احسن طریقے سے وعظ کا اسلوب
علی محمد الصلابیسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دعوت الی اللہ میں مواعظ حسنہ کا اسلوب اپنایا۔ کبھی تو وہ ترغیب دلاتیں اور کبھی کبھار ترہیب کو بھی استعمال کرتیں۔ ذرا غور کریں وہ مومنات کو پردہ کی اہمیت بتلاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی سے انھیں خوف بھی دلاتی ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتی ہیں۔ وہ ان سے فرماتی ہیں:
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
مَا مِنِ امْرَاَۃٍ تَضَعُ ثِیَابَہَا فِیْ غَیْرِ بَیْتِ زَوْجِہَا اِلَّا ہَتَکَتْ السَّتْرَ بَیْنَہَا وَ بَیْنَ رَبِّہَا
(صحیح سنن ترمذی: حدیث نمبر 2803۔ اسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے (صحیح سنن ترمذی: حدیث 2803)صحیح کہا ہے ۔
ترجمہ:’’جو عورت بھی اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ کہیں اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اس کے اور رب کے درمیان حائل شرم و حیا کے پردے کو پھاڑتی ہے۔‘‘
وہ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کو جب ان کا کچھ لوگوں سے کسی معاملے میں جھگڑا تھا، نصیحت کرتے ہوئے فرماتی ہیں:’’اے ابو سلمہ! تم زمین چھوڑ دو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:,
مَنْ ظَلَمَ قِیْدَ شِبْرٍ مِّنْ اَرْضٍ طُوِّقَہٗ مِنْ سَبْعِ اَرَضِیْنَ (صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2453۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1612۔)
ترجمہ:’’جس نے ایک بالشت کے برابر زمین میں کسی پر ظلم کیا اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔‘‘
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تلاوت قرآن نہایت احسن انداز میں کرتی تھیں اور اکثر اوقات تلاوت کرتی تھیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بار بار دہراتیں:
مَثَلُ الَّذِی یَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَہُوَ حَافِظٌ لَہُ، مَعَ السَّفَرَۃِ الْکِرَامِ، وَمَثَلُ الَّذِی یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَ ہُوَ یَتَعَاہَدُہُ، وَہُوَ عَلَیْہِ شَدِیدٌ فَلَہُ أَجْرَانِ۔
ترجمہ:’’اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ ہو تو وہ معزز فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کی پابندی کرتا ہے اگرچہ وہ اس پر مشکل ہو تو اسے دو اجر ملیں گے۔‘‘
مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:
الْمَاہِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَۃِ الْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ، وَالَّذِیْ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَیَتَتَعْتَعُ فِیہِ، وَہُوَ عَلَیْہِ شَاقٌّ لَہُ أَجْرَانِ۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4937۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 798۔)
’’قرآن کا ماہر معزز اور اعلیٰ فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو قرآن پڑھتا ہو اور ہکلاتا ہو اور وہ اس پر مشکل ہو تو اسے دو اجر ملیں گے۔‘‘
جب بھی کسی کو مسلمانوں کے کسی معاملے کی ذمہ داری ملتی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسے ضرور مواعظہ حسنہ سناتیں اور اسے مسؤلیت کی اہمیت بتلاتیں ۔عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کوئی مسئلہ پوچھنے آیا تو آپؓ نے فرمایا:
’’تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا: میں مصر سے آیا ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تمہارا گورنر تمہارے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے؟ میں نے کہا: ہمیں اس میں کوئی عیب نظر نہیں آتا۔ اگر ہم میں سے کسی کا اونٹ مر جائے تو وہ اسے اونٹ دے دیتا ہے اور جس کا غلام مر جائے اسے غلام دے دیتا ہے اور جو نان و نفقہ کا محتاج ہو اسے نان و نفقہ دے دیتا ہے۔ آپؓ نے فرمایا: مجھے اس کا میرے بھائی محمد بن ابی بکر سے کیا جانے والا سلوک حق بات کہنے سے نہیں روکتا۔ میں تمھیں بتلاتی ہوں کہ میں نے اپنے اس گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اے اللہ! جس کے سپرد میری امت کا کوئی معاملہ ہوا اور اس نے ان پر سختی کی تو تو بھی اس پر سختی کر اور جس کے سپرد میری امت کا کوئی معاملہ ہوا اور اس نے ان پر نرمی کی تو تُو بھی اس پر نرمی کر۔‘‘
(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔ )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اسلوب دعوت الی اللہ میں مواعظہ حسنہ کے ساتھ نمایاں ہوا اور یہ اس لیے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث و سنن کی حافظہ بھی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں فصاحت لسان، بلاغت نطق اور خطابت کا خصوصی ملکہ عطا ہوا تھا جو کہ دعوت الی اللہ کے لیے مواعظہ حسنہ کے ساتھ سب سے عمدہ اسلوب سمجھا جاتا ہے۔ احنف بن قیس کا قول پہلے گزر چکا ہے کہ:
’’میں نے سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد والے خلفاء کے خطبات سنے، میں نے اتنا عمدہ اور احسن کلام کسی انسان کے منہ سے نہیں سنا جتنا خوبصورت کلام میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے منہ سے سنا۔‘‘
موسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں :’’میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑا فصیح نہیں دیکھا۔‘‘
(اس کی تخریج گزر چکی ہے)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے زیاد (زیاد بن عبید ابو مغیرہ ثقفی، ہجرت والے سال پیدا ہوا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مسلمان ہوا، سرداری اور فصاحت میں اس کی مثالیں بیان کی جاتی ہیں جب سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بصرہ کے گورنر تھے یہ ان کا سیکرٹری تھا۔ اس نے سب سے پہلے اہل عراق کو اکٹھا کیا۔ تقریباً 102 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 3 صفحہ 494۔ وفیات الاعیان لابن خلکان: جلد 6 صفحہ 313) سے پوچھا: لوگوں میں سے سب سے بڑا بلیغ کون ہے تو اس نے کہا اے امیر المومنین! آپ ہیں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تجھے قسم دیتا ہوں۔ زیاد نے کہا: جب آپ نے مجھے قسم دے دی تو اب بتانے میں کوئی حرج نہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سب سے بڑی بلیغ ہیں۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس نے جو دروازہ کھولا اور وہ اسے بند کرنا چاہے تو میں اسے بند رکھوں گا اور اس نے جو دروازہ بند کیا اور وہ کھولنا چاہے تو میں بھی اسے کھول دوں گا۔
(تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 19 صفحہ 196۔
انھوں نے دعوت الی اللہ کے لیے مواعظ حسنہ کا اسلوب احادیث سے سمجھا کیونکہ احادیث نبویہ میں تخویف، وعید، روزِ قیامت کی ہولناکیوں کے ذریعے نصیحت اور دنیا میں زہد اور اس کے سامان کی! وغیرہ سارے ابواب موجود ہیں ۔
(السیدۃ عائشہ بنت ابی بکر رضی ا للّٰہ عنہما لخالد العلمی: صفحہ 146)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ کے دین کی دعوت دینے والوں کو ہمیشہ نصیحت کرتی تھیں اور ان کی راہنمائی کرتی تھیں۔ اس کی مثال عبید بن عمیر رحمہ اللہ کی ان کے پاس آمد کے وقت ہے:
’’آپ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ تو میں نے کہا: عبید بن عمیر۔ انھوں نے فرمایا: عمیر بن قتادۃ، میں نے کہا: جی اماں جان۔ انھوں نے فرمایا: مجھے پتا چلا ہے کہ تم لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے بیٹھتے ہو اور لوگ بھی تمہارا وعظ سننے کے لیے تمہارے پاس آتے ہیں۔ میں نے کہا: اے ام المومنین! بالکل اسی طرح ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: خبردار! تم لوگوں کو مایوس نہ کرو اور نہ انھیں ہلاکت میں ڈالو۔‘‘
(مصنف عبدالرزاق: جلد 3 صفحہ 219)