تفسير آیت معیت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسير آیت معیت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 8

معناه حال كونكم مجتمعين فی الاعتصام يعنى خذوا فی الاعتصام یعنی خذوا فی تفسير كتاب الله وتاويله ما اجتمع عليه الامة ولا تذهبوا الى خبط ارائكم على خلاف الاجماع وعلى تقدير ان يكون حالا من المفعول والمعنی اعتصموا بجميع كتاب الله ولا تفرقوا عن الحق ولم يتفرق الصحابة رضوان الله عليهم اجمعين فی زمان النبیﷺ ولا فی خلافة ابی بكرؓ وعمرؓ وعثمانؓ رضوان الله عليهم اجمعين واول بغی كان على الامام الحق خروج اهل مصر على عثمانؓ واول اختلاف وقع فی امر القصاص كان من معاويهؓ واول اختلاف فی الدين اختلاف الحروريه الذين خرجوا علىٰ علیؓ ثم اوقع الخلاف ورفض الحق عبدالله بن سباء منشأ الروافض ثم ظهر مذهب الاعتزال فی زمن التابعين فتبشرا باذيال الفلاسفه واشتغلوا بقيل وقال و احيوا كثرة الجدال و تركوا ظواهر كتاب الله المتعال وسنة نبية ومذهب السلف اهل الكمال بتقليد ارائهم الكاسدة والمنشتات والضلال۔ (مظہری جلد 2 صفحہ 102)۔

ترجمہ: اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ اس حالت میں تم سب اکٹھے ہو کر کتاب اللہ سے تمسک کرو یعنی تم کتاب اللہ کی تفسیر اور معنیٰ وہی لو جس پر امت کا اجتماع ہے خلافِ اجماعِ امت اپنی فضول رائے کے پیچھے نہ چلو اگر مفعول سے حال مانیں تو یہ مراد ہوگی کہ پوری کتاب اللہ کو مضبوط پکڑو اور فرقے فرقے نہ بن جاؤ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں حضور اکرمﷺ کے زمانے اور سیدنا ابوبکرؓ وسیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ کی خلافت کے زمانے میں کوئی تفرقہ پیدا نہ ہوا سب سے پہلی بغاوت خلیفہ برق سیدنا عثمانؓ کے عہد میں اہلِ مصر نے کی قصاص کے معاملے میں پہلا اختلاف سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف سے ہوا دین میں پہلا اختلاف حروریہ کی طرف سے ہوا جو سیدنا علیؓ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے پھر اختلاف واقع ہوگیا اور روافض کے بانی عبداللہ بن سبا نے حق سے روگردانی کی پھر تابعین کے زمانے میں معتزلہ کا مذہب ظاہر ہوا انہوں نے فلاسفہ کی پیروی کی اور ظاہر کتاب و سنت اور مذہب سلف کو چھوڑ کر بحث و جدال میں مشغول ہو گئے اور اپنی بے کار اور بے معنیٰ آراء پر چل کر گمراہ ہو گئے۔

معاملات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دو وصف غصہ اور رحمت بیان فرما کر ان کا محل بیان فرما دیا یعنی حضور اکرمﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ان پر غضبناک ہوتے ہیں جن پر اللہ غضبناک ہوتا ہے یعنی کفار لوگوں سے رحمت اور رفت کا سلوک کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے ہیں یعنی مومنین یہ وصف اور ان کا برمحل استعمال انسان کے کمال کی دلیل ہے انسان جو گناہ بھی کرتا ہے وہ عصبیہ اور قوتِ شہویہ کے بے محل استعمال کی وجہ سے ہی کرتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاملات کی خوبی بیان کرنے کے بعد ان کی عبادات کا پہلو بیان فرمایا عبادات میں سرِ فہرست نماز ہے پھر نماز میں انتہائی عاجزی کے اظہار کا موقع رکوع اور سجدہ ہے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے یہی دو وصف بیان فرمائے مگر یہ دونوں حالتیں عاجزی کے اظہار کی صرف صورتیں ہیں اس لیے یہ ممکن ہے یہ ایک ادمی صورت تو اختیار کریں مگر اس کے اندر وہ حقیقی روح موجود نہ ہو اس لیے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خشوع و خضوع اور اخلاص کبھی بیان فرما دیا کہ يَبۡتَغُونَ فَضۡلاً۬ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٲنً۬ا‌ۖ یعنی جہاں ان کے جسم رکوع اور سجدہ کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا اظہار کر رہے تھے وہاں ان کے دل خشوع خضوع اخلاص اور للہیت سے پر ہیں ان کی عبادت کا مقصد محض رضائے الہٰی ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے یہ دو وصف بیان کرنے سے یہ مقصد ہو سکتا ہے کہ ان کی شخصیت کا کمال ظاہر کیا جائے وہاں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا اشارہ بھی کر دیا جائے کہ خلیفہ رسول کے لیے بھی یہ دو وصف ضروری ہیں اس کے بعد خلافت کا ذکر آنے سے اس پہلو کی تائید ہوتی ہے۔

وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ سے مراد معیتِ سفرِ حدیبیہ ہے معیت کے حقیقی معنیٰ سفر میں کسی کے ساتھ ہونا ہے یہ مکان میں کسی کے ساتھ رہنا یا کسی کام میں کسی کا ساتھ دینا ہے اس لیے معیت سے یہاں معیتِ مذہبی سمجھنا غلط ہے کیونکہ یہ معنیٰ مجازی ہے اور جب حقیقی متحقق ہوسکتا ہے تو مجازی معنیٰ لینا اصولاً غلط ہے

مَثَلُهُمۡ فِى ٱلتَّوۡرَٮٰةِ‌ۚ وَمَثَلُهُمۡ فِى ٱلۡإِنجِيلِ اس آیت کے اس حصے میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرما دیا کہ یہ محبوب ازلی ہیں پہلی کتابوں میں جہاں میں نے محمد رسول اللہﷺ کے اوصاف بیان کیے ہیں وہاں ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اوصاف بیان کیے ہیں اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو خاتم المحدثین علامہ حسنین بن محمد تقی ثوری طبرسی شیعہ نے اپنی کتاب فضل الخطاب میں شیخ علی بن طاؤس کا مشاہدہ بیان کیا ہے ان کا لقب رضی الدین ہے ان کا بیان ہے کہ حضرت دانیال کی کتاب الملاہم میرے پاس ہے اس میں یہ عبارت مذکور ہے: 

قال السيد الجليل رضی الدين على بن طاؤس فی كتاب كشف المحجه ما لفظه وقفت أنا على كتاب دانيال عليه الصلاه والسلام المختصر فی كتاب الملاحم وهو عندنا الان يتضمن ما يقتضی ان ابابكرؓ وعمرؓ كانا عرفا من كتاب دانيال عليه السلام و كان عند اليهود حديث ملك النبیﷺ و ولاية رجل من يتم ورجل من عدی بعده دون وصيه علىؓ وصفتهما فلما رأيا الصفة فی محمدﷺ فيها تبعاہ واسلما معه طلبا للولايه التی ذكرها دانيالؑ (فصل الخطاب صفحہ 176)۔

صفحہ 2 از 8