دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل - دفاعِ…

دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 7

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کے دلائل اتنی کثرت اور اتنے تواتر کے ساتھ وارد ہوئے یہاں تک کہ حافظ ابو الحجاج مزی رحمہ اللہ نے کہہ دیا:

’’ان کے فضائل و مناقب بہت ہی زیادہ ہیں۔‘‘

(تہذیب الکمال للمزی: جلد 35 صفحہ 235۔ الامالی لابن عساکر: باب فضل ام المؤمنین عائشۃ رضی اللہ عنہا اور یہ مطبوع ہے اور محب الدین طبری نے السمط الثمین فی مناقب امہات المومنین اور عجیب یہ ہے کہ الحاج خلیفہ نے کشف الظنون: جلد 2 صفحہ 1843 میں کتاب کا نام مناقب حضرۃ ام المؤمنین عائشۃ لکھا پھر انھوں نے لکھا اور یہی کتاب السمط الثمین کے نام سے مشہور ہے اور ایسا انھوں نے شاید اس لیے کیا کہ محب الدین طبری رحمہ اللہ نے نہایت تفصیل کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کو جمع کیا، حتیٰ کہ 74 صفحات میں صرف ان کے فضائل ہیں جبکہ دیگر زوجات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مناقب اتنی تفصیل کے ساتھ نہیں لکھے۔)

آجری (محمد بن حسین بن عبداللہ ابوبکر آجری بغدادی، امام، محدث، قدوۃ، فقیہ، مذہباً شافعی، حرم شریف کے شیخ تھے۔ عالم باعمل تھے۔ متبع سنت عابد و زاہد تھے ان کی مشہور تصانیف ’’الشریعۃ فی السنۃ اور الاربعین ہیں۔ 360 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 16 صفحہ 133۔ وفیات الاعیان لابن خلکان: جلد 4 صفحہ 292۔) رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’تم جان لو اللہ تعالیٰ ہم پر اور تم پر رحم کرے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام زوجات علیہ السلام امہات المؤمنین ہیں اللہ عزوجل نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انھیں فضیلت دی ان میں سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں اور ان کے بعد دوسری بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ ان کا مقام و مرتبہ جلیل القدر ہے۔ اگر کوئی کہے کہ علماء و شیوخ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب جمع کرنے میں اس قدر سعی کیوں کرتے ہیں جبکہ وہ دیگر ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و مناقب کا اتنا اہتمام نہیں کرتے، یعنی سیدہ خدیجہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد آنے والی ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وہ اس قدر نہیں لکھتے۔ تو اسے یہ کہا جائے گا۔ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں منافقوں کے گروہ نے ان سے حسد کیا اور ان پر جھوٹا بہتان لگایا تو اللہ نے ان کی برأت نازل کر دی اور ان کی شان میں قرآن نازل ہوا اور جنھوں نے ان پر جھوٹا بہتان لگایا تھا ان کو کذاب کہا گیا اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کر دیا اور اہل ایمان کی آنکھوں کو حلاوت بخشی اور منافقین کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دیں۔ اس وقت سے علمائے امت اس ذات مطہرہ کے فضائل جمع کرنے کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں کہ جو دنیا و آخرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہے۔‘‘

(الشریعۃ: جلد 5 صفحہ 2394)

قرآن کریم اور ذکر الحکیم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت میں متعدد آیات نازل ہوئیں نیز ان کی منقبت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث بھی تواتر کے درجے پر پہنچتی ہیں۔

کتاب اللہ العزیز میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہونے والی آیات مبارکہ میں سے درج ذیل ہیں:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ لُعِنُوۡا فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ  وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 23)

ترجمہ: یاد رکھو کہ جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی مسلمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں پھٹکار پڑچکی ہے، اور ان کو اس دن زبردست عذاب ہوگا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، ضحاک (ضحاک بن مزاحم ہلالی ابو القاسم خراسانی، مفسر قرآن تھے۔ یہ بذات خود صدوق تھے۔ متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے احادیث کی روایت کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی صحابی سے ان کا سماع ثابت نہیں۔ تقریباً 102 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 598۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 2 صفحہ 572۔) اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم (عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم قریشی بنی عدی کے آزاد کردہ تھے۔ قاری قرآن و مفسر قرآن تھے۔ ایک جلد میں قرآن کی تفسیر لکھی اور الناسخ و المنسوخ پر ایک کتاب تحریر کی۔ 182 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی رحمہ اللہ: جلد 8 صفحہ 349۔ تہذیب التہذیب لابن حجر رحمہ اللہ: جلد 3 صفحہ 363) رحمہم اللہ فرماتے ہیں:

’’یہ آیات خصوصاً سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہوئیں۔ 

(کتاب التفسیر لابن ابی حاتم: جلد8 صفحہ 2556۔ حاکم: جلد 4 صفحہ 11۔ تفسیر ابن جریر: جلد 17  صفحہ 229۔ الدر المنثور للسیوطی: جلد 6 صفحہ 164)

یہ آیت کریمہ ان سترہ آیات میں سے ایک ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان برأت میں نازل ہوئیں جو اللہ تعالیٰ کے فرمان:

اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌۞ (سورة النور آیت 11) سے 

 اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ‌ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ۞ (سورة النور آیت 26)

ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے۔

یہ (پاکباز مرد اور عورتیں) ان باتوں سے بالکل مبرا ہیں جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ ان (پاکبازوں) کے حصے میں تو مغفرت ہے اور باعزت رزق۔ 

تک ہیں۔

(یہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی ترجیح ہے۔ وگرنہ آیات کی تعداد میں دیگر اقوال بھی ہیں۔ (فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 477 اور ان آیات کو آیات برأت بھی کہتے ہیں۔ (مناہل العرفان للزرقانی: جلد 2 صفحہ 396۔ القوم المنیر فی اصول التفسیر لاسماعیل بن زین المکی: صفحہ 36)

صفحہ 1 از 7