تفسير آیت معیت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسير آیت معیت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 8

ترجمہ: اور کہا تم یہاں کیسے آئے ہو؟ ہم نے اسے بتا دیا اور پھر وہ ہمیں لے کر اپنے گھر میں داخل ہوا جونہی میں داخل ہوا میں نے نبی کریمﷺ کی تصویر دیکھی اور دیکھا کہ ایک شخص آپ کی پیٹھ کو پکڑے ہوئے ہے میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جس نے پیٹھ کو پکڑا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے بعد نبی نہ آیا ہو سوائے اس نبی کے کیونکہ اس کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور یہ شخص اس نبی کے بعد اس کا خلیفہ ہوگا جب میں نے غور سے دیکھا تو وہ سیدنا ابوبکرؓ تھا۔

اس سلسلے میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا ایک خواب بھی کئی کتابوں میں موجود ہے مگر میرے سامنے اس وقت صرف سیرت کی ایک کتاب ہے اس سے نقل کرتا ہوں۔

رائی القمر نزل إلى مكة فدخل فی كل بيت فله شعبة ثم كان جميعه فی حجره فقصها على بعض اهل الكتاب فعبرها له بانه يتبع النبی المنتظر الذی قد ظل زمانه وانه يكون اسعد الناس به۔ (سيرة حلبيه جلد 1 صفحہ 310)۔

ترجمہ: سیدنا ابوبکرؓ نے خواب دیکھا کہ چاند مکہ میں اتر آیا ہے اور ہر گھر میں ایک ٹکڑا پہنچ گیا ہے اور پھر تمام ٹکڑے جمع ہو کر سیدنا ابوبکرؓ کی گود میں آگئے ہیں آپ نے اپنا خواب بعض علماءِ اہلِ کتاب کے سامنے پیش کیا انہوں نے یہ تعبیر کی کہ تم اس نبی کے متبع ہو گے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے اس کا زمانہ قریب آگیا ہے تم اس نبی سے سب سے زیادہ نفع اٹھاؤ گے اور نیک بخت ترین ہو گے۔

گویا سیدنا صدیقِ اکبرؓ تو حضور اکرمﷺ کی بعثت سے پہلے ہی آپﷺ کے منتظر تھے اور دعویٰ نبوت سے پہلے یہ حضور اکرمﷺ کی نبوت پر ایمان رکھتے تھے چنانچہ حضور اکرمﷺ نے جوں ہی دعویٰ کیا آپ نے فوراً ایمان کا اظہار کر دیا اس لیے انہیں نو مسلم بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ نو مسلم تو وہ ہے جس نے انکار کے بعد اقرار کیا ہو سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا انکار ثابت ہی نہیں اس لیے مسلم کہنا درست نہیں۔ 

اخرج ابو نعیم عن بعض الصحابہ ان ابا بکرؓ/ من بالنبیﷺ قبل النبوة الى علم انه النبىﷺ المنتظر۔ (سيرة حلبيه جلد 1 صفحہ 310)۔

كزرع اخرج شطاه فازره فاستغلظ فاستوى على سوقه۔

ترجمہ: اسلام کو کھیتی سے مثال دی آغاز سے درجہ کمال تک پہنچنے تک کھیتی مختلف مراحل سے گزرتی ہے اسلام بھی ابتدائے دعوت سے کمال تک پہنچنے میں مختلف مراحل سے گزرا اس مثال میں چند باتیں قابلِ غور ہیں:

  1. بیچ بونے سے کھیتی کا آغاز ہوتا ہے پھر بیج پھوٹ کر باہر آتا ہے پھر پتے اور شاخیں بنتی ہیں اور پودا اپنے تنے پر مضبوطی سے کھڑا ہو جاتا ہے پھر اس میں پھل لگتا ہے۔
  2.  کھیتی کو پروان چڑھانے کے لیے مالک کو نگرانی کرنی پڑتی ہے بیماریوں کیڑوں مکوڑوں اور جانوروں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے پھر اس کی آبیاری کرتا ہے۔
  3.  کھیتی بتدریج اور علی الاتصال بڑھتی ہے یہ نہیں کہ پہلے پھل لگیں پھر پتے نکلیں اور شاخیں بنیں اور تنا نمودار ہو یا یہ نہیں ہوتا کہ ان میں سے کوئی حصہ منقطع ہو جائے بلکہ یہ سارا علی الاتصال ہوتا ہے۔

اسی طرح اسلام نے بھی بتدریج اور علی الاتصال ترقی کی حضورﷺ نے اسلام کی دعوت دے کر حق کا بیج بو دیا مہاجر اور انصار نے اس کی حفاظت کی اپنے خون سے اسے سینچا حضور اکرمﷺ کے زمانہ میں اسلام مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ سے نکل کر عرب کے دوسرے قبائل تک پھیل گیا مگر جزیرہ عرب سے باہر قدم نہ رکھا۔ قیصر و کسریٰ کی دو جابر اور مستحکم سلطنتیں مسلمانوں کے سر پر بیٹھی تھی اور اسلام کو مٹانے کے در پہ تھیں پھر حضورﷺ کے تینوں جانشینوں نے یکے بعد دیگرے اسلام کی کھیتی کی نہ صرف حفاظت کی بلکہ اس کو کمال تک پہنچایا اور قیصر و کسریٰ کی قوت کو ختم کر کے اسلام کے دائرہ اثر و اقتدار میں توسیع کی اور اسلام علی الاتصال ترقی کر کے کمال تک پہنچا اس آیت سے چاروں خلافتیں موعودہ قرآن ثابت ہوئیں جس کی تورات اور انجیل نے بھی بشارت دی تھی۔

ولا نعم ما قيل فازره الله بمجاهدات الصحابه من المهاجرين والانصار وسقوا زرع الذين بدمائهم فى حيات النبیﷺ وبعد وفاته لاسيما فی خلافة ابی بكرؓ و عمرؓ فاستوىٰ على سوقى وظهر على الاديان كله اخرج شطاه ابوبكرؓ فازره عمرؓ فاستغلظ عثمانؓ فاستوىٰ علیؓ رضی الله تعالى عنهم۔

اگر ترقی اسلام کے سلسلے میں اس ترتیب خلافت کو تسلیم نہ کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ ترقی علی الاتصال نہیں ہوئی درمیان میں منقطع ہو گئی جو خلافِ واقعہ اور خلافِ حقیقت ہے اگر کسی ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان تو باہمی جنگ و جدال کا سلسلہ جاری رہا جمل اور صفین میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے سے متصادم ہوئے تو وہ رحماء بينهم کیسے ہوئے؟ اور صلحِ حدیبیہ والوں کو ان اوصاف کا حامل کیوں کر تسلیم کیا جائے۔

اس اعتراض کو درست تسلیم کیا جائے تو تاریخِ اسلام سے وہ جماعت پیش کی جائے جو معیتِ رسول میں بھی ہو اور اس جماعت میں یہ دو وصف أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ اور رُحَمَآءُ بَيۡنَہُمۡ‌ۖ بھی پائے جائیں اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس جماعت کے علاوہ کوئی اور جماعت نہیں پائی جاتی تو معاذ اللہ قرآن کا یہ اعلان غلط ثابت ہوا حقیقت یہ ہے کہ قرآن کے اس اعلان کی مصداق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت ہے کسی غلط فہمی کی بنا پر وقتی طور پر اچانک کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ جائے تو اس سے ملکہ راسخہ کی نفی نہیں ہو سکتی۔

حضور اکرمﷺ کے بعد حضورﷺ کے پہلے جانشین کی سیرت و اسلامی خدمات کی ذرا سی جھلک ملاحظہ ہو: عگامہ سیوطی الحاوی للفتاویٰ جلد 2 صفحہ 391 میں لکھتے ہیں:

من رفض عبادة الاصنام فی الجاهلية ابوبكر الصديقؓ زيد بن عمرؓو بن نفيل عبدالله بن جحش عثمان بن الحويرث ورقه بن نوفل رباب بن البراء اسعدا و كرب الحميرى قيس بن ساعده الايادی بوقيس بن حرمه۔

ترجمہ: جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بھی بت پرستی سے متنفر تھے وہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ زید بن عمر بن نفیل عبداللہ بن حجش عثمان بن الحویراث ورقہ بن نوفل رباب بن البراء اسعد یا کرب الحمیری، قیس بن ساعدہ ایادی اور ابو قیس بن حرمہ تھے۔

صفحہ 4 از 8