Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل اور دیگر سیدات خانہ نبوی کے باہمی فضائل

  علی محمد الصلابی

چھٹا باب

پہلی فصل: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل

پہلا مبحث: سیدہ عائشہ اور دیگر امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے مشترکہ فضائل

بلاشبہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے فضائل، احترامات اور تعظیم و تکریم کے بے شمار دلائل و احادیث موجود ہیں۔ اس اعتبار سے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجات ہیں اور وہ سب بلاشک و شبہ آپﷺ کے اہل بیتؓ میں سے ہیں۔ طاہرات، مطہرات، طیبات و مطیبات، برئیات و مبرٔات اور وہ ہر اس عیب اور نقص سے بری ہیں، جو عیب بھی ان کی عزت و احترام یا ان کی ذوات پر لگایا جائے۔

گویا پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُنَّ وَ اَرْضَاہُنَّ اَجْمَعَاتٍ۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے وہ فضائل جن میں دیگر امہات المؤمنینؓ بھی شریک ہیں وہ کچھ یوں ہیں:

1۔ تمام جہانوں کی عورت سے وہ سب سے افضل ہیں۔ مطلق طور پر ہر قسم کا شرف، فضل اور بلند مقام و مرتبہ انہی کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 32)

ترجمہ: ’’اے نبی کی بیویو! تم (عام) عورتوں میں سے کسی ایک جیسی نہیں ہو۔‘‘

تو اللہ تعالیٰ نے مطلق طور پر امہات المؤمنینؓ کی فضیلت کا اعلان کیا ہے۔ یہی شرف ان کے لیے کیا کم ہے۔

2۔ بے شک وہ سب مطلق طور پر افضل بنی آدم اور سید ولدِ آدم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجات ہیں، تو جن خواتین کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو افضل البشر اور سرور کونین ہیں نے اپنے لیے چن لیا ہو ان سے کوئی اور افضل کیسے ہو سکتی ہے؟ بلکہ انھیں اللہ عزوجل نے خود اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منتخب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

لَا يَحِلُّ لَـكَ النِّسَآءُ مِنۡ بَعۡدُ وَلَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَكَ حُسۡنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ يَمِيۡنُكَ‌ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ رَّقِيۡبًا ۞ ( سورۃ الأحزاب آیت 52)

ترجمہ: اس کے بعد دوسری عورتیں تمہارے لیے حلال نہیں ہیں، اور نہ یہ جائز ہے کہ تم ان کے بدلے کوئی دوسری بیویاں لے آؤ، چاہے ان کی خوبی تمہیں پسند آئی ہو۔ البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں ہوں (وہ تمہارے لیے حلال ہیں) اور اللہ ہر چیز کی پوری نگرانی کرنے والا ہے۔ 

3۔ قرآنی نص کے مطابق زوجات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنینؓ ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ‌ وَاَزۡوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمۡ‌۞ (سورۃ الأحزاب آیت 6)

ترجمہ: ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہے اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘

گویا اللہ تعالیٰ نے انھیں تحریم، توقیر، اکرام اور تعظیم میں مومنوں کے لیے ان کی حقیقی ماؤں کے برابر قرار دیا۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ نے ان کے مومنوں کے ساتھ اس رشتے کی مضبوطی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان میں سے کسی کے ساتھ بھی نکاح ہمیشہ کے لیے حرام کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَا كَانَ لَـكُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰهِ وَلَاۤ اَنۡ تَـنۡكِحُوۡۤا اَزۡوَاجَهٗ مِنۡ بَعۡدِهٖۤ اَبَدًا اِنَّ ذٰ لِكُمۡ كَانَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمًا ۞ ( سورۃ الأحزاب آیت 53)

ترجمہ: اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بڑی سنگین بات ہے۔

4۔ بے شک سب امہات المؤمنینؓ دنیا و آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں۔ اس پر متعدد نصوص دلالت کرتی ہیں:

الف: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان فرماتی ہیں:

’’میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں آپﷺ کی کون سی بیوی آپ کے ساتھ ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم تو بے شک انھیں میں سے ہو۔‘‘ وہ کہتی ہیں کہ میں نے سوچا کہ آپﷺ نے میرے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی۔‘‘

(ابن حبان: جلد 16 صفحہ 8، حدیث نمبر: 7096۔ الطبرانی: جلد 23 صفحہ 39، حدیث نمبر: 19053۔ الحاکم: جلد 4 صفحہ 14، حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے السلسلۃ الصحیحۃ میں کہا یہ حدیث مسلم کی شرط پر ہے۔ جلد 3 صفحہ 133)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ تو بھی ان میں سے ہے اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں گی۔

ب: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما (عمار بن یاسر بن عامر ابو الیقظان عنسی رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے آزاد کردہ ہیں۔ جلیل القدر صحابیٔ رسول اور السابقین الاولین میں سے ہیں۔ اللہ کی راہ میں انھیں بڑے مصائب جھیلنے پڑے۔ دوبار ہجرت کی اور دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ بدر سمیت تمام غزوات میں شامل رہے۔ بدر و یمامہ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں بڑے اجر و مرتبہ سے نوازا۔ 37 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 351۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 4 صفحہ 575۔) سے روایت ہے:

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تو جبریل امین علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپﷺ حفصہ سے رجوع کریں کیونکہ وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والی اور بہت زیادہ تہجد گزار ہے اور بے شک وہ جنت میں آپ کی بیوی ہے۔‘‘

(البزا: جلد 4 صفحہ 237، حدیث نمبر 1401۔ الطبرانی: جلد 23 صفحہ 188، حدیث نمبر: 306۔ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم: جلد 2 صفحہ 50، ہیثمی نے مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 247 میں کہا اسے بزار اور طبرانی نے روایت کیا اور اس کی دونوں اسناد میں حسن بن ابی جعفر نامی ایک راوی ہے جو ضعیف ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع، حدیث نمبر: 4351 پر اسے حسن کہا ہے۔

ج: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کرتے ہوئے سیدنا طلحہ وغیرہ کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں تو ایک آدمی نے ان کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کرنے کی کوشش کی، اس وقت سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کی شان میں کیا کہہ رہا ہے تو ام المؤمنینؓ کا احترام کیوں نہیں کرتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک وہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہوں گی۔ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات کہی اور وہ خاموش رہے۔

(فضائل الصحابۃ للامام احمد: جلد 2 صفحہ 868)

5۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیاتِ تخییر نازل ہوئیں:

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞ وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡماً۞ (سورة الأحزاب آیت 28، 29)

ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو دو میں سے ایک چیز پسند کرنے کا اختیار دیا۔ تو تمام ازواج مطہراتؓ نے اللہ، اس کے رسول اور دارِ آخرت کو پسند کیا اور دنیاوی عیش و عشرت کو ٹھکرا دیا۔ یہ ان کی صدقِ قلبی کی دلیل ہے اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مادی فوائد نہ رکھتے تھے جو ان کی ترغیب کا باعث بنتے اور آپﷺ اپنے ساتھ اپنی زوجات کو تنگ حالی پر صبر، صدق ایمان اور حقیقت تقویٰ کی تلقین کرتے۔ چنانچہ ان کی طرف سے یہ اختیار تقویٰ پر مبنی تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے شرف قبولیت سے نوازا اور انھیں خصوصی تکریم عطا کی:

الف: اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بعد کسی اور سے شادی کرنے سے روک دیا۔

ب: اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو منع کر دیا کہ ان میں سے کسی کو طلاق دیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی زوجات آخرت میں بھی آپﷺ کی زوجات ہوں گی اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بھی ان میں سے کسی کے ساتھ شادی کرنا حرام کر دیا۔

(شذی الیاسمین فی فضائل امہات المومنین: صفحہ 17۔)

6۔ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہراتؓ سے شرک وغیرہ جیسی نجاست کی نفی کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞ (الأحزاب آیت نمبر 33)

ترجمہ: اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔

یہ بات ہم نے اس قول کی بنیاد پر کہی جس کے علاوہ کوئی دوسری رائے صحیح نہیں ہے۔ یعنی اہل بیت میں زوجات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں۔

7۔ عمل صالح اور اطاعات کے کاموں میں ان کا اجر دوگنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًـا نُّؤۡتِهَـآ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 31)

ترجمہ: اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تابع دار رہے گی اور نیک عمل کرے گی، اسے ہم اس کا ثواب بھی دو گنا دیں گے، اور اس کے لیے ہم نے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔

ئ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں کا تذکرہ تلاوت قرآن اور حکمت کے ساتھ کیا ہے۔ یہ ایسا شرف ہے جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا  ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 34)

ترجمہ: اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ یقین جانو اللہ بہت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔ 

بہرحال درج بالا چند فضائل کو جمع کر کے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ امہات المؤمنینؓ کے بس اتنے ہی فضائل ہیں۔ نہیں بلکہ امہات المؤمنینؓ کے قرآن و حدیث میں اتنے فضائل و مناقب موجود ہیں کہ ان کو جمع کر کے کئی ضخیم جلدیں تیار ہو سکتی ہیں، تاہم ہمارے موضوع سے متعلق مذکورہ فضائل ہی کافی سمجھے جائیں۔ عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہے اور آزاد کے لیے بشارت کافی ہے۔