اللہ نے اس کی مدد فرمائی ہے اور یہ فوج وہ ہے جسے اللہ نے عزت دی ہے اور اس کی مدد فرمائی ہے یہاں تک وہ دین اس حال تک پہنچا جو تمہارے سامنے ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا کرنے والا ہے اور اپنی فوج کا مددگار ہے اور رئیس سلطنت کی حیثیت وہ ہے جو تسبیح کے دانوں کے لئے ڈور کی ہوتی ہے اگر ڈور ٹوٹ جائے تو سب دانے بکھر جاتے ہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ بکھرے ہوئے دانے پھر جمع نہیں ہوتے عرب قوم اگرچہ اس وقت قلت میں ہے مگر وہ بوجہ قوت اسلام کے کثیر ہیں اور اپنی اجتماعی قوت کی وجہ سے دنیا پر غالب ہیں اس لئے اے فاروق! آپ چکی کے قطب بن کر مرکز میں رہیں اور قوم سے جنگ کی چکی چلوائیں خود اس سے دور مرکز میں رہیں اگر آپ نے مرکز چھوڑا تو اطراف و جوانب سے عرب قوم مرکز پر ٹوٹ پڑے گی اور آپ کی غیر حاضری میں معاملات نازک صورت اختیار کر لیں گے۔ 

کل ایرانیوں نے آپ کو میدانِ جنگ میں دیکھا تو ضرور کہیں گے کہ یہ عرب کی جڑ ہے اسے کاٹ ڈالو تاکہ چین سے رہ سکو یہ بات ان کے لئے تمہیں قتل کر دینے اور آپ پر ٹوٹ پڑنے کا محرک بن جائے گی اور یہ جو آپ نے ذکر کیا ہے کہ قوم عجمی مسلمانوں سے لڑنے کے لئے روانہ ہوگئی ہے تو اللہ تعالیٰ کو ان کی روانگی آپ کی نسبت زیادہ ناپسند ہے اور جو چیز اسے نا پسند ہے وہ اس کے بدلنے پر قادر ہے اور ان کی کثرت کا جو آپ نے ذکر کیا ہے تو ہم نے کبھی کثرت پر اعتماد کر کے جنگ نہیں لڑی بلکہ ہم تو اللہ کی مدد کے بھروسے پر جنگ کیا کرتے ہیں۔

 پھر اسی کتاب کے جلد 3 صفحہ 196 پر نحن علی موعود کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

صفحہ 3 از 27