دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل - دفاعِ…

دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 7

بلاشک و شبہ اس ذات طاہرہ و مطہرہ کی برأت کے لیے قرآن کریم کا نزول ان کے فضل و شرف اور عفت و طہارت کی سب سے بڑی اور محکم دلیل ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی آخر الزمان سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس کے ذریعے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کر دیتا، تو یہ بھی کافی ہوتا لیکن اللہ عزوجل نے چاہا کہ اس عفیفہ کی برأت کے لیے قرآن کریم نازل کیا جائے جو قیامت تک پڑھا جاتا رہے، اللہ تعالیٰ نے خود گواہی دی کہ وہ عفیفہ، طیبہ و طاہرہ ہیں اور اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مغفرت اور رزق کریمانہ کا وعدہ کر لیا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے انہی مخصوص فضائل کے ضمن میں یہ آیت کریمہ بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَلَنۡ تَسۡتَطِيۡعُوۡۤا اَنۡ تَعۡدِلُوۡا بَيۡنَ النِّسَآءِ وَلَوۡ حَرَصۡتُمۡ‌۞ (سورۃ النساء آیت 129)

ترجمہ: اور عورتوں کے درمیان مکمل برابری رکھتا تو تمہارے بس میں نہیں، چاہے تم ایسا چاہتے بھی ہو۔ 

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں:

’’یہ آیت بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہوئی۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیگر ازواج کی نسبت ان سے زیادہ محبت کرتے تھے۔‘‘

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 4 صفحہ 223۔ تفسیر ابن جریر: جلد 7 صفحہ 570۔ تفسیر ابن کثیر: جلد 2 صفحہ 430)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سبب سے قرآن کریم میں آیت تیمم نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا (سورة المائدۃ آیت 6)

ترجمہ: ’’پھر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو۔‘‘

(صحیح البخاری: حدیث نمبر: 3672۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 842۔ تفصیلی قصہ صحیح بخاری میں موجود ہے اور جو چند صفحات بعد مختصراً درج ہے۔ 

اس آیت کی تفسیر میں مقاتل کہتے ہیں:

’’آیت تیمم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں نازل ہوئی۔‘‘

(تفسیر مقاتل بن سلیمان: جلد 1 صفحہ 375۔ مجموع الفتاوٰی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ: جلد 6 صفحہ 389)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’العجاب فی بیان الاسباب، جلد 2 صفحہ 881‘‘ میں مقاتل کا قول نقل کیا کہ آیت تیمم کا سبب نزول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ ہے اس میں ان کی فضیلت اور برکت کی دلیل ہے۔

اسی لیے سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے آل ابی بکر یہ تمہاری پہلی برکت تو نہیں۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 1 صفحہ 343۔ صحیح البخاری: حدیث نمبر: 334۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 367۔)

ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں:

’’بے شک وہ باعث برکت تھیں۔‘‘

(تفسیر ابن جریر: جلد 7 صفحہ 79)

ایسے ہی اقوال ابن عباس اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم سے منقول ہیں۔

(سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 565۔ فضائل الصحابۃ للامام احمد: جلد 2 صفحہ 874)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جو خصوصی فضائل و مناقب ہیں وہ بے شمار ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمام عورتوں سے افضل ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

فَضْلُ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِیْدِ (گوشت کے شوربہ میں روٹی کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ (جمہرۃ اللغۃ لابن درید: جلد 1 صفحہ 419۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 209۔ لسان العرب لابن منظور: جلد 3 صفحہ 102) عَلَی سَائِرِ الطَّعَامِ

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3370۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2446۔)

ترجمہ: ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید کی تمام کھانوں پر فضیلت ہے۔‘‘

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ کَثِیرٌ وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَائِ إِلَّا آسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ وَمَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلَی سَائِرِ الطَّعَامِ۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3411۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2431)

ترجمہ:’’مرد تو بے شمار کامل ہوئے لیکن عورتوں میں سے صرف فرعون کی بیوی آسیہ، عمران کی بیٹی مریم علیہا السلام کامل ہیں اور بے شک عائشہ کو تمام عورتوں پر اس طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔‘‘

2۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں سے زیادہ عائشہ رضی اللہ عنہا محبوب ہیں اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں اس کی واضح دلیل موجود ہے، جب انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپﷺ کو سب سے زیادہ کس کے ساتھ محبت ہے؟ تو آپ نے فرمایا:

عَائِشَۃ، قَالَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: اَبُوْہَا

(اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔)

ترجمہ: ’’عائشہ کے ساتھ۔‘‘ انھوں نے عرض کیا: مردوں میں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کے باپ کے ساتھ۔‘‘

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’یہ ثابت شدہ حدیث روافض کے ناک خاک آلودہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف طیبات ہی سے محبت کرتے تھے۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 142۔ آخری جملہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے کہا تھا۔ ’’بے شک آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف پاک چیزوں سے محبت کرتے تھے۔‘‘ (مسند احمد: جلد 1 صفحہ 220۔)

جو نصوص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر دلالت کرتی ہیں وہ بے شمار ہیں ان میں سے کچھ تو ہم تحریر کر چکے ہیں اور کچھ اب احاطہ تحریر میں لائیں گے۔

بے شک صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ علم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ چنانچہ اس بات کے کچھ دلائل کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے:

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

أَنَّ النَّاسَ کَانُوا یَتَحَرَّوْنَ بِہَدَایَاہُمْ یَوْمَ عَائِشَۃَ یَبْتَغُوْنَ بِہَا أَوْ یَبْتَغُوْنَ بِذَلِکَ مَرْضَاۃَ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ۔

صفحہ 2 از 7