ذاتی زندگی کو عمدہ نمونہ بنانے کا اسلوب
علی محمد الصلابیبلاشبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ساری زندگی ایمان، عمل صالح، حسن اخلاق، ایثار، قربانی، صبر، زہد وغیرہ کے لیے ضرب المثل بن گئی ہے۔ ان خوبیوں اور امتیازات کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے لیے پیشوائی کے درجے پر فائز ہو چکی ہیں۔ اہل اسلام ہر زمانے میں ان کی سیرت کو اپنا راہنما مانتے آئے ہیں اور ان کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ہر مسلمان کے لیے واقعہ افک میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے صبر، توکل علی اللہ، مصیبت کو برداشت کرنے کا حوصلہ اور اللہ کے ساتھ حسنِ ظن مشعلِ راہ بنتے ہیں۔ اس حادثے میں آپ رضی اللہ عنہا نے کتنی اذیت اور دُکھ صبر کے ساتھ برداشت کیے، حتیٰ کہ آپ رضی اللہ عنہا کہہ اٹھیں:
’’اللہ کی قسم! میرے علم کے مطابق کہ ان دنوں جتنے دکھ آل ابی بکر کو سہنے پڑے شاید کسی اور کو سہنے پڑے ہوں۔‘‘
(تاریخ ابن شبہ: جلد 1 صفحہ 328۔ تاریخ طبری: جلد 2 صفحہ 112۔ اسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے فقہ السیرۃ: صفحہ 288 پر صحیح کہا ہے۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہر مسلمان کے لیے تنگ حالی میں صبر و یقین کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لیے بھی ایک نمونہ ہے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
’’بے شک ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مہینا گزر جاتا، ہمارا چولھا نہیں جلتا تھا، ہمارا کھانا صرف کھجوریں اور پانی ہوتے تھے۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 6458۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2972)
آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وفات پائی تو میرے تھیلے میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی جسے کوئی ذی روح کھا سکے۔ البتہ مٹھی بھر جو ضرور تھے تو میں نے اسے کھانا شروع کیا جب مجھ پر کافی عرصہ گزر گیا تو میں نے اس کا وزن کر لیا تب وہ ختم ہو گئے۔‘‘
(اس کی تخریج گزر چکی ہے)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خانگی بسر اوقات ہر مسلمان عورت کے لیے ایک نمونہ ہے کہ ایک مسلمان عورت کس طرح اپنے خاوند کی خدمت کرتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
’’میرے ذمے رمضان کے روزوں کی قضا ہوتی تو میں ان کی قضا اگلے شعبان تک مؤخر کر دیتی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے فرصت ہی نہیں ملتی تھی۔‘‘
(اس کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔ )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوری امت کی توجہ اپنی زندگی کے تمام امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی طرف مبذول کروائی۔ مثلاً وہ اہل ایمان کی توجہ اس طرح دلاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے شوق میں وہ ہر اچھا کام دائیں طرف سے شروع کیا کریں۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنگھی کرنے میں، جوتا پہننے میں، وضو کرنے میں بلکہ اپنے عام معاملات میں دائیں طرف سے شروع کرنے کو پسند کرتے تھے۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 168۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 268)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسلمانوں کی توجہ حسن تخاطب و شیریں کلامی کی طرف دلاتی ہیں اور مسلسل باتیں کرنے اور بغیر وقفے کے لگاتار گفتگو کرنے سے منع کرتے ہوئے فرماتی ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح مسلسل گفتگو نہ کرتے تھے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقفہ وقفہ سے واضح کلام کرتے تھے۔ جو بھی آپﷺ کی مجلس میں ہوتا وہ آپﷺ کی ہر بات کو آسانی سے یاد کر لیتا۔‘‘
(صحیح سنن الترمذی للالبانی رحمہ اللہ: حدیث نمبر: 3639۔ السیدۃ عائشۃ بنت ابی بکر رضی ا للّٰہ عنہما لخالد العلمی: صفحہ 157۔ اور بغوی نے اسے ’’شرح السنۃ: جلد 7 صفحہ 46‘‘ پر صحیح کہا ہے۔)