بزبان حق ترجمان ائمہ کرام رحمۃ اللہ - ردِ رافضیت | دفاع…

بزبان حق ترجمان ائمہ کرام رحمۃ اللہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 4

قال تعالىٰ والذی جاء بالصدق وصدق به واولئك هم المتقون قيل والذی جاء بالصدق رسول اللهﷺ‎ وصدق به ابوبكرؓ۔ 

ائمہ اہلِ بیتؓ نے شیخینؓ کی فضیلت ہی بیان نہیں فرمائی بلکہ ان کے عمل کو دین میں حجت کا مقام دیا ہے اور ان لوگوں کو گمراہ قراردیا ہے جو شیخینؓ کے مقام نہیں پہچانتے یا ان پر طعن کرتے ہیں۔ 

5۔ کشف الغمہ شیعہ کے ہاں نہایت معتبر اور مستند کتاب سمجھی جاتی ہے مولوی حامد حسین لکھنوی اپنی کتاب استقصا الافہام میں کشف الغمہ کے متعلق لکھتے ہیں: 

آنچه در کشف الغمہ مذکور است آنرا اہل الحق مقبول میسازند وبر انکار آن نمی پردازند۔

 اس کتاب میں ایک روایت مذکور ہے:

 عبدالله الجعفی عن عروہ عن عبدالله قال سالت ابا جعفر محمد بن علی بن حلیة السیف فقال لا باس به قد حلی ابوبکر الصدیقؓ عنه قبضة سيفه قال قالت اتقول الصديقؓ؟ قال فوثبا الامام وثبة واستقبل القبلة ثم قال نعم الصدیقؓ نعم الصدیقؓ فمن لم یقل له الصدیقؓ فلا صدق الله له قولاً فی الدنیا والآخرۃ۔

کہتا ہے کہ میں نے سیدنا باقرؒ سے سوال کیا کہ تلوار کا قبضہ چاندی کا بنوانا جائز ہے کیا؟ فرمایا کہ ہاں اس لیے کہ جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنی تلوار پر چاندی کا قبضہ لگوایا تھا راوی کہتا ہے کہ میں نے کہا کہ اے امام! آپ بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ فرماتے ہیں یہ سنتے امام اپنی جگہ سے اچھل پڑے اور قبلہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا ہاں وہ صدیق ہے ہاں وہ صدیق ہے اور جو شخص اسے صدیق نہ کہے اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق دنیا اور آخرت میں نہ کرے۔ (کشف الغمہ 185)

اس روایت میں کئی امور واضح ہو گئے:

  1.  سیدنا باقرؒ نے جائز و ناجائز سے متعلق ایک دینی مسئلہ میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے فعل کو حجت اور دلیل قرار دیا۔
  2.  نادان لوگوں نے غلط عقائد خود گھڑ لیے اور اپنے آپ پر قیاس کر کے ائمہ اہلِ بیتؓ کو ایسا ہی سمجھا گیا۔
  3.  جب ائمہ کی طرف سے ان کے مَن گھڑت عقائد کے خلاف شیدائیانِ رسولﷺ کی عظمت کا اظہار ہوا تو اپنی اصلاح کرنے کی بجائے ائمہ کی بات پر تعجب ہونے لگا۔
  4. ائمہ اہلِ بیتؓ نے جب دیکھا کہ کوئی شخص سیدنا صدیقِ اکبرؓ جیسے عظیم صحابی کی عظمت میں کوئی کمی کرتا ہے تو اس گستاخی کو برداشت نہ کر سکے۔
  5. امام نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ عظمت کا اعتراف ہی نہیں کیا بلکہ اعلان کیا اور تکرار سے اعلان کیا۔
  6. سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی شان میں کمی کرنے والے کے لیے بددعا کی کہ اس کی دنیا اور آخرت برباد ہو گویا ایسے شخص کی دنیا اور آخرت کی تباہی کی اطلاع دے دی۔
  7.  اہلِ بیتؓ کو ہادی اور رہبر سمجھنے والوں کے لیے درس عبرت ہے۔
  8.  عن جابر قال قال لی محمد بن علی یا جابر بلغنی ان قوما بالعراق یزعمون انھم یحبوننا ویتنا ولون ابابکر و عمر عنھما ویزعمون انی امرتھم بذلک فابلغھم انی الی الله منھم بری والذی نفس محمد بیدہ لو ولیت لتقربت الی الله تعالیٰ بدماتھم لا نا لتنی شفاعة محمد ان لم اکن استغفر لھما واترحم علیھما ان اعداء الله لغافلون عنھما

( حلیة جلد 3 صفحه 185)۔

ترجمہ: جابر کا بیان ہے کہ مجھے سیدنا باقر زین العابدینؓ نے کہا کہ اے جابر مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ عراق میں ایک قوم ہے ان کا گمان ہے کہ وہ ہمیں دوست رکھتے ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کو برا بھلا کہتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ میں نے انہی ( شیخینؓ کو) برا بھلا کہنے کو کہا ہے انہیں میرا پیغام پہنچا دینا کہ میں ان سے پناہ طلب کرتا ہوں اور میں ان سے بری ہوں میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر میں غالب بنایا جاتا تو ان کے قتل کرنے سے اللہ کا تقرب حاصل کرتا مجھے نبی کریمﷺ کی شفاعت نصیب نہ ہو اگر میں ان دونوں (شیخینؓ) کے لیے استغفار نہ کروں یقیناً یہ اللہ کے دشمن شیخینؓ کی شان سے غافل ہیں۔

عن جابر الجعفی قال قال لی ابوجعفر محمد بن علی لما ودعته ابلغ اھل الکوفة انی بری ممن تبری من ابی بکرؓ و عمرؓ عنھما وارضاھما۔ (حلیة صفحہ 185)۔

ترجمہ: جابر جعفی کہتا ہے کہ جب میں سیدنا باقرؒ سے الوداع کہہ کے کوفہ آنے لگا تو آپ نے فرمایا کہ اہلِ کوفہ کو میرا پیغام پہنچا دینا کہ میں اس شخص سے بیزار ہوں جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ سے بیزار ہے۔

عن ابی جعفر محمد بن علی قال من لم یعرف فج ابی بکرؓ و عمرؓ فقد جھل السنة۔ (حلیة صفحہ 185)۔

ترجمہ: سیدنا باقرؒ نے فرمایا کہ جو شخص سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کی فضیلت کو نہیں پہچانتا وہ سنتِ رسولﷺ سے جاہل ہے۔

عن ابی سلیمان قال سالت اباجعفر محمد بن علی عن قوله تعالیٰ انما ولیکم الله ورسوله والذین امنو الذین یقیمون الصلوۃ ویوتون الزکوۃ وھم راکعون قال اصحاب محمدﷺ قلت یقولون ھو علیؓ قال علیؓ منھم۔ (حلیة صفحہ 185)۔

ترجمہ: ابو سلیمان کہتا ہے کہ میں نے سیدنا محمد باقرؒ سے آیت انما ولیکم اللہ الخ کی تفسیر پوچھی تو امام نے فرمایا کہ اس سے مراد اصحابِ رسولﷺ ہیں میں نے کہا کہ شیعہ کہتے ہیں کہ اس سے سیدنا علیؓ مراد ہے تو آپ نے فرمایا کہ سیدنا علیؓ ان مومنوں میں داخل ہیں۔

متذکرہ بالا چار روایات سے چند امور کی وضاحت ہوتی ہے۔

  1.  سیدنا باقرؒ نے ان لوگوں کو خدا کا دشمن قرار دیا جو فضیلت شیخینؓ کے منکر ہیں۔
  2. سیدنا باقرؒ نے ان لوگوں کے اس دعویٰ کی تردید کی کہ سیدنا باقرؒ شیخینؓ سے برأت کا حکم دیتے ہیں۔ 
  3. سیدنا باقرؒ نے منکرین فضیلتِ شیخینؓ کے مرکز کوفہ میں اہتمام سے پیغام بھیجا کہ میں ان لوگوں سے بیزار ہوں جو شیخینؓ کی فضیلت سے انکار کرتے ہیں۔
  4. سیدنا باقرؒ نے وضاحت فرما دی کہ جو شیخینؓ کی فضیلت کا منکر ہے وہ دراصل سنتِ رسولﷺ کا منکر ہے
  5. امام نے آیت قرآنی کی تفسیر کے سلسلہ میں شیعہ کی غلط تعبیر اور غلط تاویل کی اصلاح فرما دی اور واضح فرما دیا کہ ولیکم اللہ سے مراد صرف سیدنا علیؓ نہیں بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت ہے جس میں سرِ فہرست شیخینؓ کا نام آتا ہے۔
صفحہ 3 از 4