بزبان حق ترجمان ائمہ کرام رحمۃ اللہ - ردِ رافضیت | دفاع…

بزبان حق ترجمان ائمہ کرام رحمۃ اللہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 4

10۔ عن فرات بن السائب قال سالت میمون بن مھران قلت علیؓ افضل عندک ام ابوبکرؓ و عمرؓ فارتعد حتیٰ سقطت عصاہ من یدہ ثم قال ما کنت الظن ان ابقی الی زمان یعدل بینھما ذرھما کاتار اسی السلام وراسی الجماعة فقلت فابوبکرؓ کان اول اسلاما او علیؓ قال والله لقد امن ابوبکرؓ بالنبیﷺ زمن بحیرہ الراھب حین مربه۔(حلیہ جلد 4 صفحہ93)

ترجمہ: فرات بن سائب کہتے ہیں میں نے میمون بن مہران سے سوال کیا اور کہا کہ آپ کے نزدیک سیدنا علیؓ افضل ہیں یا سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ آپ کانپ اٹھے اور آپ کے ہاتھ سے لاٹھی گر پڑی پھر فرمایا مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میں اس زمانے تک زندہ ہوں گا جس میں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے ساتھ کسی کو برابر سمجھا جائے ان دونوں کی کیا پوچھتے ہو یہ دونوں اسلام کے اور جماعت کے سردار تھے پھر میں نے پوچھا کہ سیدنا ابوبکرؓ پہلے اسلام لائے تھے یا سیدنا علیؓ۔

 فرمایا کہ اللہ کی قسم سیدنا ابوبکرؓ تو بحیرہ راہب کے زمانے میں ایمان لائے تھے جب ان کا گزر اس کے پاس ہوا۔

حملہ حیدری جلد اول میں اس روایت کی تصدیق کی گئی ہے وہاں بحیرہ کو راہب کے بجائے کاہن کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے پورا حوالہ پہلے گزر چکا ہے۔

عن علی بن الحسینؓ قال اتاتی نفر من اھل العراق فقالوا ابی بکرؓ و عمرؓ وعثمانؓ فلما فرغوا قال لھم علی بن الحسین الا تخبروتنی انتم المھاجرون الاولون الذی اخرجوا من دیارھم اموالھم یبتغوں فضلا من الله ورضوانا وینصرون الله ورسوله اولٰئِک ھم الصادقون۔

ترجمہ: سیدنا زین العابدینؒ سے روایت ہے کہ میرے پاس عراق کی ایک شیعہ جماعت آئی اور اصحابِِ ثلاثہؓ کے حق میں ناروا الفاظ کہے جب کہہ چکے تو سیدنا زین العابدینؓ نے ان سے کہا کیا تم مہاجرین اولین سے ہو جن کے اوصاف قرآن نے یہ بیان کئے ہیں۔

قالوا لا قلا فانتم الذين والايمان من قبلهم يحبون من هاجر اليهم ولا يجدون في صدورهم حاجه مما اوتوا ويوثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصة ومن يوق شح نفسه فاولٰئك هم المفلحون قالوا لا قال امانتم فقد تبرأتم ان تكونوا من احد هذين الفريقين ثم قال اشهد اتكم لستم من الذين قال الله عز وجل والذين جائوا من بعدهم يقولون ربنا اغفرلنا ولا خواتنا الذين سبقونا بالايمان ولا نجعل في قلوبنا غلا للذين اٰمنوا ربنا انك غفور رحيم اخرجو افعل الله بكم۔ (حلية جلد 3 صفحہ 136)۔

ترجمہ: جواب میں عراقیوں نے کہا کہ ہم ان مہاجرین میں سے تو نہیں ہیں امام نے کہا تو کیا تم ان انصار سے ہو جن کے متعلق قرآن نے یہ فرمایا انہوں نے کہا ہم ان انصار میں سے بھی نہیں ہیں پھر امام نے فرمایا کہ تم نے اقرار کر لیا ہے کہ تم ان دو جماعت ہو یعنی مہاجرین اور انصار سے تعلق نہیں رکھتے ہو پھر فرمایا کہ میں سنا دیتا ہوں کہ تم بعد میں آنے والے مسلمانوں میں سے بھی نہیں ہو جن کے متعلق قرآن نے یہ فرما دیا۔

اس لیے میرے پاس سے نکل جاؤخدا تمہیں غارت کرے۔

سیدنا زین العابدینؓ نے قرآنِ مجید کی تین آیتیں پیش کر کے عراقی شیعہ جماعت پر واضح کر دیا مسلمانوں کی صرف تین ہی جماعتیں ہو سکتی ہیں۔

اول: مہاجرین جنہوں نے اللہ اور رسولﷺ کی محبت میں اپنا وطن چھوڑا۔

دوم: انصار جنہوں نے ان بےوطن مہاجرین کو اپنے ہاں یوں بسایا جیسے گھر کے افراد ہیں۔

سوم: بعد میں آنے والے جنہوں نے مہاجرین اور انصار کا اتباع کیا ان کے نقوش قدم پر چلے اور مہاجرین و انصار کے حق میں دعا کریں اور دلوں میں ان کے متعلق کوئی میل اور کھوٹ نہ رکھیں۔

اب جو شخص اہلِ بیتؓ سے محبت یا اتباع کے تعلق کا مدعی ہو اسے اپنے متعلق سوچ لینا چاہیے کہ ان تین جماعتوں میں کہیں اس کا مقام ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو لازماً وہ امام کے ارشاد کے مطابق اس گروہ سے تعلق رکھتا ہے جسے امام نے اپنی مجلس سے دھتکار کر نکال دیا۔

اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه۔


صفحہ 4 از 4