تفسير آیت معیت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسير آیت معیت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 6 از 8

ترجمہ: پھر مرض شدت اختیار کر گیا جب افاقہ ہوتا آپﷺ خود نماز پڑھاتے جماعت کے ساتھ آپﷺ کی نمازوں میں شیعہ کا اختلاف ہے وہ خیال کرتے ہیں کہ آپﷺ نے صرف ایک نماز پڑھی یہ وہی نماز ہے جس کے لیے آپﷺ سیدنا علیؓ اور سیدنا فضلؓ کے سہارے گھر سے نکلے اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی جگہ محراب میں کھڑے ہوئے اور سیدنا ابوبکرؓ پیچھے ہٹ گئے میرے نزدیک صحیح یہ ہے اور یہی مشہور ہے کہ یہ آپ کی جماعت کے ساتھ آخری نماز نہیں تھی اور سیدنا ابوبکرؓ نے اس کے بعد دو روز نماز کی امامت کی پھر حضور اکرمﷺ کا وصال ہو گیا فوائد اس حقیقت پر سب متفق ہے کہ حضور اکرمﷺ کے حکم سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے نمازیں پڑھائی پھر اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں کہ نماز دین کا اہم رکن ہے نبی دین کے معاملے میں خود نہیں بولتا بلکہ بحکمِ خدا بولتا ہے لہٰذا سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو رسول خداﷺ نے بحکمِ خدا اپنا نائب بنایا اور اپنے سامنے تمام مسلمانوں کو ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہوا دیکھا سیدنا علیؓ اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے نمازیں پڑھیں اگر اس حقیقت کو تسلیم نہ کیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خدا اور رسول کی نافرمانی کر کے عمداً جماعت سے تخلف کیا بھلا جس شخص کو اللہ کا رسولﷺ اللہ کے حکم سے مسلمانوں کا امام مقرر کر دے اور خود جماعت میں شریک ہو تو کوئی مسلمان اس امام کی امامت سے انکار کر کے مسلمان رہ سکتا ہے اگر کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ سیدنا علیؓ نے ان کے پیچھے نمازیں نہیں پڑھی تو ثبوت پیش کرے جو مسلم فریقین ہو یہ امر فریقین کے نزدیک مسلم ہے یہ حضور اکرمﷺ نے بحکمِ خدا سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو امام مقرر کیا اور خود ان کے پیچھے نماز پڑھی اب اگر کوئی شخص حضورﷺ کے مقرر کردہ امام کے پیچھے نماز نہ پڑھے تو اس نے خدا اور رسولﷺ کی صریح نافرمانی کی اور جس کے پیچھے امام الانبیاء نماز پڑھے اس کے پیچھے کوئی مسلمان نماز پڑھنے سے انکار کرے تو اس کا رسول سے تعلق کیا باقی رہ جاتا ہے اور صاحبِ درة النجفیہ نے صحیح اور مشہور مذہب یہی بتایا ہے کہ وفاتِ رسول خداﷺ تک سیدنا ابوبکرؓ ہی امام رہے نہ کسی کو اختلاف ہوا نہ شکوہ نہ کسی نے معزول کیا اور نہ کر سکتا تھا بھلا جسے رسولﷺ بحکمِ خدا اپنا امام اور نائب مقرر کرے اسے کون معزول کر سکتا ہے اس کی امامت کا انکار صرف وہی کر سکتا ہے جو خدا کو خدا نہ مانے اور رسول کو اس کا رسول تسلیم نہ کرے یہ بات کسی ہوش مند انسان کا تصور میں بھی نہیں آ سکتی کہ خدا نے اپنے رسولﷺ کو اپنا نائب اور امام بنانے کے لیے ایسے شخص کو مقرر کیا جس کے ایمان میں شبہ ہو۔

اسلام میں قیادت کا مظاہرہ اور قیادت کی سند نماز میں امامت ہی تو ہے اسی وجہ سے ایک لاکھ اور کئی ہزار انبیاء نے امام الانبیاءﷺ کو اپنا قائد تسلیم کرنے کا مظاہرہ اس طرح کیا کہ شبِ معراج مسجدِ اقصیٰ میں امام الانبیاءﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اس لیے امام الانبیاءﷺ نے اپنے سامنے بحکمِ رب العالمین اپنا نائب اور مسلمانوں کا قائد مقرر کرنے کے لیے سیدنا صدیقِ اکبرؓ سے نماز کی امامت کرائی بلکہ خود ان کے پیچھے نماز پڑھی فضیلت سیدنا ابوبکرؓ کے لیے اب کسی اور دلیل کی بھی حاجت رہ جاتی ہے پھر یہ ایک مسلمہ عقیدہ ہے کہ امام سب سے زیادہ اعلم اور اتقی ہونا چاہیے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کی نگاہ میں سب مسلمانوں سے زیادہ اعلم بالقرآن اور سب سے زیادہ متقی سیدنا ابوبکرؓ ہی تھے اسی لیے ان کو امام مقرر کیا گیا سیرہ حلبیہ میں ایک روایت یوں آئی ہے:

وقال النبیﷺ فی مرضہ ذالک یوما لعبداللہ بن زمعة مر الناس فلیصلوا ای صلواة الصبح وکان ابوبکرؓ غائبا فقدم عبداللہ عمرؓ یصلی بالناس فلما سمع رسول اللہﷺ‎ صوتہ اخرج راسہ الشریف حتیٰ اطلع للناس من حجرتہ ثم قالﷺ‎ لا لا لا ثلاثہ مرات لیصلی بالناس ابنِ ابی قحافہؓ فانقضت الصفوف وانصرف عمرؓ ای من صلوٰة فما برح القوم حتیٰ طلع ابنِ ابی قحافہؓ فتقدم وصلیٰ بالناس الصبح۔

ترجمہ: حضور اکرمﷺ نے اپنے اس مرض میں ایک روز عبداللہ بن زمعہ سے فرمایا لوگوں سے کہو کہ نماز پڑھیں یعنی صبح کی نماز سیدنا ابوبکرؓ موجود نہیں تھے عبداللہ نے سیدنا عمرؓ کو آگے کھڑا کر دیا جب رسول کریمﷺ نے ان کی آواز سنی تو اپنا سر مبارک حجرہ سے باہر نکالا اور تین مرتبہ فرمایا نہیں نہیں نہیں نماز ابنِ ابی قحافہؓ پڑھائے چنانچہ صفیں ٹوٹ گئیں سیدنا عمرؓ پیچھے ہٹے اتنے میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ آگئے آگے بڑھے اور لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔

ایسا کیوں نہ ہوتا جب اللہ تعالیٰ کا حکم یہ تھا کہ سیدنا ابوبکرؓ نیابت کرے تو اللہ کا رسولﷺ کیسے برداشت کر سکتا تھا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اللہ کے مقرر کردہ آدمی کی جگہ کوئی اور نائب بنے اس لیے عین نماز کی حالت میں رسول اللہﷺ نے تبدیلی کرائی۔

بعد وفاتِ نبیﷺ جب سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ہاتھ پر بیعت عام ہوئی تو ایک لاکھ کئی ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک نے بھی آواز نہ اٹھائی کہ غدیر اور قرطاس کے موقع پر جب پہلے بیعت ہو چکی ہے تو یہ نئی بیعت کیوں ہو رہی ہے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے پاس وہ کون سی طاقت تھی جس سے مرعوب ہو کر تمام صحابہ ر کرام ضوان اللہ علیہم اجمعین نے معاذ اللہ منشائے رسولﷺ کے خلاف سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی بات صرف یہی تھی کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مزاج شناس رسولﷺ تھے انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ نمازیں سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے بحکمِ خدا اور رسول حضورﷺ کی موجودگی میں پڑھائیں اور کوئی دوسرا پڑھانے لگا تو اس کو خود رسولﷺ نے ہٹا دیا تو اس کے سوا اور کون جانشین رسولﷺ ہو سکتا ہے اور سیدنا علیؓ تو سب سے بڑھ کر مزاج شناسِ رسولﷺ تھے جبھی تو انہوں نے اپنے عہد میں مجمع عام میں خطبے کے دوران فرمایا:

صفحہ 6 از 8