بزبان حق ترجمان ائمہ کرام رحمۃ اللہ - ردِ رافضیت | دفاع…

بزبان حق ترجمان ائمہ کرام رحمۃ اللہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 4

بزبانِ حق ترجمانِ ائمہ کرامؒ

 جن حضرات کی حق شناسی حق پرستی اور للٰہیت کی شہادت رب العالمین خود دے اور زبانِ رسالت سے اس اجمال کی تفصیل بھی سنادی جائے تو مزید کسی شہادت کی ضرورت باقی نہیں رہتی مگر یہ واضح کرنے کے لئے کہ اہلِ بیتِ نبویﷺ کے دلوں میں ان مقبولان بارگاہِ الہٰی کے متعلق کسی قدر عقیدت تھی یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ کرامؒ کے ارشادات کا ذکر کر دیا جائے اور ان حضرات کی مستند کتابوں سے اِقتباس پیش کئے جائیں جن کے نزدیک ائمہ کرامؒ کا ارشاد قولِ فیصل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 

1۔ احتجاج طبرسی میں یحییٰ بن اکثم کی روایت موجود ہے کہ سیدنا باقرؒ سے سوال کیا:

 انه نزل جبرائیلؑ علی رسول اللهﷺ وقال يا محمد ان الله عزوجل يقرئك السلام ويقول لك سل ابابكرؓ هل هو راض عنی فانی عنه راض لقال ابوجعفر لست بمنكر فضل ابی بكرؓ۔

ترجمہ: حضرت جبرائیلؑ رسول اللہﷺ پر نازل ہوئے اور کہا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام فرماتے ہیں اور فرمایا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے دریافت کریں کہ کیا وہ ہم سے راضی ہے میں تو اس پر راضی ہوں۔ پس سیدنا باقرؒ نے فرمایا کہ میں سیدنا ابوبکرؓ کے فضائل کا منکر نہیں ہوں۔ 

وقال يحيىٰ روى ان السكينة تنطق علی لسان عمرؓ فقال ابی جعفرؒ لست بمنکر فضل عمرؓ ولكن ابابكرؓ افضل من عمرؓ۔ (احتجاج طبرسی صفحہ 239) 

ترجمہ: یحییٰ کہتا ہے کہ امام صاحب سے یہ بیان کیا گیا کہ سکینہ سیدنا فاروقؓ کی زبان پر بولتی ہے تو سیدنا باقرؒ نے فرمایا کہ میں سیدنا عمرؓ کے فضائل کا منکر نہیں ہوں ہاں سیدنا ابوبکر صدیقؓ ان سے افضل ہیں۔ 

2۔ تفسیر قمی میں زیرِ آیتِ غار یہ روایت درج ہے:

 فانه حدثنی ابی عن بعض رجاله رفعه الى ابی عبدالله قال لما كان رسول اللهﷺ‎ فی الغار قال لابی بکرؓ کانی انظر الى الانصار مختبيتين فی الفنيتہم فقال ابو بكرؓ تراهم يا رسول اللهﷺ قال نعم قال فار فيهم فمسح على عينيه فراهم فقال رسول اللهﷺ انت الصديق. 

 (تفسیر قمی مطبوعہ طہران جلد 4: صفحہ 157)۔

ترجمہ: جب رسول کریمﷺ‎ غار میں تھے تو آپ نے سیدنا ابوبکرؓ سے فرمایا گویا کہ میں سیدنا جعفرؒ اور اس کے ساتھیوں کی کشتی دیکھ رہا ہوں جو دریا میں کھڑی ہے اور انصار کو دیکھ رہا ہوں جو اپنے صحنوں میں خوشیاں منا رہے ہیں۔ تو سیدنا ابوبکرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ کیا آپ دیکھ رہے ہیں آپﷺ نے فرمایا ہاں سیدنا صدیقؓ نے عرض کی کہ حضورﷺ‎ مجھے بھی دکھائیے حضورﷺ نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ دیکھنے لگے تو حضورﷺ نے فرمایا تو سیدنا صدیقؓ ہے۔ 

جو شخص بزعم خویش محبانِ اہلِ بیتؓ کے نزدیک سب سے زیادہ مطعون ہے اس کے متعلق ائمہ اہلِ بیتؓ شہادت دے رہے ہیں کہ بارگاہِ رسالت سے اسےسیدنا صدیقؓ کے خطاب سے سرفراز فرمایا گیا ہے نبیﷺ صدیق کا خطاب دیں اور اہلِ بیتؓ اس کی شہادت دیں مگر محبانِ اہلِ بیتؓ اس پر طعن کریں تو اسے کیا کہیئے۔

 اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو سیدنا علی المرتضیٰؓ پر فضیلت حاصل ہے وہ یوں کہ غزوہ خیبر میں سیدنا علیؓ کو ایک جسمانی وصف شجاعت کی وجہ سے نبی کریمﷺ‎ نے حیدرِ کرار کے لقب سے نوازا اور رفیقِ خاص سیدنا ابوبکرؓ کو ایک روحانی وصف کمال صدق و دیانت کی وجہ سے صدیق کے لقب سے سرفراز فرمایا اور آیتِ قرآنی کی رو سے نبیﷺ‎ کے بعد سب سے افضل مقام سیدنا صدیقؓ کا ہے۔

 غزوہ خیبر میں حضور اکرمﷺ نے سیدنا علیؓ کی دکھتی ہوئی آنکھوں پر دستِ مبارک پھیرا تو آشوبِ چشم دور ہوا اور بصارت درست ہوگئی اور غار میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی مادی آنکھوں پر دستِ مبارک پھیرا اور روشن ضمیر بنا دیا بصارت اور بصیرت میں جو فرق ہے وہی فرق سیدنا علیؓ اور سیدنا ابوبکرؓ کی شان میں ہے مگر دل کا اندھا اس فرق کو کیونکر سمجھے۔

 قاضی نور اللہ شوستری نے لکھا ہے کہ حضور اکرمﷺ نے سیدنا سلمان فارسیؓ سے فرمایا: 

ما سبقكم ابوبكرؓ بصوم ولا صلوة ولكن بشیء وقرفی قلبه۔ (مجالس المومنين مجلس سوم صفحہ 89)

سیدنا ابوبکرؓ کو نماز روزہ کی وجہ سے تم پر فضیلت حاصل نہیں بلکہ ایک چیز ہے جو اس کے قلب میں مرکوز کر دی ہے۔ 

 یہ وہی بصیرت ہے جس کا ذکر تفسیرِ قمی کی روایت میں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ بن گئے اور امت میں سب سے افضل ٹھہرے۔

3۔ تفسیر سیدنا حسن عسکری سے ایک طویل بیان کے کچھ اِقتباسات درج کئے جاتے ہیں۔ 

ان الله اوحى اليه يا محمد ان العلى الا علىٰ يقرأ عليك السلام ويقول لک ان ابا جہل والملاء من قريش قد دبروا علیک یریدون قتلک و امرک ان تستصحب ابا بكرؓ فانه ان انسک و ساعدک و وازرک و ثبت علی ما يعاهدك ويعاقد كان فی الجنة من رفقاتك وفی عرفاتها من خلصانك ثم قال رسول اللهﷺ‎ لابی بكرؓ ارضیت ان تكون معی یا ابا بكر تطلب كما اطلب وتعرف بانك انت الذی تحملنی على ما ادعيه فتحمل عنی انواع العذاب قال ابوبكرؓ يا رسول اللهﷺ‎ اما انا لو عشت عمر الدنيا اعذب فی جميعها اشد عذاب لا ينزل علی موت مريح ولا فرج مینح وكان ذلك فی محبتك لكان ذالک احب التی من ان انغم فيها وانا مالک لجميع ممالک ملوکها فی مخالفتك وهل انا و مالی وولدی واهلى الا فدائک فقال رسول اللهﷺ‎ لا جرم ان اطلع على الله علی قلبك ووجد ما فيه موافقا لما جرى على لسانک جعلک منی بمنزلة السمع والبصر والرأس بمنزلة الروح من البدن۔

(تفسیر سیدنا حسن عسکری مطبوعہ جعفری صفحہ 189)۔

صفحہ 1 از 4