تفسیر آیت دعوت اعراب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیت دعوت اعراب

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 3

پھر یہ بدو خالص منافق نہ تھے بلکہ کمزور ایمان والے تھے اسلئے یہ ما انتم ما انتم علیہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا رہا سیدنا علیؓ کے بلانے کا سوال تو بیان کیا جا چکا ہے کہ یہ محض خلافت تسلیم کرانے کے لئے تھا پھر حضور اکرمﷺ کے عہد میں فتح مکہ والی مہم ہوئی مگر اس میں جنگ تو ہوئی نہیں البتہ عکرمہ بن ابی جہل نے چند اوباش قسم کے لوگ جمع کئے کچھ بنوبکر اور بنو حارثہ نے جمع کئے مگر جب سیدنا خالد بن ولیدؓ پہنچے اور ایک ہلہ میں 28 آدمی قتل کئے تو معاملہ ختم ہوگیا پھر یہ جنگ ہو بھی تو غیر عربوں کے خلاف نہیں اور اُوْلِیْ بَأسٍ شَدِیْدٍ کے مقابلے میں نہیں اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ صلح حدیبیہ میں شامل نہ والے اعراب کو حضور اکرمﷺ نے کسی غیر عرب جنگجو قوم کے خلاف جنگ کرنے کے لئے نہیں بلایا بلکہ حکمِ خداوندی کے مطابق ان لوگوں کو حضور اکرمﷺ کی معیت سے ہمیشہ کے لئے منع کردیا گیا۔

اب سَتُدْعَوْنَ کا مصداق نائبِ رسولﷺ ہی رہ جاتا ہے چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ صرف خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں:

  1. غیر عرب اقوام سے جنگیں ہوئیں۔
  2.  اُوْلِیْ بَأسٍ شَدِیْدٍ یعنی سخت جنگجو اور طاقت ور اقوام کے خلاف جنگیں ہوئیں۔
  3.  ان اعراب کو ان جنگوں میں شامل ہونے کے لئے خلفائے ثلاثہؓ نے دعوت دی یا خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت قرآنِ مجید کی موعودہ خلافت ہوئی اور خلافتِ راشدہ ہوئی ان کی اطاعت موجب اجرِ عظیم اور انکی نافرمانی عَذَابٍ اَلِیْمٍ کا سبب ہوئی۔

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق 

ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما!۔


صفحہ 3 از 3