آیت استخلاف فی الارض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

آیت استخلاف فی الارض

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 9 از 27

سیدنا علیؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے خطاب کرتے ہوئے اس آیت کا حوالہ دے کر بیعت کے سلسلے میں ایک اصول بیان فرمایا:

وانما شورىٰ للمهاجرين والانصار فان اجتمعوا علی رجل وسموه اما ما كان ذلك لله رضا فان خرج عن امرهم خارج بطعن او بدعة ردوه الی ما خرج منه فان ابی قاتلوه علی اتباعه غير سبيل المومنين وولاه الى ما تولی و لعمری معاویهؓ لو نظرت بعقلک دون هواک لتجدنی ابرأ الناس من دم عثمانؓ ولتعلمن اني كنت فی عزلة منه۔ (شرح نہج البلاغہ میثم بحرانی جلد 4 صفحہ 362)۔

ترجمہ: خلافت کے مشورے کا حق صرف مہاجرین و انصار کو ہے کسی شخص پر اگر وہ متفق ہو جائیں اور اس کو امام و خلیفہ بنادیں تو ان کا پسندیدہ اللہ کا پسندیدہ ہوگا جو شخص ان کے مشورے کا مخالف ہو اعتراض کرے یا نئی راہ نکالے تو اسے سیدھی راہ پر واپس لاؤ جو مہاجرین و انصار کا فیصلہ ہے اگر وہ انکار کرے تو اس سے جنگ کرو کیونکہ وہ مسلمانوں کی راہ سے ہٹ کر اسلام سے نکل چکا اور اللہ تعالیٰ اسے اس طرف پھیرے رکھے گا جدھر وہ پھر چکا اے سیدنا امیرِ معاویہؓ مجھے اپنی جان کی قسم اگر تم نفس کی اتباع کی جگہ عقل سے کام لو تو یقیناً مجھے خون سیدنا عثمانؓ سے بری الذمہ پاؤ گے اور تجھے معلوم ہو جائے گا کہ میں اس قتل سے بالکل علیحدہ تھا۔

اس اِقتباس سے ظاہر ہے کہ:

  1.  سیدنا علیؓ اپنی خلافت کا حق سیدنا امیرِ معاویہؓ سے منوانا چاہتے ہیں مگر کوئی نص نہیں پیش کی حالانکہ اس موقع پر نص سے بڑھ کر کوئی دلیل کارگر نہ تھی۔
  2. آپؓ نے یہ اصول بیان کیا کہ مہاجرین و انصار جس کو خلافت و امامت کا مستحق قرار دیں وہی امام برحق اور خلیفہ راشد ہے اور وہی اللہ کا پسندیدہ ہے یعنی آپؓ نے بتا دیا کہ خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت پر مہاجرین و انصار کا اجماع تھا انہوں نے ان کو خلیفہ چنا ہے لہٰذا خلفائے ثلاثہؓ امام برحق بھی تھے اور اللہ کے پسندیدہ بھی تھے اور یہ بھی واضح کر دیا کہ خلافت و امامت کے لئے نص کی تلاش کی ضرورت نہیں بلکہ مهاجرین وانصار کے اجماع کی ضرورت ہے۔
  3.  مہاجرین وانصار کے فیصلہ کے بعد جو شخص ان کے فیصلہ کو چھوڑ کر نئی راہ نکالتا ہے وہ واجب القتل ہے اور خارج از اسلام ہے یعنی سیدنا علیؓ نے یہ واضح کر دیا کہ انہوں نے تقیہ کر کے خلفائے ثلاثہؓ کی بیعت نہیں کی تھی بلکہ ان کے فیصلہ کو اللہ کا پسندیدہ فیصلہ سمجھ کر سچے دل سے بیعت کی تھی اگر کہا جائے کہ تقیہ کیا تھا تو ظاہراً وہ جرم سے بچ گئے مگر وہ عنداللہ تو واجب القتل اور خارج از اسلام ہی ٹھہرے اس سے وہ کیسے بچ سکتے تھے۔

لہٰذا سیدنا علیؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بتا دیا کہ جس طرح میں نے مہاجرین و انصار کے فیصلہ کو اللہ کا پسندیدہ فیصلہ سمجھ کر خلفائے ثلاثہؓ کی بیعت کی اسی طرح آج مہاجرین و انصار کے میرے حق میں فیصلہ کوتم بھی اللہ کا پسندیدہ فیصلہ تسلم کرو اور میری بیعت کرلو اس اصول پر علامہ بحرانی نے مزید روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے:

شرح نہج البلاغه علامه میثم بحرانی جلد 4 صفحہ 353:

وحصر الشورى والاجماع فی المهاجرين والانصار لانهم اہل الحل والعقد من امة محمدﷺ فاذا اتفقت كلمتهم على حكم من الاحكام كاجتماعهم على بیعتہ وتسمية اماما كان ذلك اجماعا حقا هو رضی الله ای مرضی لہ وسبيل المؤمنين الذی يجب اتباعه فان خالف امرهم وخرج بطعن فيهم او فيمن اجمعوا علیه کخلاف معاويهؓ طعنه فيه بقتل عثمانؓ و نحوه او بدعة كخلاف اصحاب جمل وبدعتهم في نکث بیعته ردوه الی ما خرج عنه فان ابي قاتلوه على اتباعه غير سبيل المومنين حتى يرجع اليه وولاه الله ما تولى و اصلاه جهنم۔

ترجمہ: اور سیدنا علیؓ نے شوریٰ اور اجماع کو مہاجرین و انصار کی جماعت میں بند کر دیا کیونکہ امتِ محمدیہ میں وہی لوگ اہلِ حل و عقد ہیں اگر مہاجرین و انصار کسی حکم پر متفق ہو جائیں جیسے سیدنا علیؓ کی بيعت پر متفق ہو گئے یہ اجماع ان کا حق ہے اور وہی خدا کا پسندیدہ ہے اور یہی اہلِ ایمان کی راہ ہے جس کی اتباع واجب ہے اور اگر کوئی شخص ان مهاجرین و انصار پر یا ان کے فیصلہ پر طعن کر کے ان كا مخالف ہو جائے جیسے سیدنا امیر معاویہؓ کا ان پر قتل سیدنا عثمانؓ کا طعن کر کے ان کے مخالف ہونا یا اصحابِ جمل کی طرح نئی راہ نکال کے اور بیعت توڑ کے مخالف ہونا سو ایسے شخص کو اسی سیدھی راہ پر لاؤ جہاں سے وہ ہٹا ہے اگر وہ انکار کرے تو اس سے لڑو کیونکہ وہ مسلمانوں کی راہ سے ہٹ گیا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اگر نہ لوٹا تو اسے گمراہی پر چھوڑ دے گا اور اسے جہنم میں پہنچادے گا۔

شرح نہج البلاغه درالنجفیہ صفحہ 298 پر بعینہ یہی عبادت موجود ہے اور شرح نہج البلاغہ فیض 301۔834 بھی عبارت فارسی موجود ہے۔

ان شارحین نے سیدنا علیؓ کے قول کی شرح کرتے ہوئے کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رہنے دیا انہوں نے واضح کر دیا کہ:

  1. خلافت و امامت کے لئے فیصلہ کن بات مہاجرین و انصار کا اجماع ہے اور بس۔
  2. سیدنا علیؓ اپنی خلافت سیدنا امیرِ معاویہؓ سے منوانا چاہتے تھے اگر اس کے لئے کوئی نص ہوتی تو یقیناً پہلے وہی پیش کرتے۔
  3.  مہاجرین و انصار جس کی امامت اور خلافت پر اجماع کر لیں وہی خدا کا پسندیدہ ہے لہٰذا خلفائے ثلاثہؓ کی طرح سیدنا علیؓ بھی خلیفہء برحق ہیں۔
  4.  مہاجرین و انصار کا راستہ سبیل المومنین ہے اور ان کا اتباع واجب ہے۔
  5.  مہاجرین و انصار کی ذات یا ان کے فیصلے پر جو طعن کرے وہ مسلمانوں کی راہ چھوڑ بیٹھا لہٰذا واجب القتل ہے بقول سیدنا علیؓ ظاہر ہے کہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ خلفائے ثلاثہؓ کے حق میں مہاجرین و انصار کے فیصلے پر طعن کر کے واجب القتل ٹھہرتے اور مسلمانوں کی راہ کو چھوڑ بیٹھتے۔ 
  6.  یہ اصول سیدنا علیؓ کا بیان اور ان کا فتویٰ ہے لہٰذا جو شخص سیدنا علیؓ کے فتویٰ کو قبول نہیں کرتا وہ مہاجرین و انصار کا مخالف سیدنا علیؓ کا دشمن اور اسلام سے کوسوں دور۔
صفحہ 9 از 27