آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 6 از 27

ترجمہ: خدا کا شکر ہے کہ ہمارے زمانے تک اصفہان قبتہ الاسلام اور اہلِ ایمان کا مرکز ہے یہاں ایک مسجد ہے جسے لسان الارض کہتے ہیں جو مزار تخت فولاد کی شرقی جانب فاضل ہندی کی قبر کے پاس ہے وہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ کے عہد میں لشکر اسلام کے ساتھ سیدنا حسنؓ فتوحات کی غرض سے تشریف لائے اس زمین نے آپؓ سے کلام کی اسی وجہ سے اس کو لسان الارض کہتے ہیں سیدنا حسنؓ نے یہاں نماز ادا کی۔

شیعہ عالم شیخ عباس قمی نے اصفہان کو قبتہ الاسلام قرار دیا ہے ظاہر ہے کہ یہ حیثیت اس شہر کو سیدنا عمرؓ نے عطا کی دوسری بات یہ ہے کہ فاروقی لشکر میں سیدنا حسنؓ ایک سپاہی کی حیثیت سے اسلامی فتوحات کی غرض سے شامل تھے ظاہر ہے کہ فاروقی فوج اسلامی فتوحات کے لئے نکلی جس کے ایک فرد سیدنا حسنؓ تھے اس فوج میں آپؓ کا شامل ہونا ظاہر کرتا ہے کہ آپؓ کے والد سیدنا علیؓ کا مشورہ بھی شامل تھا کیونکہ وہ سیدنا عمرؓ کے مستقل مشیر تھے یعنی سیدنا عمرؓ کے عہد میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو رہا تھا جو آیتِ استخلاف میں مذکور ہے۔

6۔ علامہ میثم بحرانی شارح نہج البلاغہ نے بڑی وضاحت سے خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت کو آیتِ استخلاف کی موعودہ خلافت بیان کیا ہے ان کی فوج کو خدائی فوج کا نام دیا اور جو دین خلفائے ثلاثہؓ نے پھیلایا اس کو دین اسلام تسلیم کیا۔

7۔ فتوح شام شیعہ مؤرخ واقدی جلد 1 صفحہ 184:

جنگِ یرموک میں عیسائیوں کی عظیم فوج کا سپہ سالار ماہان تھا ہرقل کا بڑا معتمد علیہ تھا اس کا پیغام واحدی نے نقل کیا ہے جو ماہان نے ہرقل روم کو بھیجا تھا۔

وقال لهم اسمعوا يا اصحاب الملک وبلغوه عنى انی ما تركت جهدى فی نصرة هذا الدين وحاميت عن الملک وقاتلت عن نعمته و ما اقدر ان اغالب رب السماء لانه نصر عرب علينا و ملكهم بلادنا والآن مالی وجہ ارجع الى الملك۔

ترجمہ: اے شاہ کے مصاحبو! میری بات سنو اور میرا پیغام شاہ ہرقل کو پہنچاؤ کہ میں نے دین عیسوی کی مدد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی شاہ کی حمایت میں کمی نہیں رہنے دی اس کی مہربانی سے خوب جنگ کی لیکن میں آسمانوں کے رب کے ساتھ لڑنے کی قدرت نہیں رکھتا کیونکہ اس نے ہمارے خلاف عربوں کی مدد کی اور عربوں کو ہمارے شہروں پر مسلط کر دیا میں اب کس منہ سے شاہ کے پاس لوٹ کر آؤں؟۔

ماہان جیسا جرنیل جس نے ایرانیوں سے رومی ملک واپس لیا خدائی فوج کے مقابلے میں اپنی بے بسی کا اظہار کر رہا ہے اور اس حقیقت کا اعتراف کر رہا ہے کہ اس فوج کا مقابلہ کرنا رب العلمین کا مقابلہ کرنے کے مترادف ہے غیروں کی حقیقت پسندی دیکھو کہ خلفائے محمدﷺ کی برتری تسلیم کرنے میں عار نہیں اور اپنوں کی کینہ پروری دیکھو کہ جانشینانِ رسولﷺ کو مسلمان تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔ 

چنین دور آسمان کم دیده باشد۔

8۔ روضہ کافی طبع ایران صفحه 225 سیدنا باقرؒ کا خطبہ:

وهم من بعد غلبهم سيغلبون و هم یعنی فارس من بعد غلبهم الروم سيغلبون يعنى يغلبهم المسلمون فی بضع سنين لله الامر من قبل ومن بعد ويومئذ يفرحوا المومنون بنصر الله ينصر من يشاء عزوجل فلما غزا المسلمون فارس و افتتحوها فرح المسلمون بنصر الله عزوجل قال ای (راوی)۔

قلت اليس الله عزوجل يقول فی بضع سنين وقد معنىٰ للمومنين سنون كثيرة مع رسول اللهﷺ وفی امارة ابی بکرؓ وانما غلب المومنون فارس فی امارة عمرؓ فقال الامام اما تسمع لقول الله عزوجل لله الامر من قبل ومن بعد يوم يتم القضا بنزول النصرفيه على المومنين فذلك قوله عزوجل و يومئذ يفرح المومنون بنصر الله ينصر من يشاء الى يوم يتم القضاء بالنصر۔

ترجمہ: اور وه یعنی فارس ان کے یعنی رومیوں کے غلبہ كے بعد غالب ہوں گے یعنی عنقریب چند برسوں میں مسلمان غالب آجائیں گے پہلے اور بعد میں حکم اللہ ہی کا ہے اس روز مومن اللہ کی نصرت سے خوش ہوں گے اللہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے مسلمانوں نے جہاد کر کے جب فارس کو فتح کیا تو وہ اللہ کی نصرت سے بہت خوش ہوئے۔ 

راوی کہتا ہے میں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے چند برس نہیں فرمایا حالانکہ مومنوں پر رسول خداﷺ کے ساتھ بھی کئی سال گزر گئے پھر سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا عہد بھی گزر گیا مگر مومن فارس پر غالب آئے تو عہدِ سیدنا عمرؓ میں تو امام نے کہا کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ نے فرمایا کہ اول و آخر حکم الله کا ہے قضا و قدر کے فیصلے کے مطابق جس روز مومنوں کی نصرت کا وقت آئے گا یہ ہے فرمانِ باری تعالیٰ کہ اس روز مومن خدا کی نصرت کے نزول کی وجہ سے خوش ہوں گے۔

راوی کو آیت کا مفہوم سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی سیدنا باقرؒ نے وضاحت کر دی کہ روم و فارس کی فتح کی تکمیل اہلِ ایمان کے ہاتھ سے ہوئی اللہ کی مدد سے ہوئی اور اہلِ ایمان اس روز بہت خوش ہوئے یعنی فتوحات کا سلسلہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے عہد میں شروع ہوا عہدِ فاروقی میں تکمیل ہوئی دونوں چیزیں اہلِ ایمان کے ہاتھوں ہوئیں سیدنا صدیقؓ و سیدنا فاروقؓ اہلِ ایمان کے سردار ہوئے اور ان کے ہاتھوں اللہ کا وعدہ پورا ہوا کہ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ۔ (سورة النور آیت نمبر 55)۔

 ثم وعدنا بموعود وهو النصر والغلبة والاستخلاف فی الأرض كما قال وعدالله الذین امنوا منكم وعملوا الصالحات ليستخلفنهم فی الارض من جملة وعده نصر جنده و جنده المومنون فالمومنون منصورون على كل حال سواء كانوا قليلين او كثيرين۔ 

ترجمہ: اللہ کے وعدوں میں سے یہ وعدہ بھی ہے کہ اپنے لشکر کی امداد کرے گا اور اس کا لشکر مومن ہیں اور مومنوں کی نصرت کی جاتی ہے ہر حال میں خواہ وہ تھوڑے ہوں یا زیادہ ہوں۔ 

یعنی آیتِ استخلاف میں اللہ تعالیٰ نے نصرت غلبہ اور خلافت کا وعدہ کیا وہ وعدہ خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں پورا ہوا۔

نیز وعدہ تھا اپنے لشکر کی نصرت کا اللہ کا لشکر مومن ہیں اور مومن نصرت یافتہ ہیں لہٰذا خلافت ثلاثہؓ کی فوج اللہ کی فوج ہوئی اور مومن ہوئے جبھی تو ان کی نصرت فرمائی اور اس فوج کے سپہ سالار یعنی خلفائے ثلاثہؓ اکمل الایمان ہوئے اور آیتِ استخلاف کے مصداق ہوئے۔

سیدنا علیؓ اور خلفائے ثلاثہؓ کی بیعت:

صفحہ 6 از 27