آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 27

ثم وعدنا بموعود وهو النصر والغلبة والاستخلاف فی الارض كما قال وعد الله الذين أمنوا منكم وعملوا الصالحات ليستخلفنهم فی الارض كما استخلف الذين من قبلهم الى آخر الآية وكل وعد من الله فهو منجز لعدم الخلف فی خبره۔

 ترجمہ: پھر ہم سے مدد غلبہ اور خلافت فی الارض کا وعدہ فرماتے ہوئے وعد الله الذين الخ اور ہر وعدہ جو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے وہ پورا ہو کے رہتا ہے کیونکہ خدا کے وعدہ میں خلاف نہیں ہوتا۔

ومن جملة وعده نصر جنده و جنده هم المومنون و المومنون منصورون على كل حال سواء كانوا قليلين او كثيرين۔

ترجمہ: اور اس کے وعدوں سے ایک وعدہ یہ ہے کہ میں اپنے لشکر کی مدد کرتا ہوں اور اللہ کی فوج مومن ہیں اور مومن خواہ تھوڑے ہوں یا زیادہ ہر حال میں اللہ کی مدد ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ 

وعدم الحاجة الى اجتماع كل العرب فی هذه الواقعة وذلك لكثرتهم بالاسلام واستقبال الدولة وعزتهم باجتماع الرأى واتفاق القلوب الذی هو خير من كثرة الاشخاص واراد بالكثرة القوة والغلبة۔

ترجمہ: اور جنگ میں تمام عربوں کا جمع ہونا ضروری نہیں کیونکہ انہی اسلام کی وجہ سے کثرت حاصل ہے دولت و عزت کا رخ ان کی طرف ہے وہ متفق الرائے ہیں ان کے دلوں میں اتفاق اور محبت ہے اور یہ صفات افراد کی کثرت کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں اور کثرت سے مراد قوت اور غلبہ ہے۔ 

پھر جلد3 صفحہ 197 پر فرماتے ہیں۔

و بوعد الله تعالىٰ المسلمين بالاستخلاف فی الارض و تمكين دينهم الذی ارتضىٰ لهم وتبديلهم بخوفهم امناكما هو مقتضى الآية۔

ترجمہ: مسلمانوں کو خلافت خدا کے وعدے کے مطابق ملی اور دین اسلام کو جو خدا کا پسندیدہ دین ہے تمکین خدا کے وعدے کے مطابق ملی اور خوف کے بعد امن خدا کے وعدے کے مطابق ملا جو آیتِ استخلاف کا مقتضٰی ہے۔

 اس طرح درۃ النجفیہ شرح نہج البلاغہ صفحہ 190 پر ہے۔ 

والموعود هو النصرة والغلبة والاستخلاف فی الأرض كما قال تعالى وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ الخ۔ (سورة النور آیت نمبر 55)۔

ترجمہ: اللہ نے جس چیز کا وعدہ کیا ہے وہ مومنوں کی مدد کرنا ہے ان کو غلبہ دینا ہے اور زمین میں خلیفہ بنانا ہے جیسا کہ آیت کا منشا ہے۔

سیدنا علیؓ کے خطبہ اور اس کی شرح سے واضح ہو گیا کہ: 

  1. سیدنا علیؓ نے امیر المومنین سیدنا عمر فاروقؓ کو ذاتی طور پر جنگ میں شامل نہ ہونے کا مشورہ دیا اور آپؓ نے قبول فرمالیا اس سے بڑھ کر باہمی خیر خواہی اور باہمی اعتماد کا ثبوت کیا ہوگا۔
  2.  سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ ہماری فتوحات کی وجہ کثرت نہیں بلکہ اللہ کی مدد ہے جو اس نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے یعنی سیدنا علیؓ نے اللہ کے وعدے کا مصداق سیدنا صدیقؓ و سیدنا فاروقؓ کو قرار دیا۔
  3.  سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ اللہ کا وعدہ لازماً پورا ہو کے رہے گا یعنی آپؓ کے جانے کی ضرورت نہیں وعدہ پورا ہو کے رہتا ہے۔
  4.  آخر میں بات واضح کردی کہ خلافت اللہ کے وعدے کے مطابق ملی ظاہر ہے کہ خلافت پہلے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو ملی پھر سیدنا عمر فاروقؓ کو پھر سیدنا عثمانِ غنیؓ کو اور یہ تینوں اللہ کے وعدے کے مطابق ملیں بلا فصل والی بات تو بناوٹی ٹھہری کیونکہ یہ تینوں وعدے تو خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں پورے ہوئے۔
  5.  وہ فوج جو سیدنا فاروقِ اعظمؓ بھیج رہے تھے وہی اللہ کی فوج تھی جس کو غلبہ دینے کا اللہ نے وعدہ فرمایا اور غلبہ عطا کر کے وعدہ پورا کر دیا لہٰذا یہی مصداق ہوئی اس آیت کی۔
  6.  سیدنا علیؓ نے شیخینؓ کے عہد کے مسلمانوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان میں اتفاق متفق الرائے ہونا دلوں میں باہمی محبت ہونا جیسے اوصاف پائے جاتے ہیں جن کی بناء پر اللہ انہیں غلبہ عطا فرماتا ہے معلوم ہوا کہ سیدنا علیؓ نے اعلان کر دیا کہ شیخینؓ کے عہد میں مسلمان اسی طرح متحدہ متفق اور ایک دوسرے کے خیر خواہ تھے جس طرح زمانہ نبویﷺ میں حضورﷺ کی تربیت سے تیار ہوئے تھے ان میں اختلاف دشمنی اور بغض کے افسانے یار لوگوں نے زیب داستان کے لئے تیار کر رکھے ہیں یہ لوگ گویا سیدنا علیؓ کو معاذ اللہ جھوٹا سمجھتے ہیں اگر سیدنا علیؓ سے ان لوگوں کا دور کا تعلق بھی ہوتا تو ایسی بے پر کی نہ اڑاتے۔

اسی طرح ایک شیعہ عالم سید رضی الدین ابی القاسم علی بن موسیٰ بن جعفر بن محمد بن طاؤس الحسن والحسینی متوفی 664ھجری کی کتاب کشف الحجه لثمرة المھجہ مطبوعہ نجف اشرف کے صفحہ 54 پر درج۔

و اعلم يا ولدى يقينا انما فتح بلاد اسلام بعد جدک محمدﷺ بتائید الله جل جلاله وما وعده ان يبلغ اليها نبوته وامره وقد كان جدك الله اخبر جماعة من المسلمين انه يفتح على يد نبوته بلاد کسری و قیصر و كلما فتحوه بعده وكان المسلمون قد جربوا عليه صدقه ووعده وسمعوا القرآن يتضمن ليظهره على الدين كله ولو كره المشركون وقد ذكر جماعة من اصحاب التواريخ تصديق ما اشرت اليه وعلى خاطرى مما وقفت عليه ما ذكره اعشم فی تاريخه ما معناه ان ابا بكرؓ لما بدأ بانفاذ ابی عبيدهؓ والجيوش الى الروم ومات قبل ان يفتحها وفتحها المسلمون بعده فی ولاية عمر قال له قوم لا تخرج مع العسكر وقال قوم اخرج معهم فقال لابیک علی عليه السلام ما تقول انت يا ابالحسنؓ فقال له على ان خرجت نصرت وان احمیت نصرت فقال له صدقت الى ان قال يا ولدى فهل ترى ما كان فتح البلاد الا بتلك الوعود الصادقة والعناية الالهية الفائقة۔

صفحہ 4 از 27