دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل - دفاعِ…

دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 7

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2581۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2441)

ترجمہ: ’’لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے تحائف دینے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (کی باری) کے دن کا انتظار کرتے۔ وہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی چاہتے تھے۔‘‘

2۔ ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب سن یاس کو پہنچ گئیں تو انھوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہبہ کر دیا۔ اس طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی کی متلاشی تھیں۔

(صحیح بخاری: حديث نمبر: 2593۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1463)

علامہ عینی (محمود بن احمد بن موسیٰ ابو محمد العینی بدر الدین الحنفی رحمہ اللہ۔ اپنے وقت کے حافظ، محدث اور رئیس قضاۃ تھے۔ 762 ہجری میں پیدا ہوئے۔ قاہرہ میں محتسب اعلیٰ رہے اور جیل کے مفتش اور مذہب ابی حنیفہ کے قاضی رہے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’عمدۃ القاری‘‘ شرح صحیح البخاری اور ’’فرائد القلائد‘‘ مشہور ہیں۔ 855 ہجری میں وفات پائی۔ (نظم العقیان للسیوطی: صفحہ 174۔ الاعلام للزرکلی: جلد 7 صفحہ 163) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان کا مقام و مرتبہ دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی باری والا دن انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ دیا۔‘‘

(عمدۃ القاری للعینی: جلد 12 صفحہ 296)

3۔ یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے والد گرامی قدر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین صحابی تھے۔ اس کی دلیل سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث ہے۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

اسی طرح ان کے والد محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین آدمی تھے۔ چنانچہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

کُنَّا نَقُوْلُ وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم حَيٌّ: اَفْضَلُ اُمَّۃ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم بَعْدَہٗ اَبُوْبَکْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ رضی اللّٰه عنہم ۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3655۔)

’’ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں منتخب لوگوں کا تذکرہ کرتے تھے۔ ہم اول الذکر سیدنا ابوبکر کو، ثانی الذکر سیدنا عمر بن خطاب کو اور ثالث الذکر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کو قرار دیتے تھے۔‘‘

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی زندہ تھے، تو ہم کہا کرتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین انسان ابوبکر ہیں پھر عمر پھر عثمان رضی اللہ عنہم ہیں۔‘‘

(سنن ابی داود: حدیث نمبر: 3628۔ ابو داؤد نے اس روایت پر سکوت کیا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داؤد میں اسے صحیح کہا ہے۔)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے اہل سنت کے تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام صحابہ اور تمام انسانوں میں سے افضل ترین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔

(لوامع الانوار البہیۃ للسفارینی: جلد 2 صفحہ 312۔ اصول الدین للغزنوی: صفحہ 287۔ الفرق بین الفرق: صفحہ 359۔ تاریخ الخلفاء للسیوطی: 38)

امام شافعی (محمد بن ادریس بن عباس ابو عبد اللہ الشافعی۔ اپنے زمانے کے عالم، حدیث کے ناصر، امت کے ہیں۔ 150 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اربعہ ائمہ مذاہب فقہ میں سے ایک ہیں۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’الرسالۃ‘‘ اور ’’الام‘‘ مشہور ہیں۔ 204 ہجری میں وفات پائی۔ (مناقب الشافعی للبیہقی: سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 10 صفحہ 5۔) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے متبعین رحمہم اللہ کا اس پر اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین انسان ابوبکر پھر عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ متعدد علمائے امت جیسے کہ امام شافعی، ابو طالب العشاری (،محمد بن علی بن فتح ابو طالب عشاری۔ اپنے وقت کے فقیہ، عالم، زاہد اور سابق الخیرات تھے۔ دس محرم کی رات کی فضیلت میں ایک حدیث وضع کر کے ان کی طرف منسوب کر دی گئی۔ 451 ہجری میں وفات پائی۔ (بحوالہ میزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ 656۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 18 صفحہ 48۔)  نووی، ابن تیمیہ (احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام ابو العباس الحرانی الحنبلی رحمہ اللہ۔ 661 ہجری میں پیدا ہوئے۔ ان کی مشہور تصنیفات ’’الصارم المسلول‘‘ اور ’’منہاج السنۃ النبویۃ‘‘ ہیں۔ 728 ہجری میں وفات پائی۔ (شذرات الذہب لابن العماد: جلد 6 صفحہ 79۔ الکواکب الدریۃ فی مناقب ابن تیمیۃ لمرعی الکرمی۔) رحمہ اللہ، امام بیہقی ( احمد بن حسین بن علی ابوبکر البیہقی: حافظ، فقیہ، امام وقت، شیخ خراسان 383 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے زمانے کے فنون کے ماہر تھے۔ بے نظیر کتب تصنیف کیں جن میں سے ’’السنن الکبرٰی‘‘ اور ’’شعب الایمان‘‘ مشہور ہیں۔ 458 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 35 صفحہ 145۔ وفیات الاعیان لابن خلکان، جلد 1 صفحہ 75)رحمہ اللہ اور حافظ ابن حجر رحمہم اللہ نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 17)

4:  یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر آپ کسی وادی میں پڑاؤ کریں جس میں درخت ہوں اور ان میں سے کچھ کھا لیے گئے ہوں اور ان میں ایک درخت ایسا ہو جس میں سے ابھی کچھ نہ کھایا گیا ہو تو آپ کون سے درخت پر اپنا اونٹ چرائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس درخت پر جس میں سے کچھ نہ چرا گیا ہو۔‘‘ اس سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی۔‘‘

صفحہ 3 از 7