تفسير آیت معیت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسير آیت معیت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 5 از 8

گویا حضور ﷺکے پہلے جانشین اسلام کے محافظ کی شخصی سیرہ اور سلامت طبع کا یہ حال ہے کہ توحید کی دعوت سننے سے پہلے ہی بت پرستی کے خلاف تھے بت پرستی کے مخالفین میں ان کا نام سر فہرست ہے پھر یہ کہ عمر بھر شراب نہیں پی پھر ثابت کیا جاچکا ہے کہ ان کا اعلان ایمان بذریعہ وحی آسمانی ہوا۔ 

اب دیکھیے کہ مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد حکومت سے کس قدر ذاتی مفاد حاصل کیا تاریخ شاہد ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ بہت بڑے تاجر اور بڑے دولت مند تھے مگر حضور اکرمﷺ کی محبت اور اسلام کی خاطر اپنا سارا مال قربان کر دیا یہاں تک کہ ایک موقع پر حضور اکرمﷺ نے پوچھا کہ سیدنا ابوبکرؓ اپنے اہلُ و عیال کے لئے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ تو عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب کہا شاعر مشرق نے

 پروانوں کو چراغ عنادل کو پھول بس

 صدیقؓ کے لیے خدا کا رسول بس۔

چنانچہ خلافت کے پہلے روز کا حال یہ ہے کہ جانشین رسولﷺ خلیفۃ المسلمین دن بھر امور سلطنت میں مصروف رہ کر شام گھر آتا ہے تو رات کے کھانے کے لیے آٹا تک موجود نہیں بازار میں خلیفہ رسول آواز دیتا ہے کہ کسی کو مزدوری کی ضرورت ہو تو مزدور موجود ہے لوگ باہر آ کر دیکھتے ہیں تو خلیفہ رسول آواز دیتا دکھائی دیتا ہے اندر چلے جاتے ہیں آخر ایک آدمی آتا ہے کہ میری بکری لنگڑی ہے اٹھا کر میرے گھر پہنچا دو خلیفہ رسولﷺ مزدوری کرتا ہے ایک درہم ملتا ہے اور رات کے کھانے کا انتظام ہوتا ہے صورتحال کو دیکھ کر مہاجرین و انصار بیتُ المال سے وظیفہ مقرر کرتے ہیں۔ مگر دیکھئے کہ وظیفہ کی مقدار کیا ہے از سید ابو القاسم ہوگی صفحہ 22

الاستغاثه فی بدع الثلاثةلما استتب له الامر قطع لنفسه اجرة على ذالك من بيت مال الصدقات فی كل يوم ثلاثة دراهم۔ 

ترجمہ: جب آپ نے خلافت سنبھالی تو اپنے لیے بیتُ المال سے خود وظیفہ مقرر کیا جو تین درہم روزانہ تھا۔

 خلیفہ رسولﷺ کا وظیفہ تین درہم یعنی 12 آنے روز مقرر ہوتا ہے سوچنے کی بات ہے کہ اتنے سے وظیفے سے خلیفہ رسولﷺ نے کتنی دنیا اکٹھی کی ہوگی کتنی جائیداد بنائی ہوگی کتنے محل تعمیر کیے ہوں گے خلافت کا آغاز تو آپ نے دیکھ لیا اب ذرا اس جانثار رسولﷺ اور جانثار اسلام کے عہدِ خلافت کے اختتام کا نقشہ بھی دیکھ لیجئے درة النجفيه شرخ نہج البلاغة جلد 1 صفحہ 308:

ان ابابكرؓ مات ولم يخلف درههما ولا دينارا۔

ترجمہ: سیدنا ابوبکرؓ دنیا سے رخصت ہوئے تھے تو ورثہ میں ایک دینار بلکہ ایک درہم بھی نہ چھوڑا ہائےکتنے دلیر ہیں وہ لوگ جو یہ بات کہنے میں شرم محسوس

 نہیں کرتے کہ یہ شخص حکومت کے لالچ کی وجہ سے اسلام لایا اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔

 مرضِ وفاتِ نبی اکرمﷺ:

28 صفر المظفر 11 ہجری کو حضور اکرمﷺ بیمار ہوئے اسی مرض کو مرضِ وفات کہا جاتا ہے اس مرض میں آپﷺ نے دینی امور میں اپنی نیابت کے لیے اپنے سامنے جس شخص کا انتخاب کیا وہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ ہی تھے جب نماز کا وقت آیا تو حضور اکرمﷺ نے فرمایا "مروا ابا بكرؓ ان يصلی بالناس" سیدنا ابوبکرؓ کو کہو لوگوں کو نماز پڑھائے مشہور یہ ہے کہ آپﷺ کی حیاتِ طیبہ میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے 17 نمازیں پڑھائیں مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے 21 نمازیں پڑھائیں ان میں وہ نمازیں بھی شامل ہیں جن میں حضور اکرمﷺ خود شامل ہوئے جبکہ آپﷺ کو قدرے افاقہ ہوا اور حضور اکرمﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بائیں پہلو میں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور جہاں تک سیدنا صدیقِ اکبرؓ قرأت پڑھ چکے ہوتے وہیں سے آگے حضور اکرمﷺ شروع کر دیتے اور حضور اکرمﷺ امام بن جاتے اور سیدنا ابوبکرؓ مقتدی اور اس میں وہ نماز بھی شامل ہے جس میں سیدنا ابوبکرؓ بددستور امام رہے اور حضور اکرمﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے نماز پڑھی حافظ ابنِ کثیر نے البدایہ والنہایہ کے جلد 5 صفحہ 234 پر یوں بیان کیا ہے:

عن عائشةؓ قالتﷺ خلف ابی بكرؓ قاعدا فی مرضه الذی مات فيه۔

ترجمہ: سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی اس مرض کے دوران جس میں آپﷺ کا وصال ہوا ۔

ایسی ایک روایت اسی مذکورہ کتاب کے مذکورہ صفحہ پر سیدنا انس بن مالکؓ سے بھی مروی ہے سیرت حلبیہ جلد 3 صفحہ 387:

ثبت انهﷺ صلى خلف ابی بكرؓ مقتديا به فی مرضه الذی مات فيه ثلاث مرات ولا ينكر هذا الاجاهل لا علم له بالرواية۔

ترجمہ: یہ ثابت ہوچکا ہے کہ رسول اللہﷺ نے مرضِ موت میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پیچھے مقتدی ہو کر تین نمازیں پڑھیں اس بات کا انکار صرف جاہل ہی کر سکتا ہے جس کو روایات کا علم نہ ہو۔

ایک اور روایت ملاحظہ ہو ورد النجفیة (شرح نہج البلاغۃ) مطبوعه ایران صفحہ 224:

ثم اشتد به المرض وكان عند خفة مرضه يصلى بالناس و قد اختلف فی صلواته بهم فالشيعة تزعم انه لم يصل بهم الا صلوة واحدة وهی صلاة التی خرج رسول اللهﷺ فيها يتهاد بين علیؓ والفضل فقام فی المحراب مقامه وتاخر ابو بكرؓ والصحيح عندی وهو الاكثر الا الشهر انها لم تكن اخر الصلواة فی حياتهﷺ بالناس جماعة وان ابا بكرؓ بعد ذلك يومين ثم مات۔

صفحہ 5 از 8