آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 7 از 27

حق کی یہ خاصیت ہے کہ اسے خواہ کتنا دبا دیا جائے وہ کسی نہ کسی گوشے سے ظاہر ہو جایا کرتا ہے خلفائے ثلاثہؓ کی شان اور ان کی فضیلت پر پردہ ڈالنے کے لئے اور انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کے لئے منظم کوششیں ہوتی رہیں اور ہو رہی ہیں مگر ان دبیز پردوں کو پھاڑ کر ان ظلمتوں کے اندر سے حق کی ایک جھلک ملاحظہ ہو:

فرق الشيعه الى محمد الحسن بن موسى النو بختی طبع نجف اشرف 1966ء صفحہ 38 یہ تیسری صدی کا شیعہ عالم ہے۔

قالت (الشيعة) ان علياؓ كان اولی الناس بعد رسول اللهﷺ بالناس الفضله و سابقته وعلمه وهو افضل الناس كلهم بعده و اشجعهم و اسخاهم و اورعهم و از ھدھم وجازوا امامة ابی بكرؓ و عمرؓ وعدوهما اهلا لذلك المكان والمقام وذكروا ان علیاؓ سلم لهما الامر ورضى بذلك وبايعهما طائعا غير مكره و ترك حقه لهما و نحن راضون كما رضی اللہ المسلمين له ولمن بايع لا يحل لنا غير ذلك ولا يسمع منا احدا الا ذلك وان ولاية ابی بكرؓ صارت رشدا وهدى لتسلیم علی و رضاه۔ 

ترجمہ: شیعہ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے سیدنا علیؓ سب سے افضل ہیں کیونکہ وہ فضیلت سبقت اور علم ميں سب سے بڑھ کر ہیں اور اپنی سخاوت شجاعت ورع زہد کی وجہ سے اپنے سے بعد والوں پر فضیلت رکھتے ہیں ان تمام باتوں کے باوجود تمام عمر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے باتفاق رائے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی امامت کو جائز کہا اور ان کو اس منصب اور مقام کا اہلِ تسلیم کیا اور یہ بھی ذکر کیا کہ سیدنا علیؓ نے اپنا حق ان کو دے كر برضا و رغبت ان کی بیعت کی اس میں جبر کو مطلق دخل نہ تھا اور ہم اس پر راضی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے راضی ہے ان کے لئے اور جنہوں نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی بیعت کی ہمارے لئے بھی اس کے بغیر کوئی رویہ جائز نہیں اور ہم سے کوئی شخص اس کے بغیر نہیں سنے گا اور سیدنا علیؓ کے تسلیم کرنے اور راضی ہونے کی وجہ سے سیدنا ابوبکرؓ کی خلافت سراپا رشد و ہدایت ہے۔

شیعہ کا یہ بیان سیدنا علیؓ کے بیان کی تائید ہے اور تصدیق ہے اور خلافت بلافصل کا حل بھی ہے اگر سیدنا علیؓ کی خلافت کا حق تسلیم بھی کیا جائے تو انہوں نے اپنا حق خلفائے ثلاثہؓ کو دے کر اور برضا ان کی بیعت کر کے بعد کے شیعہ کی اس تہمت کی تردید کردی کہ خلفائے ثلاثہؓ نے حق غصب کیا تھا یہ بات ایک مفروضہ کو تسلیم کر لینے کی بناء پر ہے قرآن و سنت میں سیدنا علیؓ کی خلافت بلافصل کا کوئی نشان تک نہیں ملتا دینِ شیعہ میں یہ امر ضروریات دین میں شمار کر لیا گیا تو یہ غلو کی ایک ایسی انسانی کوشش ہے جس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

تیسری صدی کے ایک شیعہ عالم کی صراحت کے باوجود اگر کوئی شخص اس بات پر اصرار ہی کرے کہ سیدنا علیؓ نے جو بیعت کی وہ صرف قولی اور عملی تھی قلبی اور حقیقی نہ تھی تو یہ دعویٰ بلادلیل ہے۔

شریعت ظاہری احکام کا نام ہے اور مسلمان ظاہر شریعت کے مکلف ہیں اس لئے حضرت کے ظاہری قول و فعل پر ہی شریعت کے حکم کا اطلاق ہوگا کسی کا دل چیر کے کون دیکھتا ہے اور دیکھ سکتا ہے اگر شریعت کے اس اصول کو سامنے نہ رکھا جائے تو دینی امور تو الگ رہے دنیوی کام بھی تلپٹ ہو جاتے ہیں مثلاً ایک شخص زبان سے لوگوں کے سامنے اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے

مگر قاضی کے سامنے کہتا ہے کہ میں نے دل سے طلاق نہیں دی تھی صرف زبان سے کہا تھا تو قاضی کیا فیصلہ دے گا یا کوئی شخص مجسٹریٹ کے سامنے زبان سے اقرار جرم کرتا ہے مگر کہتا ہے کہ میرے دل میں تو انکار پوشیدہ ہے تو مجسٹریٹ اس کے موجودہ زبانی اقرار پر فیصلہ کرے گا یا دل کے انکار پر۔

اس بناء پر جب سیدنا علیؓ نے اپنے قول و فعل سے ثابت کر دیا کہ وہ خلفائے ثلاثہؓ کی امامت کو تسلیم کرتے ہیں ان کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں ان کی اقتدا میں نمازیں پڑھتے ہیں تو کسی کا اس پر اصرار کہ دل سے کچھ بھی نہیں کیا تھا بال ہٹ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا

اس اصول کی شہادت میں سیدنا علیؓ کا ایک بیان ملاحظہ ہو۔

 نہج البلاغہ طبع مصر جلد 1 صفحہ 38 خطبہ نمبر 7 سیدنا زبیرؓ کے متعلق فرماتے ہیں:

 يزعم انه قد بايع بيده ولم يبايع بقلبه فقد اقربا البيعة وادعی الوليجة فليأت عليها بار يعرف والا فليدخل فيما خرج منه۔

ترجمہ: (سیدنا زبیرؓ) یہ گمان کرتا ہے کہ اس نے ظاہری طور پر ہاتھوں سے بیعت کی دل سے نہیں کی تو حقیقت یہ ہے کہ اس نے بیعت کا اقرار کر لیا اور دعویٰ خلاف باطن کا کرتا ہے تو اس پر کوئی ظاہری دلیل پیش کرے ورنہ وہ داخل ہو جہاں سے خارج ہوا۔

یعنی سیدنا علیؓ نے فیصلہ دے دیا کہ کسی کے ہاتھ پر بیعت کرنا ہی اقرار بیعت کی دلیل ہے اور یہ کہنا کہ دل سے بیعت نہیں کی درخور اعتنا نہیں۔

زمانہ حال کے شیعہ مجتہد سید علی نقی نے شرح نہج البلاغہ میں اس خطبہ کی شرح میں لکھا ہے:

چوں زبیرؓ نقض عهد کرده در میدان جنگ بآنحضرت برآمد آنجناب باد فرمود تو بامن بیعت کرده واجب است که مرا پروی کنی در پاسخ گفت هنگام بیعت تو توریه نمودم یعنی بزبان اقرار و در دل خلاف آنرا قصد کردم حضرت فرماید زبیرؓ گمان می کند بدست بیعت کرده و دل مخلافت بوده به بیعت خود اقرار کرده و مفر است و ادعا دارد که در باطن خلاف آنرا داشته بنابریں باید که حجت و دلیل بیارد تا راستی گفتار او معلوم شود اگر دلیلے نداشت بیعت او بحال خود بحال خود باقی است باید که مطیع و فرمانبردار باشد۔

ترجمہ: جب سیدنا زبیرؓ عہد توڑ کر میدانِ جنگ میں سیدنا علیؓ کے مقابلے میں آئے تو آپ نے فرمایا تو نے میرے ساتھ بیعت کی ہے اس لئے میری پیروی تم پر فرض ہے سیدنا زبیرؓ نے جواب دیا میں نے بیعت کے وقت توریہ کیا تھا یعنی زبان سے اقرار کیا لیکن دل میں انکار تھا۔ سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ سیدنا زبیرؓ کا خیال ہے کہ اس نے ظاہراً بیعت کی تھی دل سے خلاف تھا یہی تو اس کا اقرار ہے کہ اس نے بیعت کی اسے چاہئے کہ دل کی بات پر دلیل پیش کرے اگر دلیل نہیں تو اس کی بیعت باقی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ میرا مطیع اور فرمانبردار رہے۔

صفحہ 7 از 27