بزبان حق ترجمان ائمہ کرام رحمۃ اللہ - ردِ رافضیت | دفاع…

بزبان حق ترجمان ائمہ کرام رحمۃ اللہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 4

ترجمہ: حضرت جبرئیلؑ بحکمِ خدا نبی کریمﷺ پر وحی لائے کہ اے محمدﷺ اللہ تعالیٰ آپ کو سلام فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ ابوجہل اور قریش کی جماعت آپ کے قتل کا مصمم ارادہ کر چکی ہے لہٰذا آپ کو چاہئے کہ سیدنا ابوبکرؓ کو اپنا رفیقِ سفر بنائیں اگر وہ آپ کی موانست کریں گے اور عہد پر قائم رہیں گے تو جنت میں بلکہ اعلیٰ طبقہ علیین میں آپ کے رفیق ہوں گے پھر حضور اکرمﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ سے فرمایا کہ اے سیدنا ابوبکرؓ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم میرے ساتھ ہی رہو اور میری طرح کفار قریش تیرے قتل کے درپے بھی ہوں اور یہ بھی مشہور ہو جائے کہ تم ہی نے مجھے دعویٰ نبوت پر آمادہ کیا ہے اور میری رفاقت کے سبب تم طرح طرح کی تکالیف میں مبتلا ہو سیدنا ابوبکرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میں وہ ہوں کہ آپ کی محبت میں مجھے سخت ترین مصائب اور بلیات میں مبتلا کیا جائے نہ موت آئے نہ رہائی کی کوئی صورت پیدا ہو تب بھی فی مجھے حضورﷺ کی معیت زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ آپ کو چھوڑ کر میں دنیا میں خوش حال رہوں اور سلاطینِ عالم کی حکومتوں کا مالک بن جاؤں میری جان و مال اور اہل و عیال آپ پر فدا ہوں یہ سن کر حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تیری زبان و قلب كو موافق پایا تو یقیناً تمہیں میرے ساتھ وہ تعلق ہوگا جو کان آنکھ اور سر کو جسم سے ہے اور میرے ساتھ وہ نسبت ہو گی جو روح کو بدن سے ہے۔ 

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے حضورﷺ سے جو عہد کیا تھا وہ عمل سے پورا کر دکھایا اور وفا کا صرف حق ہی ادا نہیں کیا بلکہ وفا کی مثال قائم کر دی اور حضورﷺ کی محبت میں گھر بار جان و مال اور اہل و عیال سب کچھ قربان کر دیا۔

 یہاں یہ واضح کر دینا مناسب ہوگا ملا باقر مجلسی نے ان روایات کے ترجمہ کرنے میں نا انصافی کی انتہا کر دی ہے مگر پھر بھی یہ الفاظ ان کے قلم سے نکل ہی گئے۔

 ترا امر کرده است کہ ابوبکرؓ راه همراه خود بیری۔

 کہ اللہ نے آپﷺ کو حکم دیا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کو اپنا رفیق سفر بنائیے۔ (حیاۃ القلوب جلد 2: صفحہ 310) ۔

علامہ فتح اللہ کاشانی اپنی مقبول تفسیر خلاصتہ المنہج میں لکھتے ہیں کہ:

 پس پیغمبر شب پنجشنبه در شهر مکه امیر المومنین علی را در جائے خود بخوا بایندو برفاقت ابوبکرؓ بیرون آمده در ہماں شب بداں غار متوجهہ شد

جب شیخ عبد الجلیل قزوینی شیعہ عالم کے ایک ہم عصر سنی عالم نے ان پر اعتراض کیا کہ سیدنا ابوبکرؓ کی رفاقت کی وجہ جو تم لوگ بیان کرتے ہو وہ تو بالکل بے تکی معلوم ہوتی ہے تو شیخ عبد الجلیل نے جو جواب دیا قاضی نور اللہ شوستری نے یوں بیان کیا ہے: 

جناب شیخ در جواب نوشتہ کہ این کلمات نہ مذہب علمائے شیعه است بلکہ عوام کا اوباش بطریق استهزاء گویند اگر رسولﷺ‎ شب غار از ابوبکرؓ ترسید از عمرؓ و عثمانؓ ہم می ترسید پس بایستی که ہرسہ رابا خود بردے پس چنانکہ پیغمبرﷺ‎ پنہانے دیگراں می رفت پنہانے ابوبکرؓ نیز می رفت وہمہ حال رفتن و بردن ابوبکرؓ بے حکم خدا نباشد۔

ائمہ کرامؒ کے ارشادات اور مجتہدین شیعہ کے اقرار کے بعد اب اس حقیقت کے انکار کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ ہجرت میں حضور اکرمﷺ کے ساتھ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی رفاقت و معیت اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے طور پر عمل میں آئی مگر یہ رفاقت نہ عارضی تھی نہ وقتی بلکہ ہر حال میں قائم رہی اور ابدی تھی۔

 قریش نے تین سال تک حضور اکرمﷺ سے بائیکاٹ کئے رکھا اور آپ شعب ابی طالب میں محصور رہے ان ایامِ مصیبت میں بھی سیدنا صدیقِ اکبرؓ حضور ﷺ کے ساتھ تھے اس ابتلا کے خاتمے پر ابو طالب کے جو اشعار نقل کئے گئے ہیں ان سے یہ حقیقت واضح ہے۔ 

قضوا ما قضوا فی ليلهم ثم صبحوا على سهل وسائر الناس رقدوا وهم رجعوا سهل بن بيضاء راضيا وسر ابوبكرؓ بها و محمدﷺ۔ (ناسخ التواريخ جلد 2: صفحہ 622)۔

انہوں نے رات کو جو فیصلہ کیا سو کیا پھر صبح ہوئی اور تمام آدمی ابھی سو رہے تھے انہوں نے سہل بن بيضا کو راضی کر کے لوٹایا اور اس سے سیدنا ابوبکرؓ اور محمد رسول اللہﷺ راضی ہوئے۔

 غزوہ بدر میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ حضور اکرمﷺ‎ کے رفیق ہی نہیں تھے مشیر بھی تھے۔ 

ابوبکرؓ نزد نبی داشت جا بگفت اے بق خلق را رہنما

در آمد بجنگی سپاه ضلال چه فرمائی اکنوں برائے قتال۔

(حملہ حیدری جلد 1: صفحہ 83)۔

اس کتاب میں عروہ سے مکالمہ کے سلسلے میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے جوش حمیت اور محبتِ رسولﷺ‎ کا اظہار کیا گیا ہے اس کا عنوان ہے آمدن عروه بخدمت خیر البشر و استفسار نمودن از مکنون خاطر اظہر و معارضہ نمودن ابوبکر صدیقؓ۔ 

عروہ کی بات سن کر سیدنا ابوبکرؓ کی کیفیت کا اظہار یوں کیا گیا ہے۔ 

ع بر آشفت صدیق ازاں گفتگو

 اس بر آشفتگی پر عروہ کا ردعمل یہ بیان ہوا ہے۔ 

پرسید کیں مرد پر شور کیست کدام است اور انسب نام چیست

جواب ملا: چنین گفت با عروہ آنمردویں کہ باشد ابوبکر صدیقؓ ایں۔ (حملہ حیدری جلد 2: صفحہ 211)۔ 

پھر حدیبیہ میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا حضور اکرمﷺ کے ساتھ ہونا صاحبِ حملہ حیدری نے یوں بیان کیا ہے۔ 

عنوان مناظرہ سیدنا فاروقؓ با سیدنا صدیقؓ ایک شعر ہے۔ 

از دہم بدانگونہ پاسخ شنید که سابق زصدیق شنیده بود (حملہ حیدری جلد 1: صفحہ 222)۔

 ان روایات میں اس امر کا کھلا اقرار ہے کہ ہجرت کے علاوہ غزوات میں مصائب و بلیات میں اہم معاملات میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو حضور اکرمﷺ کی معیت اور رفاقت حاصل رہی اور اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی حضورﷺ‎ کی رفاقت نصیب ہوئی اور بعث بعد الموت بھی رفاقت اور معیت نصیب ہوگیمتذکرہ بالا روایات اور حملہ حیدری میں دوسرے متعدد مقامات پر شیخینؓ کا ذکر سیدنا صدیقؓ اور سیدنا فاروقؓ کے الفاظ سے کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حضور اکرمﷺ‎ کے سامنے ان حضرات کو ان ہی القاب سے پکارا جاتا تھا اخیار کے زمانہ میں بھی یہی معمول رہا اور خود متقدمین شیعہ علماء کے ہاں بھی یہی عمل رہا بعد والوں نے جب اپنے مذہب کو مسخ کیا تو یہ القاب بھی اپنے لٹریچر سے غائب کر دئیے ہے۔ 

سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی فضیلت کے متعلق شیعہ کی تفسیر مجمع البیان میں یوں ذکر کیا گیا:

صفحہ 2 از 4