تفسير آیت معیت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسير آیت معیت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 8

خلاصہ: رضی الدین نے کہا کہ حضرت دانیال کی کتاب الملاہم میرے پاس موجود ہے اس میں ایسی عبارت لکھی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ اور سدنا عمرؓ نے کتاب دانیال کا علم حاصل کیا تھا یہ یہود کے پاس تھی اور اس میں نبی کریمﷺ کی حکومت اور بنی تمیم اور بنی عدی کے ایک ایک آدمی کی یکے بعد دیگر خلافت کا اس میں ذکر تھا اور یہ کہ یہ دونوں خلیفوں سیدنا علیؓ سے پہلے ہوں گے اس میں ان دونوں خلیفوں کے اوصاف بھی مذکور تھے جب ان دونوں نے رسول کریمﷺ کی صفت دیکھی اور اپنی صفات اپنے آپ میں دیکھیں تو اسلام لے آئے اور حضور اکرمﷺ کے تابع ہو گئے اس خلافت کی طلب کے لیے جس کا ذکر حضرت دانیالؑ نے کیا تھا۔

اس عبارت میں رضی الدین نے تین خلفاء کا ذکر کیا ہے اور سیدنا عثمانؓ کا ذکر نہیں اس کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں اول یہ کہ محرفین نے تحریف کر دی ہو دوم یہ کہ ممکن ہے کہ سیدنا عثمانؓ کے ساتھ بلوائیوں کی شرارتوں کا ذکر بھی ہو اس لیے سید جلیل نے اس حصے کو حذف کر دیا ہو سید صاحب نے یہ تصویر کیا ہے کہ کتبِ سماوی میں جہاں ذکرِ رسولﷺ اور ذکر اوصافِ رسول تھا وہاں ذکرِ شیخینؓ اور اوصاف شیخینؓ بھی پایا جاتا ہے آخر میں سید جلیل نے اپنے مخصوص مزاج کے مطابق شیخینؓ کے اوصاف کو ان کے عیوب کی شکل دینے کی کوشش کی ہے کہ حکومت کے لالچ کی وجہ سے شیخینؓ اسلام لائے مگر وہ یہ بھول گئے کہ ایسا احتمال تو سیدنا علیؓ کے متعلق بھی پیدا کیا جا سکتا ہے حق یہ ہے کہ ان حضرات کو طمع و ضرور تھا مگر حکومت کا نہیں بلکہ حق کے قبول کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو حاصل کرنے کا طمع تھا جیسا کہ قرآنِ مجید میں اہلِ حق کے متعلق بیان ہوا ہے: وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ ٱلۡحَقِّ وَنَطۡمَعُ أَن يُدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلصَّـٰلِحِينَ۝ (سورۃ المائدہ آیت نمبر 84)۔  

وقال تعالى فی حق الساحرین إِنَّا نَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَـٰيَـٰنَآ أَن كُنَّآ أَوَّلَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ۝(سورۃ الشعرآء آیت نمبر 51)۔

سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے ایمان لانے کی وجہ منجمین نے اپنے فن کے حساب سے معلوم کر لی اور یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ سیدنا ابوبکرؓ کا ایمان تو عزر ہوئے وہی آسمانی تھا علامہ بادل شیعہ نے دونوں حقیقتوں کو ان الفاظ میں بیان کیا (حملہ حیدری صفحہ جلد 1 صفحہ 14)۔

ابا بکرؓ ازاں پس براہ پا گذاشت کہ گفتار کاہن بدل یاد داشت  

باد کاہن دادہ بودایں خبر کہ مبعوث گردیکے نامور

زبطحیٰ زمین در ہمیں چندگاہ بود خاتم انبیائے الٰہ 

تو باد خاتم انبیاء بگردی چوں اوبگزرد جانشینش شوی!

زکاہن چو بودش بیادایں نوید بیادرد ایمان نشانش چودید 

وزاں پس بتدریج چندے دیگر نبی رابفرماں نہاوند سر۔

جوں ہی سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کاہن کی بات سنی اسی وقت مکہ مکرمہ کا راستہ اختیار کیا کیونکہ کاہن نے بتایا تھا کہ مکہ مکرمہ میں ایک نامور رسول مبعوث ہونے والا ہے اسی چٹیل سرزمین میں خاتم الانبیاء تشریف لائیں گے آپ ان کے ساتھ ایمان لائیں گے تو آپ ان کے جانشین ہوں گے یہ خوشخبری آپ کو یاد تھی جب آپ نے رسولﷺ میں یہ اوصاف و نشانات دیکھے تو ایمان لائے آپ کے ایمان لانے کے بعد بتدریج اور آدمی بھی ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئے اس مضمون کی روایات اہلِ سنت کے ہاں بھی ملتی ہیں۔ 

عن كعبؓ قال كان الاسلام ابی بكر الصديقؓ بسبب وحى من السماء وذلك انه كان تاجرا بالشام فراى رؤيا فقصا على بحيره الراهب وقال له من اين انت؟ قال من مكه فقال من ايها؟ قال من قريش قال ما يعيش انت؟ قال تاج قال صدق الله رويك فانه يبعث نبيا من قومك تكون وزيره فی حياته وخليفته بعد موته فا سرها ابوبكرؓ حتىٰ بعث النبیﷺ فجاءه فقال يا محمدﷺ مالدليل على ما تدعىٰ؟ قال الروی التى رايت بالشام فعانقه وقبل مابين عينه وقال اشهد انك رسول الله (اخرجه ابنِ عساكر فی تاريخ دمشق)۔

ترجمہ: کعب احبار سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کا اسلام وحی آسمانی سے ہوا اور وہ یوں کہ وہ شام میں تجارتی غرض سے گئے انہوں نے خواب دیکھا بحیرہ راہب کو بتایا اس نے پوچھا تو کہاں سے آیا ہے؟ کہا مکہ سے کہا کس قبیلے سے ہو؟ کہا قریش سے پوچھا کیا کام کرتے ہو؟ کہا تجارت کہا اللہ نے تمہیں سچا خواب دکھایا ہے تیری قوم میں ایک نبی مبعوث ہوگا اس کی زندگی میں تو اس کا وزیر ہوگا اور اس کے بعد تو اس کا خلیفہ ہوگا سیدنا ابوبکرؓ نے اس راز کو دل میں رکھا حضور اکرمﷺ کی بحثت ہوئی سیدنا ابوبکرؓ آپﷺ کے پاس آئے اور کہا آپﷺ کے دعویٰ کی دلیل کیا ہے؟ حضور اقدسﷺ نے فرمایا وہ خواب جو تو نے شام میں دیکھا پھر آپ نے معانقہ کیا ماتھا چوما اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ 

علامہ باذل نے کاہن لکھا ہے اس روایت میں راہب کا لفظ ہے اگر کاہن تسلیم کر لیا جائے تو اس پیش گوئی کا ذریعہ علم نجوم ہوگا اور اگر راہب تسلیم کر لیا جائے تو اس کا ذریعہ کتبِ سماوی تسلیم کرنا پڑے گا اسی طرح کا ایک واقعہ سیدنا صدیقؓ اکبرؓ کے ایک اور سفر کا ہے آپ علاقہ یمن میں تجارت کے لیے تشریف لے گئے وہاں قبیلہ بنو اسد کے ایک شخص سے ملاقات ہوئی جو سابقہ کتبِ سماوی کا بہت بڑا عالم تھا اس نے آپ کو دیکھتے ہی کہا کیا تم مکہ کے ہو؟ فرمایا ہاں کہنے لگے میرا خیال ہے تم قریشی ہو فرمایا ہاں میرا خیال ہے تم بنی تمیم سے ہو؟ آپ نے فرمایا ایسا ہی ہے اس نے کہا ذرا دیکھو تمہاری ناف پر کوئی نشان ہے جب اس نے سیاہ نشان ناف پر دیکھا تو کہا تو واقعی وہی ہے کتبِ سابقہ میں یہ چار علامتیں درج تھیں اس واقعے کو ابنِ کثیر نے اٙلّٙذِیْنٙ یٙتّٙبِعُوْنٙ الرّٙسُوْلٙ الخ کی تفسیر کے تحت اس عالم کا ذکر کیا جس سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی ملاقات ہوئی۔

 وقال فيما انتم؟ واخبرناه تذهب بنا الى منزله فساعة ما دخلت نظرت الى صورة النبیﷺ وازا رجل اخذ بقعب النبیﷺ قلت من هذا الرجل القابض على عقبة قال انه لم يكن نبی الا كان بعده نبی الا هذا النبیﷺ فانه لا نبی بعده وهذا خليفة بعده واذا صفت ابی بكرؓ۔

صفحہ 3 از 8