تفسير آیت معیت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسير آیت معیت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 7 از 8

اللهم اصلحنا بما اصلحت به الخلفاء الراشدينؓ قيل فمن هم قال حبيبائی وعمای ابوبكرؓ و عمرؓ امام الهدى ورجلا قريش والمقتدىٰ بهما بعد رسول اللهﷺ وشيخ الاسلام من اقتدىٰ بهما عصم ومن اتبع آثارهما هدى الى صراط مستقيم۔ (شافی شريف مرتضىٰ علم الهدى جلد 2 صفحہ 438)۔

ترجمہ: اے اللہ ہماری اصلاح اس ذریعے سے فرما دے جس ذریعے سے خلفائے راشدینؓ کی اصلاح فرمائی پوچھا گیا وہ کون ہیں؟ فرمایا وہ میرے محبوب میرے بزرگ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ ہیں یہ دونوں ہدایت کے امام اور قریش میں سے یہ دونوں کام کے مرد تھے اور رسول اللہﷺ کے بعد یہ دونوں اتباع کے لائق یہ دونوں اسلام کے بزرگ ہیں جس نے ان کی پیروی کی گمراہی سے بچ گیا جو ان کے نقشِ قدم پر چلا سیدھی راہ پا گیا۔

علم الہدیٰ نے یہ روایت اپنی کتاب شافعی میں سیدنا باقرؒ اور سیدنا جعفر صادقؒ سے بیان کی ہے روایت کی سند یوں درج ہے۔

وورى جعفرؒ بن محمد عن ابيه انا رجلا جاء الى امير المؤمنين عليه السلام فقال سمعته يقول فی الخطبه انفا۔

ترجمہ: سیدنا جعفرؒ اور سیدنا باقرؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی امیر المومنین کے پاس آیا کہ میں نے ابھی ابھی آپ سے خطبے میں یہ کہتے سنا۔

سیدنا علیؓ کے اس خطبے سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے: 

  1. سیدنا علیؓ نے سب سے پہلے شیخینؓ کو خلفائے راشدینؓ کا لقب دیا اور منبر پر اس کا اعلان کر دیا۔
  2.  اپنی اور اپنی جماعت کی اس طرح کی اصلاح کی درخواست اللہ تعالیٰ سے کی جیسے شیخینؓ کی اصلاح ہوئی۔
  3. سب سے پہلے سیدنا علیؓ نے ان دونوں بزرگوں کو شیخ الاسلام کا لقب دیا یعنی ان کے لیے شیخینؓ کی اصطلاح کے موجد سیدنا علیؓ ہیں۔
  4. سیدنا علیؓ نے شیخینؓ کو اپنا حبیب اور اپنا امام فرمایا جس کو سیدنا علیؓ اپنا امام کہیں اس کی امامت سے انکار سیدنا علیؓ کی مخالفت ہے۔
  5. سیدنا علیؓ نے اس حقیقت کا اعلان کیا کہ نبیﷺ‎ کے بعد مقتدیٰ اور مہتدا یہی حضرات ہیں۔
  6. سیدنا علیؓ نے اعلان کر دیا کہ جو شخص شیخینؓ کی پیروی کرے گا گمراہی سے بچ جائے گا اور جو شخص ان کی سنت کی اتباع کرے گا سیدھی راہ پائے گا۔
  7. سیدنا علیؓ نے یہ خطبہ اس وقت دیا جب وہ خود اقتدار کے مالک تھے اس لیے کسی دباؤ کے تحت ایسی بات کہنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا ویسے بھی یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ شیرِ خدا ہو اور غیرِ خدا سے دب کر کوئی خلافِ حقیقت بات زبان سے نکالے۔
  8.  ان حضرات رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خلیفہ برحق تسلیم نہ کرنا یا ان کو غاصب کہنا سیدنا علیؓ صریح مخالفت ہے۔
  9. سیدنا علیؓ نے شیخینؓ کو مقتدیٰ فرمایا اقتداء اور اطاعت میں فرق ہے اطاعت کا تعلق حکم ماننے تک ہے اور اقتداء دینی امور میں ہوتی ہے اور ہر حرکت و سکون میں پیروی ہوتی ہے اس لیے امام کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کو مقتدی کہتے ہیں کہ وہ تمام حرکات و سکنات میں امام کی پیروی کرتا ہے اس لیے سیدنا علیؓ نے ان کو مطاع نہیں فرمایا بلکہ مقتدی فرمایا۔
  10.  سیدنا علیؓ نے جو کچھ فرمایا اپنے عمل سے خود بھی ایسا کر کے دکھاتے رہے۔

جیسا کہ کتاب سلیم بن قیس ہلالی جلد 2 صفحہ 224 پر ہے:

وكان علی عليه السلام يصلی فی المسجد الصلواة الخمس فلما صلىٰ قال ابوبكرؓ و عمرؓ رضوان الله عليهم اجمعين كيف بنتِ رسول اللهﷺ۔

 ترجمہ: سیدنا علیؓ پانچوں وقت نماز مسجد میں پڑھتے تھے ایک روز جب نماز پڑھ چکے تو شیخینؓ نے سیدہ فاطمہؓ کی بیماری کے متعلق دریافت کیا۔

نماز سے فارغ ہونے کے بعد شیخینؓ نے سیدنا علیؓ سے سیدہ فاطمہؓ کی صحت کے متعلق دریافت کیا یعنی سیدنا علیؓ باقاعدگی سے پانچ وقت کی نماز باجماعت سیدنا ابوبکرؓ کی اقتداء میں مسجد نبویﷺ میں پڑھا کرتے تھے۔

اس روایت میں بیان کرنے والا سلیم ہے جو پانچوں اماموں کا شاگرد ہے سیدنا علیؓ سیدنا حسنؓ سیدنا حسینؓ سیدنا زین العابدینؓ اور سیدنا باقرؓ (صفحہ: 40)

 مشاہدہ: میں نے علومِ ظاہری سے فارغ ہو کر علومِ باطنیہ کی طرف توجہ کی منازلِ سلوک طے کرتے ہوئے جب دربارِ نبویﷺ تک رسائی ہوئی تو ارادہ کیا کہ بقیہ عمر تخلیہ میں بیٹھ کر یادِ الہٰی کروں گا ایک روز سحر کے وقت اپنے معمول میں دربارِ نبویﷺ میں حاضر ہوا تو اچانک حضور اکرمﷺ کی طرف سے یہ القائے روحانی میرے قلب پر شروع ہوا حضورﷺ نے فرمایا: "اسلام کا مکان پتھروں اور اینٹوں سے تیار نہیں ہوا اس میں میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ہڈیاں لگائی گئیں پانی کی جگہ میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا خون لگایا گیا اور گارے کی جگہ میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا گوشت لگایا گیا اب لوگ اس مکان کو گرانے پر لگے ہوئے ہیں میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین کی جا رہی ہے اور جو شخص اس کے انسداد کی قدرت رکھتے ہوئے خاموشی سے بیٹھا رہے کل قیامت میں خدا کے سامنے کیا جواب دے گا ایک صوفی عارف عالم کو ہمیشہ خدا پر بھروسہ اور توکل چاہیے جب تک اللہ تعالیٰ نے اس کے وجود سے کام لینا ہے اس کو محفوظ رکھے گا جب اس کی ڈیوٹی پوری ہوگی اس کو بلا لے گا یہ واقعہ تقسیمِ ملک کے بعد پیش آیا اس وقت سے میں نے اپنی استعداد کے مطابق دینی خدمت کا کام شروع کر دیا وما توفيقی الا بالله۔

سیدنا علیؓ کے دل میں شیخینؓ کی جو قدر اور عزت ہے وہ ان کے مذکورہ خطبے سے صاف ظاہر ہے ایک اور روایت سے اس کی مزید تائید ہوتی ہے۔

روی ابوجحيفه ومحمد بن علی وعبد خير و سويد بن غفله و ابوحكيم وغيرهم وقد قيل اربعة عشر رجلا ان علياؓ قال فی خطبه خير هذه الامة بعد بيعها ابوبكرؓ وعمرؓ فی بعض الاخبار انه خطب بذلك بعد انهی اليه ان رجلا تناول ابابكرؓ و عمرؓ بالشتمة فدعا به وتقدم بعقوبته بعد ان شهدوا عليه بذلك۔ (شافی جلد 2: صفحہ 428)۔

ترجمہ: ابوجحیفہ اور 14 آدمیوں سے روایت ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے خطبہ عام میں فرمایا کہ نبیﷺ کے بعد اس امت کے افضل ترین آدمی سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ ہیں بعض اخبار میں ہے کہ سیدنا علیؓ نے یہ خطبہ اس وقت دیا جب انہیں اطلاع ملی کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ کو برا بھلا کہا پھر سیدنا علیؓ نے اس آدمی کو طلب کیا اور شہادتیں لے کر اس کو سزا دی۔

اور اسی شافی میں جلد 1 صفحہ 171 پر ہے:

صفحہ 7 از 8