دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل - دفاعِ…

دوسرا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خصوصی فضائل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 7

(مذکورہ بالا تمام احادیث کے حوالہ جات درج ذیل ہیں: فضائل ابی بکر صدیق: صفحہ 36۔ شرح مسلم للنووی: جلد 15 صفحہ 148، منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ رحمہ اللہ: جلد 8 صفحہ 225، الاعتقاد للبیہقی: صفحہ 369۔ فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 17۔ صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5077)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک طویل حدیث مروی ہے۔ جس میں وہ فرماتی ہیں :

اُعْطِیْتُ تِسْعًا مَا اُعْطِیَتْہَا امْرَاَۃٌ اِلَّا مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَ فِیْہِ وَ لَقَدْ تَزَوَّجَنِیْ بِکْرًا وَ مَا تَزَوَّجَ بِکْرًا غَیْرِیْ

(اس کی تخریج گزر ہو چکی ہے۔)

’’مجھے نو(9) ایسے انعامات ملے جو مریم بنت عمران رحمہ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں ملے۔ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مجھ سے کنوار پن کی حالت میں شادی کی میرے علاوہ کسی اور کنواری سے آپﷺ نے شادی نہیں کی۔‘‘

ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں:

’’مجھ میں سات(7) خصوصیات ایسی ہیں جو میرے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی میں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو میں کنواری تھی اور میرے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی۔‘‘

(مسند ابی حنیفۃ: صفحہ 116۔ الآثار لابی یوسف: صفحہ 932)

علامہ عبدالعزیز لمطی (عبدالعزیز بن عبدالعزیز اللمطی المکناسی المیمونی المالکی فقیہ اور نحو کے عالم تھے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’قرۃ الابصار فی سیرۃ المشفع المختار‘‘ ہے۔ 880 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 4 صفحہ 21۔ معجم المؤلفین لکحالۃ: جلد 5 صفحہ 250) رحمہ اللہ نے (قرۃ الابصار) میں یہ اشعار کہے:

وَ لَمْ یَکُنْ تَزَوَّجَ الْمُخْتَارُ

بِکْرًا سِوَاہَا فَلَہَا الْفَخَارُ

وَ کَمْ حَوَتْ فِیْ مُدَّۃٍ یَسِیْرَۃٍ

مِنَ الْعُلُوْمِ الْجَمَّۃِ الْعَزِیْزَۃِ

’’نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی ان کے لیے یہ بڑے ہی فخر کی بات ہے۔

اور مختصر مدت میں انھوں نے پختہ اور وافر علوم حاصل کر لیے۔‘‘

5۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پوری امت مسلمہ کے لیے خیر و برکت کا باعث بن گئیں۔ ان کی وجہ سے آیت تیمم نازل ہوئی جو اہل ایمان کے لیے تاقیامت رحمت اور رخصت بن کر نازل ہوئی۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

’’آپ رضی اللہ عنہا نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار مستعار لیا وہ گم ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تلاش کے لیے مامور کیا تو ان کی نماز کا وقت ہو گیا۔ انھوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپﷺ سے اس کی شکایت کی۔ تب آیت تیمم نازل ہوئی۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے تب کہا۔ اے عائشہ! اللہ تعالیٰ آپ کو اچھا بدلہ دے۔ اللہ کی قسم! جب بھی آپؓ کے اوپر کوئی مشکل نازل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہؓ کو اس مشکل سے نجات دیتا ہے اور اس میں سب مسلمانوں کے لیے برکت نازل ہو جاتی ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3773۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر:367۔)

6: یہ کہ جبریل آپ رضی اللہ عنہا کی تصویر ریشمی کپڑے میں رکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا کہ اللہ کی طرف سے ان کی شادی آپﷺ کے ساتھ ہو گی۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’میں نے تمھیں خواب میں دیکھا، فرشتہ تیری تصویر ایک ریشمی ٹکڑے میں لپیٹ کر لایا۔ اس نے مجھے کہا: یہ آپ کی بیوی ہے۔ جب میں نے تمہارے چہرے سے نقاب الٹا تو تم وہی

تھی۔ تو میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے جاری رکھے گا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5125۔ علامہ زرکشی نے فتوح الفتوح میں ابن الجوزی سے روایت نقل کی ہے کہ: ’’سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے فخریہ کہا: تم میں سے ہر ایک کی شادی اس کے باپ نے کرائی جبکہ میری شادی میرے رب نے کرائی۔ ان کا اشارہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف تھا فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا (سورة الاحزاب آیت 37) ’’پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا۔‘‘ اور میں توبہ کرتی ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے زینب! تم نے سچ کہا۔ لیکن اس خصوصیت میں عائشہ بھی تیری شریک ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کے ہمراہ اس کی تصویر ریشمی کپڑے میں میرے طرف بھیجی تو اس نے میرے سامنے اسے کھولا اور کہا یہ آپ کی بیوی ہے یہ شادی لوح محفوظ میں محفوظ ہے۔ اگرچہ اس پر عمل اس وقت ہوا جب عقد نکاح منعقد ہوا۔ تاہم عائشہ رضی اللہ عنہا کا چناؤ اپنے رسول کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا اور اے زینب تیرا انتخاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے خود کیا۔‘‘ (الاجابۃ للزرکشی: صفحہ 70)

ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’سیدنا جبریل علیہ السلام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی تصویر ایک سبز ریشمی کپڑے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا دنیا و آخرت میں یہ آپﷺ کی بیوی ہے۔‘‘

(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 3880۔ مسند بزار: جلد 18 صفحہ 220، حدیث نمبر: 226۔ صحیح ابن حبان: جلد 16 صفحہ 6 حدیث نمبر: 7094۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن، غریب ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ترمذی میں صحیح کہا ہے۔ حدیث نمبر: 3880)

7۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کو اپنی مرض الموت میں عیادت کے لیے آنے والوں کے لیے منتخب کیا اور آپﷺ کی وفات انہی کے گھر میں ان کے دن میں ان کے سینے اور حلقوم کے درمیان ہوئی اور آخری لمحات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن ان کے لعاب دہن کے ساتھ اکٹھا ہوا اور انہی کا گھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدفن بنا، وغیرہ سب کچھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے باعث فخر و مباہات ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

صفحہ 4 از 7