Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل

  علی محمد الصلابی

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کے دلائل اتنی کثرت اور اتنے تواتر کے ساتھ وارد ہوئے یہاں تک کہ حافظ ابو الحجاج مزی رحمہ اللہ نے کہہ دیا:

’’ان کے فضائل و مناقب بہت ہی زیادہ ہیں۔‘‘

(تہذیب الکمال للمزی: جلد 35 صفحہ 235۔ الامالی لابن عساکر: باب فضل ام المؤمنین عائشۃ رضی اللہ عنہا اور یہ مطبوع ہے اور محب الدین طبری نے السمط الثمین فی مناقب امہات المومنین اور عجیب یہ ہے کہ الحاج خلیفہ نے کشف الظنون: جلد 2 صفحہ 1843 میں کتاب کا نام مناقب حضرۃ ام المؤمنین عائشۃ لکھا پھر انھوں نے لکھا اور یہی کتاب السمط الثمین کے نام سے مشہور ہے اور ایسا انھوں نے شاید اس لیے کیا کہ محب الدین طبری رحمہ اللہ نے نہایت تفصیل کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کو جمع کیا، حتیٰ کہ 74 صفحات میں صرف ان کے فضائل ہیں جبکہ دیگر زوجات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مناقب اتنی تفصیل کے ساتھ نہیں لکھے۔)

آجری (محمد بن حسین بن عبداللہ ابوبکر آجری بغدادی، امام، محدث، قدوۃ، فقیہ، مذہباً شافعی، حرم شریف کے شیخ تھے۔ عالم باعمل تھے۔ متبع سنت عابد و زاہد تھے ان کی مشہور تصانیف ’’الشریعۃ فی السنۃ اور الاربعین ہیں۔ 360 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 16 صفحہ 133۔ وفیات الاعیان لابن خلکان: جلد 4 صفحہ 292۔) رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’تم جان لو اللہ تعالیٰ ہم پر اور تم پر رحم کرے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام زوجات علیہ السلام امہات المؤمنین ہیں اللہ عزوجل نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انھیں فضیلت دی ان میں سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں اور ان کے بعد دوسری بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ ان کا مقام و مرتبہ جلیل القدر ہے۔ اگر کوئی کہے کہ علماء و شیوخ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب جمع کرنے میں اس قدر سعی کیوں کرتے ہیں جبکہ وہ دیگر ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و مناقب کا اتنا اہتمام نہیں کرتے، یعنی سیدہ خدیجہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد آنے والی ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وہ اس قدر نہیں لکھتے۔ تو اسے یہ کہا جائے گا۔ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں منافقوں کے گروہ نے ان سے حسد کیا اور ان پر جھوٹا بہتان لگایا تو اللہ نے ان کی برأت نازل کر دی اور ان کی شان میں قرآن نازل ہوا اور جنھوں نے ان پر جھوٹا بہتان لگایا تھا ان کو کذاب کہا گیا اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کر دیا اور اہل ایمان کی آنکھوں کو حلاوت بخشی اور منافقین کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دیں۔ اس وقت سے علمائے امت اس ذات مطہرہ کے فضائل جمع کرنے کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں کہ جو دنیا و آخرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہے۔‘‘

(الشریعۃ: جلد 5 صفحہ 2394)

قرآن کریم اور ذکر الحکیم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت میں متعدد آیات نازل ہوئیں نیز ان کی منقبت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث بھی تواتر کے درجے پر پہنچتی ہیں۔

کتاب اللہ العزیز میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہونے والی آیات مبارکہ میں سے درج ذیل ہیں:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ لُعِنُوۡا فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ  وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 23)

ترجمہ: یاد رکھو کہ جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی مسلمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں پھٹکار پڑچکی ہے، اور ان کو اس دن زبردست عذاب ہوگا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، ضحاک (ضحاک بن مزاحم ہلالی ابو القاسم خراسانی، مفسر قرآن تھے۔ یہ بذات خود صدوق تھے۔ متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے احادیث کی روایت کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی صحابی سے ان کا سماع ثابت نہیں۔ تقریباً 102 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 598۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 2 صفحہ 572۔) اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم (عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم قریشی بنی عدی کے آزاد کردہ تھے۔ قاری قرآن و مفسر قرآن تھے۔ ایک جلد میں قرآن کی تفسیر لکھی اور الناسخ و المنسوخ پر ایک کتاب تحریر کی۔ 182 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی رحمہ اللہ: جلد 8 صفحہ 349۔ تہذیب التہذیب لابن حجر رحمہ اللہ: جلد 3 صفحہ 363) رحمہم اللہ فرماتے ہیں:

’’یہ آیات خصوصاً سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہوئیں۔ 

(کتاب التفسیر لابن ابی حاتم: جلد8 صفحہ 2556۔ حاکم: جلد 4 صفحہ 11۔ تفسیر ابن جریر: جلد 17  صفحہ 229۔ الدر المنثور للسیوطی: جلد 6 صفحہ 164)

یہ آیت کریمہ ان سترہ آیات میں سے ایک ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان برأت میں نازل ہوئیں جو اللہ تعالیٰ کے فرمان:

اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌۞ (سورة النور آیت 11) سے 

 اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ‌ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ۞ (سورة النور آیت 26)

ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے۔

یہ (پاکباز مرد اور عورتیں) ان باتوں سے بالکل مبرا ہیں جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ ان (پاکبازوں) کے حصے میں تو مغفرت ہے اور باعزت رزق۔ 

تک ہیں۔

(یہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی ترجیح ہے۔ وگرنہ آیات کی تعداد میں دیگر اقوال بھی ہیں۔ (فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 477 اور ان آیات کو آیات برأت بھی کہتے ہیں۔ (مناہل العرفان للزرقانی: جلد 2 صفحہ 396۔ القوم المنیر فی اصول التفسیر لاسماعیل بن زین المکی: صفحہ 36)

بلاشک و شبہ اس ذات طاہرہ و مطہرہ کی برأت کے لیے قرآن کریم کا نزول ان کے فضل و شرف اور عفت و طہارت کی سب سے بڑی اور محکم دلیل ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی آخر الزمان سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس کے ذریعے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کر دیتا، تو یہ بھی کافی ہوتا لیکن اللہ عزوجل نے چاہا کہ اس عفیفہ کی برأت کے لیے قرآن کریم نازل کیا جائے جو قیامت تک پڑھا جاتا رہے، اللہ تعالیٰ نے خود گواہی دی کہ وہ عفیفہ، طیبہ و طاہرہ ہیں اور اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مغفرت اور رزق کریمانہ کا وعدہ کر لیا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے انہی مخصوص فضائل کے ضمن میں یہ آیت کریمہ بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَلَنۡ تَسۡتَطِيۡعُوۡۤا اَنۡ تَعۡدِلُوۡا بَيۡنَ النِّسَآءِ وَلَوۡ حَرَصۡتُمۡ‌۞ (سورۃ النساء آیت 129)

ترجمہ: اور عورتوں کے درمیان مکمل برابری رکھتا تو تمہارے بس میں نہیں، چاہے تم ایسا چاہتے بھی ہو۔ 

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں:

’’یہ آیت بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہوئی۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیگر ازواج کی نسبت ان سے زیادہ محبت کرتے تھے۔‘‘

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 4 صفحہ 223۔ تفسیر ابن جریر: جلد 7 صفحہ 570۔ تفسیر ابن کثیر: جلد 2 صفحہ 430)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سبب سے قرآن کریم میں آیت تیمم نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا (سورة المائدۃ آیت 6)

ترجمہ: ’’پھر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو۔‘‘

(صحیح البخاری: حدیث نمبر: 3672۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 842۔ تفصیلی قصہ صحیح بخاری میں موجود ہے اور جو چند صفحات بعد مختصراً درج ہے۔ 

اس آیت کی تفسیر میں مقاتل کہتے ہیں:

’’آیت تیمم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں نازل ہوئی۔‘‘

(تفسیر مقاتل بن سلیمان: جلد 1 صفحہ 375۔ مجموع الفتاوٰی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ: جلد 6 صفحہ 389)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’العجاب فی بیان الاسباب، جلد 2 صفحہ 881‘‘ میں مقاتل کا قول نقل کیا کہ آیت تیمم کا سبب نزول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ ہے اس میں ان کی فضیلت اور برکت کی دلیل ہے۔

اسی لیے سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے آل ابی بکر یہ تمہاری پہلی برکت تو نہیں۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 1 صفحہ 343۔ صحیح البخاری: حدیث نمبر: 334۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 367۔)

ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں:

’’بے شک وہ باعث برکت تھیں۔‘‘

(تفسیر ابن جریر: جلد 7 صفحہ 79)

ایسے ہی اقوال ابن عباس اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم سے منقول ہیں۔

(سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 565۔ فضائل الصحابۃ للامام احمد: جلد 2 صفحہ 874)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جو خصوصی فضائل و مناقب ہیں وہ بے شمار ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمام عورتوں سے افضل ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

فَضْلُ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِیْدِ (گوشت کے شوربہ میں روٹی کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ (جمہرۃ اللغۃ لابن درید: جلد 1 صفحہ 419۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 209۔ لسان العرب لابن منظور: جلد 3 صفحہ 102) عَلَی سَائِرِ الطَّعَامِ

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3370۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2446۔)

ترجمہ: ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید کی تمام کھانوں پر فضیلت ہے۔‘‘

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ کَثِیرٌ وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَائِ إِلَّا آسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ وَمَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلَی سَائِرِ الطَّعَامِ۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3411۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2431)

ترجمہ:’’مرد تو بے شمار کامل ہوئے لیکن عورتوں میں سے صرف فرعون کی بیوی آسیہ، عمران کی بیٹی مریم علیہا السلام کامل ہیں اور بے شک عائشہ کو تمام عورتوں پر اس طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔‘‘

2۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں سے زیادہ عائشہ رضی اللہ عنہا محبوب ہیں اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں اس کی واضح دلیل موجود ہے، جب انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپﷺ کو سب سے زیادہ کس کے ساتھ محبت ہے؟ تو آپ نے فرمایا:

عَائِشَۃ، قَالَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: اَبُوْہَا

(اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔)

ترجمہ: ’’عائشہ کے ساتھ۔‘‘ انھوں نے عرض کیا: مردوں میں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کے باپ کے ساتھ۔‘‘

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’یہ ثابت شدہ حدیث روافض کے ناک خاک آلودہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف طیبات ہی سے محبت کرتے تھے۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 142۔ آخری جملہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے کہا تھا۔ ’’بے شک آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف پاک چیزوں سے محبت کرتے تھے۔‘‘ (مسند احمد: جلد 1 صفحہ 220۔)

جو نصوص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر دلالت کرتی ہیں وہ بے شمار ہیں ان میں سے کچھ تو ہم تحریر کر چکے ہیں اور کچھ اب احاطہ تحریر میں لائیں گے۔

بے شک صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ علم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ چنانچہ اس بات کے کچھ دلائل کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے:

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

أَنَّ النَّاسَ کَانُوا یَتَحَرَّوْنَ بِہَدَایَاہُمْ یَوْمَ عَائِشَۃَ یَبْتَغُوْنَ بِہَا أَوْ یَبْتَغُوْنَ بِذَلِکَ مَرْضَاۃَ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2581۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2441)

ترجمہ: ’’لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے تحائف دینے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (کی باری) کے دن کا انتظار کرتے۔ وہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی چاہتے تھے۔‘‘

2۔ ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب سن یاس کو پہنچ گئیں تو انھوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہبہ کر دیا۔ اس طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی کی متلاشی تھیں۔

(صحیح بخاری: حديث نمبر: 2593۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1463)

علامہ عینی (محمود بن احمد بن موسیٰ ابو محمد العینی بدر الدین الحنفی رحمہ اللہ۔ اپنے وقت کے حافظ، محدث اور رئیس قضاۃ تھے۔ 762 ہجری میں پیدا ہوئے۔ قاہرہ میں محتسب اعلیٰ رہے اور جیل کے مفتش اور مذہب ابی حنیفہ کے قاضی رہے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’عمدۃ القاری‘‘ شرح صحیح البخاری اور ’’فرائد القلائد‘‘ مشہور ہیں۔ 855 ہجری میں وفات پائی۔ (نظم العقیان للسیوطی: صفحہ 174۔ الاعلام للزرکلی: جلد 7 صفحہ 163) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان کا مقام و مرتبہ دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی باری والا دن انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ دیا۔‘‘

(عمدۃ القاری للعینی: جلد 12 صفحہ 296)

3۔ یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے والد گرامی قدر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین صحابی تھے۔ اس کی دلیل سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث ہے۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

اسی طرح ان کے والد محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین آدمی تھے۔ چنانچہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

کُنَّا نَقُوْلُ وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم حَيٌّ: اَفْضَلُ اُمَّۃ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم بَعْدَہٗ اَبُوْبَکْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ رضی اللّٰه عنہم ۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3655۔)

’’ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں منتخب لوگوں کا تذکرہ کرتے تھے۔ ہم اول الذکر سیدنا ابوبکر کو، ثانی الذکر سیدنا عمر بن خطاب کو اور ثالث الذکر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کو قرار دیتے تھے۔‘‘

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی زندہ تھے، تو ہم کہا کرتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین انسان ابوبکر ہیں پھر عمر پھر عثمان رضی اللہ عنہم ہیں۔‘‘

(سنن ابی داود: حدیث نمبر: 3628۔ ابو داؤد نے اس روایت پر سکوت کیا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داؤد میں اسے صحیح کہا ہے۔)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے اہل سنت کے تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام صحابہ اور تمام انسانوں میں سے افضل ترین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔

(لوامع الانوار البہیۃ للسفارینی: جلد 2 صفحہ 312۔ اصول الدین للغزنوی: صفحہ 287۔ الفرق بین الفرق: صفحہ 359۔ تاریخ الخلفاء للسیوطی: 38)

امام شافعی (محمد بن ادریس بن عباس ابو عبد اللہ الشافعی۔ اپنے زمانے کے عالم، حدیث کے ناصر، امت کے ہیں۔ 150 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اربعہ ائمہ مذاہب فقہ میں سے ایک ہیں۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’الرسالۃ‘‘ اور ’’الام‘‘ مشہور ہیں۔ 204 ہجری میں وفات پائی۔ (مناقب الشافعی للبیہقی: سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 10 صفحہ 5۔) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے متبعین رحمہم اللہ کا اس پر اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین انسان ابوبکر پھر عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ متعدد علمائے امت جیسے کہ امام شافعی، ابو طالب العشاری (،محمد بن علی بن فتح ابو طالب عشاری۔ اپنے وقت کے فقیہ، عالم، زاہد اور سابق الخیرات تھے۔ دس محرم کی رات کی فضیلت میں ایک حدیث وضع کر کے ان کی طرف منسوب کر دی گئی۔ 451 ہجری میں وفات پائی۔ (بحوالہ میزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ 656۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 18 صفحہ 48۔)  نووی، ابن تیمیہ (احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام ابو العباس الحرانی الحنبلی رحمہ اللہ۔ 661 ہجری میں پیدا ہوئے۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’الصارم المسلول‘‘ اور ’’منہاج السنۃ النبویۃ‘‘ ہیں۔ 728 ہجری میں وفات پائی۔ (شذرات الذہب لابن العماد: جلد 6 صفحہ 79۔ الکواکب الدریۃ فی مناقب ابن تیمیۃ لمرعی الکرمی۔) رحمہ اللہ، امام بیہقی ( احمد بن حسین بن علی ابوبکر البیہقی: حافظ، فقیہ، امام وقت، شیخ خراسان 383 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے زمانے کے فنون کے ماہر تھے۔ بے نظیر کتب تصنیف کیں جن میں سے ’’السنن الکبرٰی‘‘ اور ’’شعب الایمان‘‘ مشہور ہیں۔ 458 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 35 صفحہ 145۔ وفیات الاعیان لابن خلکان، جلد 1 صفحہ 75)رحمہ اللہ اور حافظ ابن حجر رحمہم اللہ نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 17)

4:  یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر آپ کسی وادی میں پڑاؤ کریں جس میں درخت ہوں اور ان میں سے کچھ کھا لیے گئے ہوں اور ان میں ایک درخت ایسا ہو جس میں سے ابھی کچھ نہ کھایا گیا ہو تو آپ کون سے درخت پر اپنا اونٹ چرائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس درخت پر جس میں سے کچھ نہ چرا گیا ہو۔‘‘ اس سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی۔‘‘

(مذکورہ بالا تمام احادیث کے حوالہ جات درج ذیل ہیں: فضائل ابی بکر صدیق: صفحہ 36۔ شرح مسلم للنووی: جلد 15 صفحہ 148، منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ رحمہ اللہ: جلد 8 صفحہ 225، الاعتقاد للبیہقی: صفحہ 369۔ فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 17۔ صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5077)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک طویل حدیث مروی ہے۔ جس میں وہ فرماتی ہیں :

اُعْطِیْتُ تِسْعًا مَا اُعْطِیَتْہَا امْرَاَۃٌ اِلَّا مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَ فِیْہِ وَ لَقَدْ تَزَوَّجَنِیْ بِکْرًا وَ مَا تَزَوَّجَ بِکْرًا غَیْرِیْ

(اس کی تخریج گزر ہو چکی ہے۔)

’’مجھے نو(9) ایسے انعامات ملے جو مریم بنت عمران رحمہ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں ملے۔ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مجھ سے کنوار پن کی حالت میں شادی کی میرے علاوہ کسی اور کنواری سے آپﷺ نے شادی نہیں کی۔‘‘

ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں:

’’مجھ میں سات(7) خصوصیات ایسی ہیں جو میرے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی میں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو میں کنواری تھی اور میرے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی۔‘‘

(مسند ابی حنیفۃ: صفحہ 116۔ الآثار لابی یوسف: صفحہ 932)

علامہ عبدالعزیز لمطی (عبدالعزیز بن عبدالعزیز اللمطی المکناسی المیمونی المالکی فقیہ اور نحو کے عالم تھے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’قرۃ الابصار فی سیرۃ المشفع المختار‘‘ ہے۔ 880 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 4 صفحہ 21۔ معجم المؤلفین لکحالۃ: جلد 5 صفحہ 250) رحمہ اللہ نے (قرۃ الابصار) میں یہ اشعار کہے:

وَ لَمْ یَکُنْ تَزَوَّجَ الْمُخْتَارُ

بِکْرًا سِوَاہَا فَلَہَا الْفَخَارُ

وَ کَمْ حَوَتْ فِیْ مُدَّۃٍ یَسِیْرَۃٍ

مِنَ الْعُلُوْمِ الْجَمَّۃِ الْعَزِیْزَۃِ

’’نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی ان کے لیے یہ بڑے ہی فخر کی بات ہے۔

اور مختصر مدت میں انھوں نے پختہ اور وافر علوم حاصل کر لیے۔‘‘

5۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پوری امت مسلمہ کے لیے خیر و برکت کا باعث بن گئیں۔ ان کی وجہ سے آیت تیمم نازل ہوئی جو اہل ایمان کے لیے تاقیامت رحمت اور رخصت بن کر نازل ہوئی۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

’’آپ رضی اللہ عنہا نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار مستعار لیا وہ گم ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تلاش کے لیے مامور کیا تو ان کی نماز کا وقت ہو گیا۔ انھوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپﷺ سے اس کی شکایت کی۔ تب آیت تیمم نازل ہوئی۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے تب کہا۔ اے عائشہ! اللہ تعالیٰ آپ کو اچھا بدلہ دے۔ اللہ کی قسم! جب بھی آپؓ کے اوپر کوئی مشکل نازل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہؓ کو اس مشکل سے نجات دیتا ہے اور اس میں سب مسلمانوں کے لیے برکت نازل ہو جاتی ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3773۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر:367۔)

6: یہ کہ جبریل آپ رضی اللہ عنہا کی تصویر ریشمی کپڑے میں رکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا کہ اللہ کی طرف سے ان کی شادی آپﷺ کے ساتھ ہو گی۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’میں نے تمھیں خواب میں دیکھا، فرشتہ تیری تصویر ایک ریشمی ٹکڑے میں لپیٹ کر لایا۔ اس نے مجھے کہا: یہ آپ کی بیوی ہے۔ جب میں نے تمہارے چہرے سے نقاب الٹا تو تم وہی

تھی۔ تو میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے جاری رکھے گا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5125۔ علامہ زرکشی نے فتوح الفتوح میں ابن الجوزی سے روایت نقل کی ہے کہ: ’’سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے فخریہ کہا: تم میں سے ہر ایک کی شادی اس کے باپ نے کرائی جبکہ میری شادی میرے رب نے کرائی۔ ان کا اشارہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف تھا فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا (سورة الاحزاب آیت 37) ’’پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا۔‘‘ اور میں توبہ کرتی ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے زینب! تم نے سچ کہا۔ لیکن اس خصوصیت میں عائشہ بھی تیری شریک ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کے ہمراہ اس کی تصویر ریشمی کپڑے میں میرے طرف بھیجی تو اس نے میرے سامنے اسے کھولا اور کہا یہ آپ کی بیوی ہے یہ شادی لوح محفوظ میں محفوظ ہے۔ اگرچہ اس پر عمل اس وقت ہوا جب عقد نکاح منعقد ہوا۔ تاہم عائشہ رضی اللہ عنہا کا چناؤ اپنے رسول کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا اور اے زینب تیرا انتخاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے خود کیا۔‘‘ (الاجابۃ للزرکشی: صفحہ 70)

ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’سیدنا جبریل علیہ السلام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی تصویر ایک سبز ریشمی کپڑے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا دنیا و آخرت میں یہ آپﷺ کی بیوی ہے۔‘‘

(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 3880۔ مسند بزار: جلد 18 صفحہ 220، حدیث نمبر: 226۔ صحیح ابن حبان: جلد 16 صفحہ 6 حدیث نمبر: 7094۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن، غریب ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ترمذی میں صحیح کہا ہے۔ حدیث نمبر: 3880)

7۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کو اپنی مرض الموت میں عیادت کے لیے آنے والوں کے لیے منتخب کیا اور آپﷺ کی وفات انہی کے گھر میں ان کے دن میں ان کے سینے اور حلقوم کے درمیان ہوئی اور آخری لمحات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن ان کے لعاب دہن کے ساتھ اکٹھا ہوا اور انہی کا گھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدفن بنا، وغیرہ سب کچھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے باعث فخر و مباہات ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم کَانَ یَسْأَلُ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ یَقُولُ أَیْنَ أَنَا غَدًا أَیْنَ أَنَا غَدًا یُرِیدُ یَوْمَ عَائِشَۃَ فَأَذِنَ لَہُ أَزْوَاجُہُ یَکُونُ حَیْثُ شَائَ فَکَانَ فِی بَیْتِ عَائِشَۃَ حَتَّی مَاتَ عِنْدَہَا۔

ترجمہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض الموت میں پوچھتے رہتے تھے میں کل کہاں ہوں گا؟ میں کل کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری چاہتے تھے۔ چنانچہ آپﷺ کی بیویوں نے آپﷺ کو اجازت دے دی کہ جہاں آپﷺ چاہیں رہیں تو آپﷺ اس دن سے اپنی وفات تک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہے۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

قَالَتْ عَائِشَۃُ فَمَاتَ فِی الْیَوْمِ الَّذِی کَانَ یَدُوْرُ عَلَیَّ فِیْہِ فِیْ بَیْتِی فَقَبَضَہُ اللّٰہُ وَإِنَّ رَأْسَہُ لَبَیْنَ نَحْرِیْ وَسَحْرِیْ وَخَالَطَ رِیقُہُ رِیقِی۔

ترجمہ: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میری باری والے دن میں ہوئی، میرے گھر میں ہوئی، جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کی تو آپ کا سر مبارک میرے سینے اور میرے حلقوم کے درمیان تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک میرے لعاب سے مل گیا۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مزید فرماتی ہیں:

دَخَلَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَمَعَہُ سِوَاکٌ یَسْتَنُّ بِہِ فَنَظَرَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم فَقُلْتُ لَہُ أَعْطِنِی ہَذَا السِّوَاکَ یَا عَبْدَالرَّحْمَنِ فَأَعْطَانِیہِ فَقَضِمْتُہُ ثُمَّ مَضَغْتُہُ فَأَعْطَیْتُہُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنَّ بِہِ وَہُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَی صَدْرِیْ۔

(تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔)

’’میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما میرے گھر میں آئے تو ان کے پاس مسواک تھی جو وہ کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف دیکھنے لگے۔ میں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ مسواک تم مجھے دے دو تو انھوں نے مجھے دے دی۔ میں نے اسے اپنے دانتوں سے چبا کر نرم کیا۔ تب میں نے وہ مسواک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپﷺ نے مسواک کی۔ اس حال میں کہ آپﷺ میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہماری امی جان، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سلوک نہایت شائستہ، جذبہ خدمت سے سرشار اور فدویانہ و محبوبانہ تھا۔ حتیٰ کہ جب مرض نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر پر غالب آ گیا اور آپ کی روانگی کے اشارے ملنے لگے تو آپﷺ کی توجہ اس سایے کی طرف مبذول ہو گئی جس سے آپﷺ مانوس تھے اور آپﷺ اس کے پاس راحت حاصل کرتے تھے وہ سایہ ہماری امی جان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے رہتے: ’’میں کل کہاں جاؤں گا۔ میں کل کہاں جاؤں گا؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے انتظار میں ہوتے اور جب ان کی باری والا دن آتا تو آپ پرسکون ہو جاتے اور آپﷺ کا قلبی خلجان ختم ہو جاتا۔ یّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

’’پس جب میرا دن آتا تو آپ پر سکون ہو جاتے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 1389۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2443)

ہم نے یہ بات بارہا تحریر کر دی ہے کہ تمام امہات المؤمنین تقویٰ، زہد، عالی مرتبت، شرافت نفس اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطور خاوند حسن سلوک میں ایک ہی منہج پر گامزن تھیں۔ اس سب کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے اس سوال کا بارہا تکرار کہ میں کل کہاں جاؤں گا؟ ہماری امی جان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دن کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والہانہ شوق کو ظاہر کرتا ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں دیگر امہات المؤمنین کی نسبت کچھ منفرد خصوصیات تھیں اور جنت میں بھی مختلف و متعدد درجات و منازل ہیں اگرچہ سب پر جنت کا ہی اطلاق ہوتا ہے اور انہی ایام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز کی امامت کے لیے حکم دیا۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 664۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 418)

یہ اس مبارک گھر پر فضل عظیم ہے۔ 

اس کے بارے میں ایک فقیہ امت، عالم ربانی ابو الوفاء بن عقیل (علی بن عقیل بن محمد ابو الوفاء بغدادی علامہ کبیر شیخ الحنابلہ ہیں۔ 431 ہجری میں پیدا ہوئے۔ قاری قرآن، فقہ و اصول فقہ کے ماہر اور اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’کتاب الفنون‘‘ جو چار سو سے زائد مجلدات پر مشتمل تھی اور ’’الفصول‘‘ مشہور ہیں۔ 513 ہجری میں وفات پائی۔ (طبقات الحنابلۃ لابن رجب: جلد 1 صفحہ 316۔) سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 19 صفحہ 443۔) درء تعارض العقل مع النقل: جلد 8 صفحہ 60 پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ ابن عقیل ذہین و فطین علماء میں سے ایک تھے۔ نے پوری امت مسلمہ کو خصوصی توجہ دلائی ہے، ابو الوفاء رقمطراز ہیں:

’’آپ غور کریں کس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں اس کی بیٹی کا گھر منتخب کیا جس کے باپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ نماز کی امامت کا حکم دیا۔ تو یہ دلوں پر جمی ہوئی کیسی غفلت ہے کہ رافضہ کے دل اس فضل و شرف و مرتبے سے ہر زمانے میں غافل رہتے ہیں جو کسی چوپائے سے بھی مخفی نہیں رہ سکتے تو ان زبان درازوں سے کیوں مخفی ہو گئے ہیں۔‘‘

(الاجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ رضی اللہ عنہا علی الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم للزرکشی: صفحہ 54)

8۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ جب کسی اور بیوی کے لحاف میں ہوتے تو آپﷺ پر وحی نازل نہ ہوتی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا تُؤْذِینِی فِیْ عَائِشَۃَ فَإِنَّہُ وَاللّٰہِ مَا نَزَلَ عَلَیَّ الْوَحْیُ وَأَنَا فِی لِحَافِ امْرَأَۃٍ مِنْکُنَّ غَیْرِہَا۔

ترجمہ: ’’تم مجھے عائشہ کے متعلق اذیت نہ دو، بے شک اللہ کی قسم! تم میں سے میں جس کسی کے لحاف میں ہوتا ہوں مجھ پر وحی نہیں آتی سوائے عائشہ رضی اللہ عنہا کے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 3775۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2441)

اور ایک روایت میں ہے:

فَإِنَّ الْوَحْیَ لَمْ یَأْتِنِی وَأَنَا فِی ثَوْبِ امْرَأَۃٍ إِلَّا عَائِشَۃَ۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 2581۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2441)۔ 

ترجمہ: ’’بے شک مجھ پر وحی نہیں آتی جب میں کسی بیوی کے کپڑے میں ہوتا ہوں سوائے عائشہ کے۔‘‘

9۔ یہ کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سلام بھیجا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَا عَائِشَ! (اسے عربی قاعدے میں منادیٰ مرخم کہتے ہیں کہ حرف ندا شروع میں آنے کی وجہ سے اسم کا آخری حرف گر جاتا ہے جسے ترخیم بمعنی تنقیص کہتے ہیں۔ شین پر فتحہ اور ضمہ دونوں جائز ہیں۔ (فتح الباری لابن حجر رحمہ اللہ: جلد 7 صفحہ 107) ہَذَا جِبْرِیلُ یُقْرِئُکِ السَّلَامَ فَقُلْتُ وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ تَرَی مَا لَا أَرَی تُرِیْدُ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3768۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2447)

ترجمہ: ’’اے عائش! یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو تمھیں سلام کہتے ہیں۔‘‘ تو میں نے کہا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی، رحمت اور برکت ہو، آپ جو کچھ دیکھتے ہیں میں نہیں دیکھتی۔ ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔‘‘

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عظیم منقبت ثابت ہوتی ہے۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر رحمہ اللہ: جلد 7 صفحہ 108۔ مولانا ابو الحسن سندی نے کہا: اس حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خصوصی محبت کا سبب اس کے اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم قدر و منزلت تھی۔ (حاشیہ السسندی علی النسائی: جلد 72 صفحہ 68۔)

امام نووی فرماتے ہیں:

’’اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی واضح فضیلت موجود ہے۔‘‘

(شرح مسلم للنووی: جلد 15 صفحہ 211)

10۔ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب آیت تخییر نازل ہوئی:

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞ وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 28، 29)

ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حکم سنایا اور آپﷺ نے ان کے والدین کی موافقت کی بھی اسے مہلت دی، تو سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والدین سے مشورہ کرنے سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کر لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا مجھ سے کی اور فرمایا: ’’میں تمیں ایک کام بتانا چاہتا ہوں تو تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنے والدین سے مشورہ کرنے تک جواب کی جلدی نہ کرو۔ وہ فرماتی ہیں: آپ کو یقیناً علم تھا کہ میرے والدین کبھی مجھے آپ کی جدائی کا مشورہ نہ دیں گے۔ آپﷺ نے پھر فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ .... عَظِیْمًا۞  (سورة الاحزاب آیت 28، 29) ’’اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ پس بے شک میں اللہ، اس کا رسول اور دار آخرت چاہتی ہوں۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری بیویوں نے وہی کچھ کیا جو میں نے کیا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4786۔ صحیح مسلم' حدیث نمبر 1475۔ نیز اس کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔ شذی الیاسمین فی فضائل امہات المومنین: صفحہ 31۔ حبیبۃ الحبیب ام المومنین عائشۃ لصالح بن محمد العطار: صفحہ 19)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے عظیم منقبت ہے اور ان کی کمال عقل اور صحت رائے کی دلیل ہے حالانکہ وہ ابھی نو عمر تھیں۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 522)

11۔ دیگر امہات المؤمنینؓ کی نسبت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے دو دن اور دو راتیں مخصوص تھیں۔ یہ اس وقت سے تھا جب سے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنا دن اور رات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’سودہ بنت زمعہ نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے اس کا اپنا دن اور سودہ کا دن بھی تقسیم میں دیتے تھے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5212۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 1463۔) 

12۔ وہ اس امت کی تمام عورتوں سے بڑی عالمہ و فقیہہ تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی کثرت سے احادیث کسی اور عورت نے روایت نہیں کیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تا حیات فتاویٰ دیتی رہیں۔ اللہ ان پر رحم کرے اور سیدنا عمر و عثمان رضی اللہ عنہما جیسے کبار صحابہ کرامؓ ان کی طرف قاصد بھیج کر مسائل معلوم کرتے تھے۔ ایک روایت میں ہے:

’’اگر اس امت کی تمام عورتوں بشمول ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم جمع کیا جائے تو پھر بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم افضل ہو گا۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

محمود بن لبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات بیشتر احادیث یاد کرتی تھیں لیکن ان میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما جیسی کوئی نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کے عہد سے لے کر تاحیات تعلیم دیتی رہیں اور عمر و عثمان رضی اللہ عنہما جیسے اکابر اصحاب رسولﷺ ان کے پاس اپنے سوالات بھیجتے تھے جو سنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہوتے تھے۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

13۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت کی دعا کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشگوار حالت میں دیکھا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی: ’’اے اللہ! تو عائشہ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دے۔ اور جو اس نے چھپ کر کیے اور جو اس نے اعلانیہ کیے۔‘‘ (یہ دعائیہ کلمات سن کر) عائشہ رضی اللہ عنہا اتنا ہنسیں کہ ان کا سر آپ رضی اللہ عنہا کی گود میں آ لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’کیا میری دعا نے تجھے خوش کر دیا؟‘‘ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: مجھے کیا ہے کہ آپ کی دعا مجھے خوش نہ کرے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! بے شک ہر نماز میں میں اپنی ساری امت کے لیے یہی دعا کرتا ہوں۔

(مسند البزار: مجمع الزوائد للہیثمی: جلد 9 صفحہ 246۔ صحیح ابن حبان: جلد 16 صفحہ 47، حدیث نمبر 7111۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا۔ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 5 صفحہ 324)

14۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں گواہی دی کہ آپ کو ان کے بارے میں صرف بھلائی کا علم ہے اور ان کے لیے یہی گواہی کافی ہے۔ واقعہ افک کے ضمن میں درج ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا:

وَاللّٰہِ مَا عَلِمْتُ عَلَی أَہْلِی إِلَّا خَیْرًا۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 2661۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2770) 

ترجمہ: ’’اللہ کی قسم! مجھے اپنی بیوی میں بھلائی کے علاوہ کچھ معلوم نہیں۔‘‘

اور ایک روایت میں ہے: یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کیا : پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا:

مَا تُشِیْرُوْنَ عَلَیَّ فِیْ قَوْمٍ یَسُبُّوْنَ أَہْلِیْ مَا عَلِمْتُ عَلَیْہِمْ مِنْ سُوئٍ قَطُّ۔

(صحیح بخاری: 7370۔ صحیح مسلم: 2770)

ترجمہ: ’’(اے لوگو!) تم مجھے ان لوگوں کے بارے میں کیا مشورہ دو گے جو میری بیوی کو گالیاں دیتے ہیں؟ مجھے اپنے گھر والوں کے بارے میں ذرہ بھر برائی کا علم نہیں۔‘‘

15۔ امت کے ہر فرد پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت واجب ہے۔ صحیحین میں مروی ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:

اَلَسْتِ تُحِبِّیْنَ مَا اُحِبُّ؟

ترجمہ: ’’کیا تم اس سے محبت نہیں کرو گی جس سے میں محبت کرتا ہوں ؟ ‘‘

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فَاَحِبِّیْ ہٰذِہٖ

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2581۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2442)

ترجمہ: ’’پس تم اس (عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے ساتھ محبت کرو۔‘‘

16۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر بیویوں کے حجروں کی نسبت مسجد کے زیادہ قریب تھا۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے اصحابؓ نے ٹیلے کی جگہ اپنے ہاتھوں سے مسجد بنائی جس میں اینٹیں اور کھجور کی شاخیں استعمال کیں۔ پھر آپﷺ نے مسجد کے ایک طرف اپنا اور اپنی بیویوں کے گھر تعمیر کیے اور ان میں سے مسجد کے سب سے زیادہ قریب گھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تھا۔‘‘

(زاد المعاد لابن القیم: جلد 1 صفحہ 102)

چونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر مسجد کے بالکل قریب تھا اس لیے جب آپﷺ اپنے معتکف میں ہوتے تو وہ آپﷺ کے بالوں میں کنگھی کرتیں۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

17۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی اور ایسی عورت سے شادی نہ کی جس کے ماں باپ دونوں مہاجر ہوں۔

(الاجابۃ للزرکشی: صفحہ 59)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سارا خاندان، ان کا باپ، والدہ اور دادا جان ابو قحافہ رضی اللہ عنہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے تھے۔ نیز آپ کی دادی ام الخیر سلمیٰ بنت صخر اور ان کے بیشتر بھائی بھی اصحابؓ میں سے تھے۔

(ام المومنین عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا لمحمد الحاوری: صفحہ 159)