تفسير آیت معیت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسير آیت معیت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 8

تفسير آیتِ معیت

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ‌ۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥۤ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَہُمۡ‌ۖ تَرَٮٰهُمۡ رُكَّعً۬ا سُجَّدً۬ا يَبۡتَغُونَ فَضۡلاً۬ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٲنً۬ا‌ۖ سِيمَاهُمۡ فِى وُجُوهِهِم مِّنۡ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ‌ۚ ذَٲلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى ٱلتَّوۡرَٮٰةِ‌ۚ وَمَثَلُهُمۡ فِى ٱلۡإِنجِيلِ كَزَرۡعٍ أَخۡرَجَ شَطۡـَٔهُ فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسۡتَغۡلَظَ فَٱسۡتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعۡجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِہِمُ ٱلۡكُفَّارَ‌ۗ الخ۔ (سورة الفتح آیت نمبر 29)۔ 

ترجمہ: محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپﷺ کی صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلے میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کر رہے ہیں کبھی سجدہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہیں ان کے آثار بوجہ تاثیرِ سجدہ کے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں ان کے یہ اوصاف توریت میں ہیں اور انجیل میں ان کا یہ وصف ہے کہ جیسے کھیتی کہ اس نے اپنی سوئی نکالی پھر اس نے اس کو قوی کیا پھر وہ موٹی ہوئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی کہ کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگے تاکہ ان سے کافروں کو جلاوے۔

یہ آیت سورۃ الفتح کی آخری آیت ہے یہ سورۃ صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زخمی دلوں کے لیے مرہم کا کام دیا۔ 

اس میں سب سے پہلے حضور اکرمﷺ کا نام لے کر آپﷺ کی صفتِ رسالت کا بیان ہوا چونکہ اس فصل میں سارے کمالات آ جاتے ہیں اس لیے حضورﷺ کے صرف اسی وصف کا تذکرہ فرما کر کوزے میں دریا کو بند کر دیا ہے پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حدیبیہ والوں کے اوصاف بیان فرمائے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے یہ کمالات حضور اکرمﷺ کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ ہی تو ہیں اس لیے یہ بتانا مقصود تھا جس استاد کے شاگردوں جس مربی کے تربیت یافتہ لوگوں میں یہ اوصاف اور یہ کمالات پائے جائیں اسے استاد کے کمالات کا اندازہ کر لو قاعدہ ہے کہ استاد کا کمال اس کے شاگردوں سے ہی ظاہر ہوتا ہے اور مرشد کے کمال کا اظہار اس کے مریدوں سے ہوتا ہے اوصاف دو قسم کے ہوتے ہیں ایک صفت بحالہٖ اور دوسرا بحالِ متعلقہ ہیں ان کے بیان کا مقصد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تسلی اور دلداری تھی اس لیے تفصیل سے بیان فرمائے آیت کے دو حصے ہیں محمد رسول اللہﷺ ایک دعویٰ ہے والذین معہ الخ اس دعویٰ کی دلیل ہے حضور اکرمﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا اس دعوے کے ثبوت کے لیے چشم دید گواہ کون ہیں؟ کفار قریش یہودِ مدینہ؟ یہ تینوں فرقے اسلام داعی اسلام اور قرآن کے دشمن تھے پس چشم دید گواہ جن کی گواہی پر اعتماد کیا جا سکتا ہے وہ صرف مہاجرین اور انصار تھے اگر کسی دعویٰ کے گواہ سارے کے سارے جھوٹے اور مجروح ہوں تو وہ دعویٰ ثابت ہی نہیں ہوتا اس لیے اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اعتماد نہ کیا جائے اور ان کو جھوٹا سمجھا جائے تو حضور اکرمﷺ کی نبوت کیوں کر ثابت ہوگی۔

قرآنِ کریم نے حضور اکرمﷺ کی نبوت پر چار قسم کے دلائل بیان فرمائے ہیں:  

  1.  گزشتہ کتبِ مقدسہ کی پیشنگوئیاں جو حضور اکرمﷺ پر صادق آئیں۔
  2. وہ معجزات جو حضور اکرمﷺ سے ظاہر ہوئے۔
  3. وہ تعلیمات جو آپﷺ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے پیش کیے۔

شاگردوں کی وہ جماعت جن کے کمالات اور فضائل کی نظیر تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی پہلے تین قسم کے دلائل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر موقوف ہیں کیونکہ یہی چشم دید گواہ اور ناقل ہیں۔

قاعدہ ہے کہ کسی دعویٰ کے گواہ سے شہادت لینے سے پہلے اس کی سیرت کے متعلق اطمینان کر لیا جاتا ہے اگر اس کی سیرت قابلِ اعتبار نہ ہو تو وہ مردود و الشہادت قرار دیا جاتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریمﷺ کی نبوت کے عینی شاہدوں کی سیرت کے تمام پہلو چند الفاظ میں بیان فرما دیئے ہیں کہ: 

أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَہُمۡ‌ۖ تَرَٮٰهُمۡ رُكَّعً۬ا سُجَّدً۬ا يَبۡتَغُونَ فَضۡلاً۬ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٲنً۬ا‌ۖ سِيمَاهُمۡ فِى وُجُوهِهِم مِّنۡ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ‌ۚ ذَٲلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى ٱلتَّوۡرَٮٰةِ‌ۚ وَمَثَلُهُمۡ فِى ٱلۡإِنجِيلِ الخ۔ (سورۃ الفتح آیت نمبر 29)۔ 

 یعنی ان کے ظاہر و باطن کے لیے بے داغ اور مثالی ہونے کا اعلان اللہ تعالیٰ نے فرما دیا سب سے پہلے ان کے معاملات کے متعلق فرمایا کہ ان میں غصہ اور رحمت دونوں صفتیں ملکہء راسخہ کی حیثیت سے پائی جاتی ہیں ان اوصاف کا اظہار اور استعمال ٹھیک اپنے محل پر کرتے ہیں۔ 

قال الرازی جميعهم أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَہُمۡ‌ۖ وصف الشدة والرحمة وجد في جميعهم قال تعالىٰ والف بين قلوبهم لو انفقت ما فی الارض جميعا ما الفت بين قلوبهم ولكن لله الف بينهم اذله على المؤمنين اعزة علی الكافرين قال صاحب المظهری رغم انف الروافض الذين يزعمون ان اصحاب محمد كانوا يتباغضون بينهم۔ 

ترجمہ: امام رازی فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سارے کے سارے کفار کے مقابلے میں سخت اور آپس میں رحیم ہیں کیونکہ شدت اور رحمت کا وصف سب میں پایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اتفاق پیدا کر دیا ہے اگر آپ دنیا بھر کا مال خرچ کرتے تب بھی ان کے قلوب میں اتفاق پیدا نہ کر سکتے لیکن اللہ ہی نے ان میں باہم اتفاق پیدا کر دیا اور فرمایا مہربان ہوں گے مومنوں پر تیز ہوں گے کافروں پر صاحب مظہری نے فرمایا روافض کی ناک خاک الود ہو جو یہ خیال کرتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باہم بغض رکھتے ہیں۔ 

قرآنِ کریم میں ایک اور موقع پر بھی اس جمعیت کی تائید ہوتی ہے کما قال اللہ تعالیٰ وٙاعْتَصِمُوْا بِخَبْلِ اللّٰهِ جَمِیعاً اس میں جمیعاً حال ہے وٙاعْتَصِمُوْا کے فاعل سے یا مفعول بِخَبْلِ اللّٰهِ سے یا دونوں سے۔

صفحہ 1 از 8