آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 5 از 27

ترجمہ: بیٹا! یہ یقینی امر ہے کہ اسلامی ملکوں میں جو فتوحات تیرے نانا محمد رسول اللہﷺ کے بعد ہوئیں وہ محض اللہ کی امداد نصرت اور تائید سے ہوئیں اور اس وعدہ کے مطابق ہوئیں جو حضور انورﷺ نے فرمایا تھا کہ میری نبوت اور میرا دین ان شہروں تک پہنچے گا اور یقیناً تیرے نانا محمد رسولﷺ نے مسلمانوں کی جماعت کو خبر دی تھی کہ میری نبوت کے ہاتھ پر قیصر و کسریٰ کے شہر فتح ہوں گے حضورﷺ کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جب کبھی کوئی شہر فتح کیا حضورﷺ کے وعدہ کے سچا ہونے کی دلیل بنتی گئیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول خداﷺ سے قرآن کی یہ پیشگوئی سن چکے تھے کہ دینِ محمد کو تمام ادیان پر غالب کر دے گا اور اگرچہ مشرکوں کو ناگوار ہو اور مورخین نے میرے اس بیان کی تصدیق کی ہے اور جس حقیقت سے میں واقف ہوں وہ میرے دل میں موجود ہے اس کو اعمش کوفی (شیعہ) نے بھی اپنی تاریخ میں لکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے سیدنا ابو عبیدہؓ کو فوج دے کر روم کی طرف بھیجنے کا ارادہ کیا اور سیدنا صدیقؓ کی وفات ہوگئی اور یہ ملک خلافتِ فاروقی میں فتح ہوا جب فارس سے جنگ کے موقع پر ایک گروہ نے سیدنا فاروقؓ کو کہا کہ آپؓ جنگ میں شامل نہ ہوں دوسرے نے کہا آپؓ محاذ پر ضرور جائیں تو آپؓ نے سیدنا علیؓ سے پوچھا انہوں نے جواب دیا آپؓ جائیں جب بھی فتح ہوگی نہ جائیں جب بھی فتح ہوگی سیدنا فاروقؓ نے کہا یہ درست ہے بیٹا کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو شہر بھی فتح ہوئے وہ محض ان سچے وعدوں کے مطابق ہوئے جن کے متعلق اللہ اور رسولﷺ نے پہلے ہی بتا دیا تھا یہ محض اللہ کی عنایت سے ہوئے اور اللہ نے اپنے وعدے سچ کر دکھائے تھے۔

اس اقتباس سے کئی اہم امور کی وضاحت ہو گئی۔

  1.  حضور انورﷺ کے بعد جس قدر فتوحات ہوئی وہ خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں ہوئی۔
  2.  شیعہ کا اعتراف ہے کہ اس وعدہ الہٰی کے مطابق ہیں جس کے تحت حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ میرا دین اور میری نبوت یہاں پہنچے گی۔
  3. ثابت ہوا کہ خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھ سے ایک تو وعدہ الہٰی پورا ہوا دوسرا انہوں نے حضورﷺ کی نبوت اور حضورﷺ کا دین ان شہروں تک پہنچایا جو ان کے کامل الایمان ہونے کا ہی نہیں بلکہ دین کی خاطر جانبازی کا ثبوت ہے۔
  4.  حضورِ اکرمﷺ نے قیصر و کسریٰ کے مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہونے کی خوشخبری دی تھی اور یہ خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں فتح ہوئے۔
  5. شیعہ عالم نے کہا کہ یہ فتوحات ليظهره علی الدین کلہ: کی عملی تفسیر تھیں تو ثابت ہوا کہ خلفائے ثلاثہؓ نے حضورﷺ کے نائب کی حیثیت سے دینِ حق کو ادیان عالم پر غالب کر دیا۔
  6. سید رضی الدین نے کمال صفائی سے اعتراف کیا کہ آیتِ استخلاف کے مصداق خلفائے ثلاثہؓ ہیں۔ 

شیعہ مفسر فتح اللہ کاشانی نے اپنی تفسیر منہج الصادقین جلد 4 صفحہ 307 میں زیرِ آیت وقل رب ادخلنی الخ لکھا ہے۔

پس حق تعالیٰ اجابت دعوت آنحضرتﷺ فرمود و بقوله فان حزب الله هم الغالبون وبقوله ليظهره على الدين كله وبقوله ليستخلفنهم فی الارض: امام جعفر صادقؒ از آبائے کرام خود روایت کرده که رسول خداﷺ ایں دعا دروقتی کردکہ درغاربود۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کی یہ دعا ان آیات کو نازل کر کے قبول فرمائی کہ بیشک خدا کی فوج ہی غالب رہنے والی ہے اور یہ کہ اللہ دین حق کو تمام ادیان پر غالب کرے گا اور یہ کہ ان مہاجرین کو زمین میں خلیفہ بنائے گا اور سیدنا جعفر صادقؒ نے اپنے آبائے کرام سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے یہ دعا اس وقت کی جب آپﷺ غار میں تھے۔ (جہاں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ساتھ تھے)۔ 

4۔ شیعہ مؤرخ واقدی نے اپنی تاریخ فتوح شام جلد 1 صفحہ 127 اور جلد 1 صفحہ 150 پر لکھا ہے کہ جنگِ یرموک کو مؤرخ قیامت سے تعبیر کرتے ہیں اس جنگ میں عیسائیوں کی پوری قوت میدان میں موجود تھی اور مسلمان 37 ہزار تھے سب سے پہلے سیدنا معاذ بن جبلؓ نے صفوں کے سامنے بآواز بلند آیتِ استخلاف کی قرأت کی اور یاد دلایا کہ اسلام تمام دینوں پر غالب ہوگا اور یہ کام ان مہاجرین و انصار کی تلوار سے ہو گا۔

یہ اس امر کا ثبوت تھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عقیدہ تھا کہ اس آیت کا مصداق خلفائے ثلاثہؓ ہیں یہ وہی بات ہے جو سیدنا علیؓ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمائی تھی۔

یہاں ہم ایک بار پھر وضاحت کر دیتے ہیں کہ ضمیر مخاطب صرف حاضرین کے لئے خاص ہوتی ہے اس کے ثبوت میں شیعہ کی چوٹی کی کتاب معالم الاصول صفحہ 193 کا حوالہ گزر چکا ہے اس پائے کی دوسری کتاب شیخ مرتضیٰ کی فرائد الاصول ہے اس کے صفحہ 40 پر بعینہ وہی الفاظ درج ہیں جو معالم الاصول سے پیش کئے جاچکے ہیں لہٰذا صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حاضرین وقت نزولِ آیت کے ساتھ وعدہ فرمایا کہ:

  1.  تمہیں خلافت فی الارض کا انعام دوں گا۔
  2. دین کا محکم و مضبوط ہونا دنیا پر غالب ہونا حدودِ شرعی کا پوری طرح جاری ہونا جہاد کے ذریعے اعلائے کلمۃ الحق ہونا تمہارے ہاتھوں سے ہوگا۔
  3.  خانہ جنگی سے محفوظ رہ کر امن و سلامتی کی فضاء پیدا ہونا تمہارے ہاتھوں سے ہوگا۔

یہ تین نعمتیں بغیر خلفائے ثلاثہؓ کے کسی عیب میں پوری نہیں ہوئی لہٰذا وہی اس کا مصداق ہیں سیدنا علیؓ کا عقیدہ بحوالہ نہج البلاغہ گزر چکا ہے کہ ان کے نزدیک آیت کا مصداق خلفائے ثلاثہؓ ہیں خلفائے ثلاثہؓ کے دور میں سیدنا علیؓ وزیر اور مشیر کی حیثیت سے کام کرتے رہے اور مسلمانوں کی موعودہ فوج میں آپؓ اور آپؓ کے بیٹے سیدنا حسنؓ اس خدائی فوج میں شامل رہے۔

5۔ شیخ عباس قمی نے اپنی کتاب تتمہ طبع ایران صفحہ 672 پر لکھا ہے:

بحمدللہ بلد اصفہان قبة الاسلام وغط اہلِ اسلام در آں است و مسجد یست در انجا معروف بلسان الارض در طرف مشرق مزار تخت فولاد نزدیک بقبر فاضل ہندی اہلِ اینجا می گوئند که این موضع زمین با حضرت امام حسن مجتبٰیؓ تکلم کرده در زمان که آنحضرت در ایام خلافت عمر بن الخطابؓ بالشکر اسلام بجہت فتوحات بایں مکان تشریف آورده و ازیں جہت اور السان الارض میگوئند و حضرت در انجا نماز خواندہ۔

صفحہ 5 از 27