تفسیر آیت دعوت اعراب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیت دعوت اعراب

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 3

سَيَقُولُ ٱلۡمُخَلَّفُونَ إِذَا ٱنطَلَقۡتُمۡ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأۡخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعۡكُمۡ‌ۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُواْ كَلَـٰمَ ٱللَّهِ‌ۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا ڪَذَٲلِكُمۡ قَالَ ٱللَّهُ مِن قَبۡلُ‌ۖ الخ (سورة الفتح آیت نمبر15)۔

جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ عنقریب جب تم (خیبر کی) غنیمتیں لینے چلو گے کہیں گے کہ ہم کو بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں وہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ خدا کے حکم کو بدل ڈالیں آپﷺ کہہ دیجیے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے خدا تعالیٰ نے پہلے سے ہی یوں فرما دیا ہے۔

 پھر غزوہ تبوک سے بھی ان لوگوں کو منع کر دیا گیا کما قال تعالیٰ:

فَإِن رَّجَعَكَ ٱللَّهُ إِلَىٰ طَآٮِٕفَةٍ۬ مِّنۡہُمۡ فَٱسۡتَـٔۡذَنُوكَ لِلۡخُرُوجِ فَقُل لَّن تَخۡرُجُواْ مَعِىَ أَبَدً۬ا وَلَن تُقَـٰتِلُواْ مَعِىَ عَدُوًّا‌ۖ إِنَّكُمۡ رَضِيتُم بِٱلۡقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ۬ فَٱقۡعُدُواْ مَعَ ٱلۡخَـٰلِفِينَ۝۔ (سورة التوبہ آیت نمبر83)

ترجمہ: سو اگر اللہ تعالی آپ ﷺ کو (اس سفر سے مدینہ کو صحیح و سالم) ان کے کسی گروہ کی طرف واپس لائے پھر یہ لوگ (کسی جہاد میں) چلنے کی اجازت مانگیں تو آپﷺ یوں کہہ دیجئے کہ تم کبھی بھی میرے ساتھ نہ چلو گے اور نہ میرے ہمراہ ہو کر کسی دشمن (دین) سے لڑو گے تم نے پہلے بھی بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا تو لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہو جو واقعی پیچھے رہ جانے کے لائق ہی ہیں ۔

اس آیت سے واضح ہو گیا کہ ان لوگوں کو معیت رسولﷺ سے مطلقا منع کر دیا گیا تھا ۔ پھر جنگ حنین ہوئی اول تو جنگ غیر عربوں کے خلاف نہیں تھی پھر قرآن نے ان کی صفت أُوْلِى بَأۡسٍ شَدِيدٍ نہیں بتائی بلکہ وہ تو اقل اور اذل تھے اس لیے اس جنگ میں اعراب کو دعوت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

لم يصح ان النبیﷺ دعا الاعراب يوم حنين وايضا لم يكونوا اولی باس شديد بالنسبة الى عسكر الاسلام بل كانوا قليلا ذليلا فی مقابلة جم غفير۔ (مظہری)۔

ترجمہ: یہ صحیح نہیں کہ حضور اکرمﷺ نے حنین کی جنگ میں اعراب کو دعوت دی ہو اور حنین لشکر اسلام کے مقابلے میں سخت جنگجو بھی نہیں تھے اور تھوڑے اور کمزور بھی تھے۔

اور تفسیر جمل میں ہے:

وفی الاية دليل على صحة امامة ابی بكرؓ و عمرؓ لان ابا بكرؓ دعاهم الى بنی حنيفه وعمرؓ دعاهم الى قتال فارس والروم واما قالوا عكرمه وقالوا قتاده ان ذلك فی هوازن وغطفان يوم حنين فلا لانه يتمنع ان يكون الداعی لهم الرسولﷺ لانه قال لن تخرجوا معی ابدا ولن تقاتلوا معی عدوا فدل على انه اراد غير النبیﷺ ومعلوم انه لم يدو هؤلاء القوم بعد النبیﷺ الا ابو بكرؓ و عمرؓ۔

ترجمہ: اس آیت میں سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی خلافت کی دلیل ہے کیونکہ ان کو سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے جنگِ یمامہ میں دعوت دی اور سیدنا عمرؓ نے فارس اور روم کی جنگوں میں دعوت اور عکرمہ اور قتادہ کا یہ قول کہ انہیں ہوازن غطفان اور حنین میں بلایا گیا درست نہیں کیونکہ حضور اکرمﷺ کا بلانا ممکن نہیں کیونکہ اللہ کے حکم سے وہ اعلان کر چکے تھے کہ تم میرے ساتھ مل کر کبھی جنگ کے لیے نہیں نکلو گے اور ہرگز جنگ نہیں کرو گے یہ دلالت کرتی ہے کہ اس سے مراد نبیﷺ کے علاوہ کوئی اور ہوگا اور اس قوم کو نبی کے بعد سوائے سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے کسی نے نہیں بلایا۔

اور دوسری جانب بھی احتمال کا اظہار کیا گیا ہے مثلاً: 

شیخ ابنِ مطہر حلی شیعہ دست پازدہ جواب آوردہ است کہ شادی آنحضرت است و جائز است کہ آنحضرت در غزوات دیگر کہ قتال ہم واقع شدہ است دعوت نمودہ باشند اما منقول نہ شدہ باشد۔

حلی نے جواب دینے کی مجنونانہ کوشش کی ہے کہ بلانے والے حضور اکرمﷺ ہیں یہ ہوسکتا ہے کہ حضور اکرمﷺ نے دوسرے جنگوں میں انہیں دعوت دی ہو لیکن وہ نقل ہونے سے رہ گئی ہے۔

اسی طرح بعض مفسرین نے بھی احتمال کو نقل کر دیا ہے مثلاً: 

وان قالوا لم يدعوهم النبیﷺ والنفی والجزم به فی غاية البعد لجواز ان يكون ذلك قد وقع و لم ينقل۔

ترجمہ: اور اگر کہا جائے کہ نبیﷺ نے انہیں نہیں بلایا تو اس کی قطعی نفی بعید از قیاس ہے کیونکہ ممکن ہے بلایا ہو مگر ان کا بلانا نقل نہ کیا گیا ہو۔

 اور بعض مفسرین نے اس کو مقید کیا ہے کہ جب تک وہ نفاق پر تھے رسول اللہﷺ نے ان کو نہیں بلایا تھا ای لن تخرجوا معی ابدا و انتم ما انتم علیہ ای من النفاق ایسے تمام احتمالاتِ فاسدہ کے متعلق تحفہ اثناء عشریہ میں وضاحت کی گئی ہے۔

درکاکت ایں احتمالات پوشیدہ نیست زیرا کہ در باب اخبار و سیر و تواریخ بمجرد احتمالات سک کردن شان عقلا نیست والا در ہر مقدمہ احتمالے تواں برآورد۔

ترجمہ: ان احتمالات کا گھٹیا پن پوشیدہ نہیں ہے کیونکہ تاریخ و سیرت کے معاملے میں محض احتمالات کو پلے باندھ لینا داناؤں کی شان کے خلاف ہے ورنہ ہر بات میں احتمال پیدا کیا جاسکتا ہے۔ 

اور جس نے وانتم ما انتم علیہ ای من النفاق کی قید لگائی ہے تو صاف طور پر قرآن کو اپنے ظاہر سے پھیرنا ہے جو قابلِ قبول نہیں جب قرآن میں ابداً کی قید موجود ہے تو ما انتم کا کیا مطلب؟ اور جن حضرات نے داعی سے مراد رسول اللہﷺ کی ذات بھی لی ہے ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ خلفائے ثلاثہؓ داعی ہی نہیں تھے ان کی نفی نہیں کی بلکہ رسول کریمﷺ کو بھی داعی کہا اور خلفائے ثلاثہؓ کو بھی داعی قرار دیا۔ بہرحال جنگِ حنین کے متعلق یہ ثابت نہیں کہ حضور اکرمﷺ نے اعراب کو دعوت دی ہو زبانی احتمالات جو ناشی از دلیل نہ ہو قابلِ تسلیم نہیں۔

صفحہ 2 از 3