Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعوں کو دعوت دینا


حضرت مولانا محمد اعظم طارق شہید رحمۃ اللہ کا فرمان

سوال: سپاہ صحابہؓ والے شیعہ کو دعوت کیوں نہیں دیتے ہے؟

جواب: شیعوں کی کتاب ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور جلد، 2 صفحہ،41 پر شیعوں کا عقیدہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مشکلات اور مصیبتوں میں پکارنا تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہیں۔ لہٰذا جس گروہ اور طبقہ نے معاذ اللہ انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی شرک کے ارتکاب کا مرتکب قرار دیا ہو، اس کی ہدایت کی اُمید کرنا ہی بے وقوفی ہے۔ کیونکہ عام مشرک کو اگر شرک کی خباثت سے آگاہ کریں تو اس کے باز آنے کی امید ہو سکتی ہے لیکن جو گروہ اور طبقہ شرک کو انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت قرار دے رہا ہو، پھر اس سے اسلام اور توحید کی توقع رکھنا بالکل ایسے ہے جیسے کوئی پاگل شخص سے دانائی کے اسباق پڑھنے کا خواہاں ہو۔ (خطبات جرنيل: جلد، 1 صفحہ، 40)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ یہ بات تجربہ شدہ ہے کہ شیعہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔

ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں:

یہ کروڑ لعل عیسن کے ایک بزرگ گزرے ہے، پیر آف سواگ شریف خواجہ غلام حسین سواگؒ، وہ بہت بڑے بزرگ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی کرامات اور نظر عطا کی تھی کہ اگر کسی کافر کو نظر بھر کر دیکھ لیتے اور فرماتے کلمہ پڑھ تو وہ کلمہ پڑھنے لگ جاتا۔ ہندو کلمہ پڑھنے لگ گئے ل، عیسائی کلمہ پڑھنے لگ گئے، انگریز کلمہ پڑھنے لگ گئے، تو عیسائیوں نے بھکر کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ یہ ہمارے بچوں کو زبردستی مسلمان بناتے ہیں۔ عدالت نے طلب کر لیا تو پیر صاحب چلے گئے۔ انگریز جج نے کہا بابا جی! آپ ہندؤوں اور غیر مسلموں کو زبردستی کلمہ کیوں پڑھاتے ہو؟ بابا جی نے فرمایا: میں نے آپ کو کب کہا ہے کہ آپ کلمہ پڑھیں۔ اتنی دیر تھی کہ وہ جج بھی کلمہ پڑھنے لگ گیا۔حضرت پیرؒ سے کسی نے سوال کیا کہ اتنے لوگ آپ نے مسلمان بنائے مگر کبھی شیعہ مسلمان نہیں ہوا، آپ نے کبھی ان کو مسلمان نہیں بنایا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت پیرؒ نے جواب دیا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہر آدمی جو پیدا ہوتا ہے اس کے دل میں ایمان والی کونپل ہوتی ہے۔ مگر وہ آہستہ آہستہ سوکھ جاتی ہے، جب کوئی کافر اور بے ایمان ہو جاتا ہے، بڑے ہو کر وہ کونپل سوکھ جاتی ہے، میں اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے جب اپنی نظر کا پانی دیتا ہوں، جب میں توجہ ڈالتا ہوں تو وہ سوکھی ہوئی کونپل ہری ہو جاتی ہے لیکن ان شیعوں، ان بدترین کافروں کے دلوں میں وہ ایمان والی کونپل سوکھی نہیں بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دے دے کر وہ کونپل جل گئی ہے، میں لاکھ مرتبہ ایمان کا پانی دوں پھر بھی وہ ہری نہیں ہوتی۔ اور وہ ہری کیسی ہو، خود اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبرﷺ سے فرماتے ہیں: اے محبوب! یہ ایسے بڑے بے ایمان اور کافر ہیں اگر ستر مرتبہ ان کے لئے بخشش کی دعا کی جائے تب بھی قبول نہیں ہو گی۔ لہٰذا ان کا ایمان جل جاتا ہے اور یہ منکر صحت قرآن ہیں، اگر ہو سکے تو شیعہ کے قدم پر قدم نہ رکھو۔

(جہاد باالمنافقين: صفحہ، 29)