آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 8 از 27

سیدنا علیؓ کے اس استدلال کو دیکھ کر کون باور کر سکتا ہے کہ دوسروں پر جس اصول کا اطلاق کرتے ہیں اپنے آپ کو اس سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں آپؓ نے دو ٹوک فیصلہ کر دیا کہ قولی اقرار اور عملی اقدام ہی حجت ہے آدمی لاکھ کہے کہ میرے دل میں اس کے خلاف عقیدہ ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔

جہاں تک سیدنا علیؓ کا خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا معاملہ ہے غیروں نے ان کے ذمے تہمت لگا دی کہ وہ دل سے اس امر کے خلاف تھے اور یہ حقیقت نفاق کی تہمت ہے مگر اس پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کا نام تکیہ رکھ دیا بھلا نام بدلنے سے حقائق بھی بدلا کرتے ہیں سیدنا علیؓ نے تو ان اتہام پردازوں کی تردید فرمائی ہے۔

انه بايعنی القوم الذی بايعوا ابابكرؓ و عمرؓ و عثمانؓ علیؓ ما بايعوهم فلم يكن لشاهد ان يختار ولا للغائب ان يردو انما شورىٰ للمهاجرين والانصار فان اجتمعو على رجلا وسموه اماما كان ذلك لله رضا۔

(شرح نہج البلاغه بحرانی جلد 4 صفحہ 352)۔

ترجمہ: میرے ہاتھ پر ان لوگوں نے بیعت کی جنہوں نے سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور اسی بات پر بیعت کی جس کا عہد ان لوگوں نے تینوں سے کیا تھا لہٰذا ہر حاضر کا فرض ہے کہ اپنے اختیار سے دستبردار ہو جائے اور پھر غائب پر واجب ہے کہ اس کا انکار نہ کرے اصحاب الرائے تو مہاجرین و انصار ہیں اگر وہ کسی شخص کے حق میں جمع کر لیں اور اس سے اپنا امام بنا لیں تو اللہ کی رضا اسی میں ہے۔

کتنا صاف بیان ہے اور کیسا واضح اصول ہے کہ اہلِ الرائے مہاجرین و انصار ہیں جس شخص کی قیادت پر ان کا اجماع ہو جائے اور اس کو وہ امام تسلیم کر لیں اسی میں اللہ کی رضا ہے گویا آپ نے اعلان کر دیا کہ خلفائے ثلاثہؓ کی قیادت اور امامت پر مہاجرین و انصار کا اجماع ہے لہٰذا یہ فیصلہ اللہ کے ہاں درست اور پسندیدہ ہے۔

بات کتنی واضح ہو حیلہ جو طبائع چور دروازے ڈھونڈ لیتی ہیں چنانچہ اس قول کے متعلق کہا گیا کہ یہ الزامی قول تھا اگر یہ کہتے وقت اس حقیقت کو بھول گئے کہ ائمہ جو بقول شیعہ انبیاء کی طرح معصوم ہیں الزامی زبان میں گفتگو نہیں کیا کرتے بلکہ سیدھے طریقے سے حقائق بیان کیا کرتے ہیں الزامی انداز تو ان کی شان کے بالکل منافی ہے۔

سیدنا علیؓ نے خود اپنے ایک بیان میں اس کی تردید فرمائی ہے۔

امالی شیخ ابو جعفر طوسی مطبع نعمانی نجف اشرف طبع 1964ء جلد2صفحہ 121

وبايعتم ابابكرؓ وعدلتم عنی فبايعت ابابكرؓ كما بايعتموه وکرھت ان اشق عصا المسلمین وان افرق بين جماعتهم ثم ان ابابكرؓ جعلها لعمرؓ من بعده وانتم تعلمون انی اولى الناس رسول اللهﷺ وبالناس بعده فبايعت عمرؓ كما بايعتموه فوفيت له بيعته حتیٰ لما قتل جعلنی سادس ستة فدخلت حيث ادخلنی و کرهت ان افرق جماعة المسلمين و اشق عصالهم فبايعتم عثمانؓ فبايعته وانا جالس فی بيتى ثم اتیتمونی غیر داع لكم ولا مستکره لاحد منکم فبايعتمونی كما بایعتم ابابکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ فما جعلكم احق ان تفو الابی بكرؓ و عمرؓ و عثمانؓ ببيعتهم منكم ببیعتی قالوا یا امیر المومنين قل كما قال العبد الصالح لا تَثرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِين فقال كذلك اقول يغفر الله لكم وهو ارحم الراحمين۔ 

ترجمہ: تم نے سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کی اور میری مخالفت کی حالانکہ میں نے بھی سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت اسی طرح کی جیسے تم نے ان کی بیعت کی تھی اور مجھے یہ ناپسند تھا کہ میں مسلمانوں میں یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں نااتفاقی ڈالوں اور ان کی جماعت میں افتراق پیدا کروں اور تم جانتے ہو کہ میری قرابت رسول اللہﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ تھی پھر میں نے سیدنا عمرؓ کی بیعت اس طرح کی جیسے تم نے کی تھی اور میں نے سیدنا عمرؓ کے ساتھ کما حقہ وفا کی حتیٰ کے جب وہ شہید ہوئے تو مجھے مجلس شوریٰ کے ارکان میں چھٹا رکن مقرر کیا میں نے سیدنا عمرؓ کی مقرر کی ہوئی رکنیت کو قبول کیا اور میں نے مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ڈالنا پسند نہ کیا پھر تم نے سیدنا عثمانؓ کی بیعت کی اور میں نے بھی کی اور اب میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوں اور تم بن بلائے میرے پاس پہنچ گئے اور میں نے کسی شخص کو اپنی بیعت کے لئے مجبور نہیں کیا پھر تم نے میری بیعت کی جن شرائط پر تم نے سیدنا ابو بکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ کی بیعت کی تھی پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں تم میری نسبت وفاداری کا زیادہ حق دار سمجھتے ہو کہنے لگے اے امیر المومنین آپ بھی فرما دیجئے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ آج تم پر کوئی زیادتی نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے اور وہ بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے تو آپ نے فرمایا میں یہی کہتا ہوں کہ اللہ تمہیں معاف کرے۔

اس اقتباس کے الفاظ پر غور کیجئے:

  1.  یہ سیدنا علیؓ کا اپنا قول ہے کسی اور امام یا کسی مجتہد کا قول نہیں۔
  2.  آپؓ نے دو ٹوک فیصلہ دیا کہ جس طرح تم لوگوں نے خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی میں نے بھی اسی طرح کی تھی اب یا تو ثابت کیا جائے کہ سب نے تقیہ کیا تھا یا تسلیم کر لیا جائے کہ سیدنا علیؓ نے بھی باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح دل سے بیعت کی تھی اسی طرح یا تو ثابت کیا جائے کہ سب سے جبراً بیعت لی گئی تھی یا مان لیا جائے کہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح حضرت نے بھی برضا و رغبت بیعت کی تھی یہ کما بايعتموه کہہ کر سیدنا علیؓ نے ہر حیلہ جو کج ہیں اور افتراء پرداز کے منہ پر وہ چپت رسید کی ہے کہ قیامت تک اس کی ٹیس اٹھتی رہے گی۔
  3.  اب تو الزامی بیان کہنے والوں کو شرم ہی آنی چاہئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعُ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيراً۝۔ (سورة النساء آیت نمبر 115)۔

حق کے ظاہر ہونے کے بعد رسول کریمﷺ کی جو مخالفت کرتا ہے اس طرح کہ سابقہ مسلمانوں کی راہ چھوڑ کر دوسری راہ نکالتا ہے ہم اسے اس گمراہی میں چلائیں گے اور جہنم میں داخل کریں گے ۔

صفحہ 8 از 27